ETV Bharat / jammu-and-kashmir
محکمہ فلوریکلچر نے تمام پارکوں اور باغات کی داخلہ فیس میں ترمیم کر دی، نئی شرحیں یکم مارچ سے لاگو
ٹیولپ گارڈن کے داخلے کےلیے بالغ افراد کو 100 روپے جبکہ 12 سال سے کم عمر بچوں کے لیے 50 روپے مقرر کئے گئے ہیں۔


Published : February 28, 2026 at 10:51 PM IST
اننت ناگ : محکمہ فلوریکلچر کشمیر کے زیرِ انتظام تمام پارکوں اور باغات(گارڈنز) کی داخلہ فیس میں ترمیم کر دی گئی ہے۔ محکمہ فلوریکلچر کشمیر کے ڈائریکٹر متھورا معصوم کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ محکمہ فلوریکلچر، گارڈنز اینڈ پارکس کے زیرِ انتظام تمام باغات اور پارکوں کی داخلہ فیس اور ٹکٹوں کی شرح میں نظرِ ثانی کی منظوری دی جاتی ہے۔
نظرِ ثانی شدہ فیس کے مطابق تمام پارکوں اور باغات (سوائے ٹیولپ گارڈن اور چلڈرنز پارک سری نگر) میں داخلے کے لیے بالغ افراد سے فی کس 50 روپے وصول کیے جائیں گے، جبکہ 12 سال سے کم عمر بچوں کے لیے 25 روپے فی کس فیس مقرر کی گئی ہے جبکہ اس سے قبل بالترتیب 30 اور 15 داخلہ فیس وصول کیا جاتا تھا ۔ چلڈرن پارک سرینگر کے داخلہ کے لئے بالغ و نابالغ فی کس 20 روپئے مقرر کئے گئے ہیں ۔نہرو میموریل باٹونیکل گارڈن میں داخل ہونے کے لئے بالغ 100 روپئے جبکہ بچوں کے لئے 50 روپئے وصول کئے جائیں گے ۔
ٹیولپ گارڈن کے داخلے کے لیے بالغ افراد کو 100 روپے فی کس جبکہ 12 سال سے کم عمر بچوں کے لیے 50 روپے مقرر کئے گئے ہیں۔اس سے قبل 75 اور 30 روپئے بالترتیب اینٹری فیس کے طور پر وصول کیا جاتا تھا۔ حکم نامے کے مطابق نئی فیس یکم مارچ 2026 سے نافذ العمل ہوگی۔ تاہم پہلے سے نجی ٹھیکے پر دیے گئے پارکوں اور باغات کے معاملے میں یہ نظرِ ثانی شدہ شرحیں نئے معاہدے کی منظوری یا موجودہ معاہدے میں توسیع کی تاریخ سے لاگو ہوں گی۔
واضح رہے کہ وادیٔ کشمیر میں موجود پارکوں اور باغات سے سالانہ کروڑوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ محکمہ سے وابستہ ایک افسر کے مطابق وادی میں تقریباً 25 کروڑ روپے سالانہ بطور داخلہ فیس جمع ہوتے ہیں، جبکہ ضلع اننت ناگ میں ہی تقریباً 6 کروڑ روپے سالانہ وصول کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پلوامہ میں 55 راشٹریہ ریفلز کے اشتراک سے شہید پون کمار کے نام پر کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد
اہم بات یہ ہے کہ داخلہ فیس سے حاصل ہونے والی رقم براہِ راست متعلقہ باغات یا پارکوں کی آرائش، تجدید یا مرمت پر خرچ نہیں کی جاتی، بلکہ یہ رقم سرکاری خزانے میں محصولات کے کھاتے میں جمع ہوتی ہے۔ باغات کی دیکھ بھال اور بہتری کے لیے علیحدہ طور پر رقوم فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ امر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اگرچہ پارک اور باغات نمایاں مالی ذریعہ ہیں، تاہم ان کی ترقی اور بحالی کے لیے ایک جداگانہ مالی نظام کارفرما ہے۔

