ETV Bharat / jammu-and-kashmir
لداخ میں سیاحوں کا سیلاب، غیر ملکی سیاحوں کی تعداد ایک سال میں تقریباً دوگنی
جون میں لداخ آنے والے غیر ملکی سیاح تقریباً دگنے ہوگئے، جبکہ جموں و کشمیر میں پائیدار اور معیاری سیاحت پر زور دیا گیا۔

Published : July 9, 2026 at 3:37 PM IST
سرینگر: لداخ میں جون کے دوران سیاحوں کی آمد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں غیر ملکی سیاحوں کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہو گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ لداخ عالمی سیاحوں کے لیے تیزی سے ایک پسندیدہ مقام بنتا جا رہا ہے، جبکہ جموں و کشمیر میں حکومت سیاحوں کی صرف تعداد بڑھانے کے بجائے پائیدار اور معیاری سیاحت پر توجہ دے رہی ہے۔
لداخ انتظامیہ کے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 میں 6,680 غیر ملکی سیاح لداخ پہنچے، جبکہ جون 2025 میں یہ تعداد 3,349 تھی۔ اس طرح ایک سال میں 99.46 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو حالیہ برسوں کے مضبوط ترین ماہانہ اضافوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ لداخ کے بلند و بالا پہاڑ، مذہبی مقامات، ایڈونچر اسپورٹس اور ثقافتی تجربات دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔
مجموعی طور پر بھی سیاحوں کی آمد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جون 2026 میں 1,07,740 سیاح لداخ پہنچے، جبکہ جون 2025 میں یہ تعداد 75,089 تھی، یعنی 43.48 فیصد اضافہ ہوا۔ انتظامیہ کے مطابق سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران بھی یہی رجحان برقرار رہا۔ جنوری سے جون 2026 کے درمیان 2,25,286 سیاح لداخ آئے، جن میں 2,11,645 ملکی اور 13,641 غیر ملکی سیاح شامل تھے۔
غیر ملکی سیاحوں میں اسرائیل سرفہرست رہا، جبکہ اس کے بعد تھائی لینڈ، امریکہ، ویتنام، جرمنی، فرانس، برطانیہ، جاپان، ملائیشیا، آسٹریلیا، تائیوان، روس، اٹلی، جنوبی کوریا اور اسپین کے سیاحوں کی تعداد زیادہ رہی۔ یہ رجحان لداخ کی بڑھتی ہوئی عالمی شناخت کو ظاہر کرتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمار سکسینہ نے سیاحوں کی مسلسل بڑھتی تعداد کا سہرا انتظامیہ کی سیاحتی اصلاحات اور بنیادی ڈھانچے میں بہتری کو دیا۔ انہوں نے کہا کہ "سیاحت لداخ کی معیشت کا ایک مضبوط ستون ہے اور ہزاروں لوگوں کے روزگار کا اہم ذریعہ بھی۔ اس سال سیاحوں کی نمایاں بڑھوتری اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم لداخ کو سال بھر سیاحت کے لیے ایک بہترین مقام بنانے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ترقی کو ماحول دوست اور پائیدار بھی رکھا جا رہا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ اس اضافے سے ہوٹل مالکان، ہوم اسٹے چلانے والوں، ٹرانسپورٹروں، ٹریکنگ گائیڈز، دستکاروں اور مقامی کاروباری افراد کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انتظامیہ نے اس کامیابی کا ایک سبب وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ملکی سیاحت کے فروغ پر زور اور سڑکوں، فضائی رابطے اور سیاحتی بنیادی ڈھانچے میں مسلسل سرمایہ کاری کو بھی قرار دیا۔
حکام کے مطابق گزشتہ ایک سال میں کئی اہم اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کو صنعت کا درجہ دینا، ضابطہ جاتی کارروائیاں آسان بنانا، قانونی تقاضے کم کرنا، سیاحوں کے لیے سہولیات بہتر بنانا اور نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی شامل ہے۔
انتظامیہ نے صرف گرمیوں کے سیزن پر انحصار کم کرنے کے لیے ونٹر ٹورزم، وائلڈ لائف ٹورزم، ولیج ٹورزم، ویلنیس ٹورزم، ایسٹرو (فلکیاتی) ٹورزم، بلند و بالا پہاڑوں کی ٹریکنگ، ایڈونچر اسپورٹس کے فروغ کے ساتھ ساتھ مختلف کھیلوں کے مقابلوں اور ثقافتی میلوں کا بھی انعقاد شروع کیا ہے تاکہ سیاحتی سرگرمیاں سال بھر جاری رہ سکیں۔
یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جموں و کشمیر میں اپریل 2025 کے پہلگام دہشت گرد حملے کے باوجود سیاحوں کی مجموعی تعداد ملک میں سب سے زیادہ رہنے والوں میں شامل ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران جموں و کشمیر میں 7.85 کروڑ سے زیادہ سیاح آئے، جبکہ 2016 سے 2018 کے درمیان یہ تعداد تقریباً 4.76 کروڑ تھی۔ جموں و کشمیر کی مجموعی ریاستی معیشت (جی ایس ڈی پی) میں سیاحت کا حصہ تقریباً 7 فیصد ہے، جس سے یہ خطے کے اہم ترین معاشی شعبوں میں شمار ہوتی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں تقریباً 2.36 کروڑ جبکہ 2023 میں 2.11 کروڑ سیاح جموں و کشمیر آئے۔ اس دوران غیر ملکی سیاحوں کی تعداد بھی پہلے کے مقابلے میں تقریباً ڈھائی گنا بڑھ گئی۔
حکومت نے ایک جامع سیاحتی پالیسی بھی اختیار کی ہے، جس کے تحت پانچ برس میں ہر سال 2,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری لانے، ہر سال تقریباً 50 ہزار روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور دس برس میں 4 ہزار سیاحتی خدمات فراہم کرنے والوں کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس وقت جموں و کشمیر میں 1,989 رجسٹرڈ ہوم اسٹے موجود ہیں، جہاں 14,488 بستروں کی سہولت دستیاب ہے۔ دیگر شعبوں میں بھی ترقی دیکھی گئی ہے۔ گلمرگ گنڈولا میں 2024 کے دوران 7.68 لاکھ سے زائد افراد نے سفر کیا، جبکہ کشمیر میراتھن میں مختلف ممالک کے تقریباً 1,800 شرکاء نے حصہ لیا۔
مذہبی سیاحت بھی اب تک سیاحوں کی بڑی تعداد کا اہم ذریعہ بنی ہوئی ہے۔ 2024 میں شری ماتا ویشنو دیوی کے دربار پر 95.22 لاکھ سے زائد یاتری آئے، جبکہ 2023 میں یہ تعداد تقریباً 90 لاکھ تھی۔ اسی طرح گزشتہ سال امرناتھ یاترا میں 5.12 لاکھ سے زیادہ یاتری شریک ہوئے۔
تاہم مجموعی اضافے کے باوجود سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 22 اپریل 2025 کے پہلگام دہشت گرد حملے، جس میں 26 شہری اور ان میں زیادہ تر سیاح ہلاک ہوئے تھے، کے بعد وادی کشمیر میں سیاحت ابھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔
سال 2025 میں کشمیر ڈویژن میں سیاحوں کی تعداد کم ہو کر 47 لاکھ سے کچھ زیادہ رہی، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 98 لاکھ سے زائد تھی۔ اس کے باوجود 2023 سے 2025 کے دوران مجموعی آمد 2016 سے 2018 کے مقابلے میں کافی زیادہ رہی۔
دوسری جانب جموں خطے میں ترقی کا سلسلہ جاری رہا، جہاں 2023 سے 2025 کے دوران 5.43 کروڑ سے زیادہ سیاح آئے، جبکہ 2016 سے 2018 کے درمیان یہ تعداد 4.16 کروڑ تھی۔
ادھر، سیاحوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باوجود وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ صرف تعداد بڑھانے کے بجائے معیاری سیاحت پر توجہ دیں۔ بدھ کو سرینگر میں پائیدار سیاحت سے متعلق ایک کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو بتدریج زیادہ تعداد والے ماڈل سے نکل کر بہتر معیار اور زیادہ قدر والی سیاحت کی طرف بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا: "کیا ہم سو سیاحوں سے ایک ایک روپیہ کمانا چاہتے ہیں یا ایک سیاح سے سو روپے؟ اسی سوال کا جواب ہماری ماسٹر پلاننگ اور سیاحتی پالیسی کی بنیاد ہونا چاہیے۔"
عمر عبداللہ نے کہا کہ پائیداری کے بغیر سیاحت ایک مکمل تباہی ہے۔ انہوں نے سائنسی منصوبہ بندی، مضبوط ویسٹ مینجمنٹ، بہتر ٹریفک نظام اور ماسٹر پلان پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بے قابو تعمیرات، پانی کی قلت اور ماحولیات کی خرابی اگر نہ روکی گئی تو یہ مستقبل میں سیاحت کے شعبے کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہم لاس ویگاس یا دبئی نہیں ہیں۔ ہمارے پاس ہماری قدرتی خوبصورتی ہی سب سے بڑا سرمایہ ہے، اور ہمیں اسی کا ہر حال میں تحفظ کرنا ہوگا۔"
یہ بھی پڑھیں:

