ETV Bharat / jammu-and-kashmir
این سی کی سی ڈبلیو سی میٹنگ: فاروق عبداللہ روح اللہ مہدی کے دفاع میں کھڑے ہو گئے
روح اللہ کو پارٹی امیدوار کی انتخابی مہم کا بائیکاٹ کرنے سمیت ان کی 'پارٹی مخالف' سرگرمیوں کے سبب اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا۔

Published : November 30, 2025 at 9:39 AM IST
سرینگر: نیشنل کانفرنس میں ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کرنے کے بارے میں اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا۔ مرکزی ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی میٹنگ میں رکن پارلیمنٹ پر ہونے والی تنقیدوں کے بیچ این سی کے صدر فاروق عبداللہ روح اللہ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔
این سی کی اعلیٰ فیصلہ ساز کمیٹی کا اجلاس دو دن (27-28 نومبر) تک چلا جس میں بڈگام اور نگروٹا میں انتخابی شکست کا جائزہ لینے کے علاوہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت، دوہری کنٹرول کے نظام اور منتخب حکومت کے دائرہ کار میں راج بھون کی مداخلت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ این سی صدر فاروق عبداللہ اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی زیر قیادت میٹنگ میں این سی کے ارکان اسمبلی اور آزاد وزیر ستیش شرما بطور خاص مدعو تھے۔
لیکن روح اللہ، جو سی ڈبلیو سی کے مستقل رکن ہیں، کو پارٹی امیدوار کی انتخابی مہم کا بائیکاٹ کرنے سمیت ان کی 'پارٹی مخالف' سرگرمیوں کی وجہ سے میٹنگ میں مدعو نہیں کیا گیا۔ انہوں نے پارٹی کے سامنے ریزرویشن معاملے کو حل کرنے کی شرط رکھی تھی۔ روح اللہ کے حامیوں نے بڈگام حلقے میں پی ڈی پی کی جیت پر کھل کر خوشی کا اظہار کیا۔ یہ سیٹ 1977 سے این سی کے پاس تھی۔
ایک ذریعہ نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ "کچھ لیڈر روح اللہ کی پارٹی مخالف سرگرمیوں کے خلاف تادیبی کارروائی چاہتے تھے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی ان کی سرگرمیوں سے مطمئن نہیں ہیں،" روح اللہ نے عمر کی زیرقیادت حکومت پر لوگوں سے کیے گئے انتخابی وعدے سے منہ موڑنے کا الزام لگایا اور حکومت کو گھیرنے کی کوشش میں بار بار بیانات جاری کیے۔
عمر نے میٹنگ ختم ہونے کے بعد میڈیا والوں کو بتایا کہ ''یہ کمیٹی ان لوگوں کے لیے ہے جو پارٹی ڈسپلن پر عمل کرتے ہیں اور پارٹی قیادت سے میڈیا کے ذریعے بات کرنا پسند نہیں کرتے۔‘‘
متعلقہ خبر: این سی ورکنگ کمیٹی نے کی سات قراردادیں منظور، ریاستی درجے کی فوری بحالی پر دیا زور
لیکن میٹنگ کے دوران فاروق عبداللہ نے کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ روح اللہ کے خلاف کارروائی کی مخالفت کی۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے سابق گورنر بی کے نہرو کی مثال دی۔ این سی صدر نے یاد دلایا کہ گورنر نے ان کی حکومت کو گرانے کے اقدامات کے باوجود پارٹی کے اندر بغاوت کرنے والے کچھ پارٹی لیڈروں کو نکالنے کے خلاف مشورہ دیا تھا۔
وہ سنہ 1984 کے تناظر میں بات کر رہے تھے جب نیشنل کانفرنس کو اندرونی بغاوت کا سامنا تھا کیونکہ کانگریس کی قیادت والی مرکزی حکومت نے فاروق عبد اللہ کو جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن گورنر نہرو نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ ان کی جگہ گورنر جگموہن ملہورتا کو لے آئے، جنہوں نے فاروق کی زیرقیادت حکومت کا تختہ الٹنے اور عبداللہ کے بہنوئی جی ایم شاہ کی قیادت میں حکومت تشکیل دینے کے عمل کی نگرانی کی۔
ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ میں فاروق عبد اللہ کے اس بیان کے بعد "صورت حال پرامن ہوگئی اور پارٹی صدر کی بات غالب آگئی۔" ۔ قبل ازیں فاروق عبد اللہ عبداللہ نے زونل کمیٹی کے اجلاس میں بھی کہا کہ پارٹی کے کچھ عہدیداروں کی جانب سے اس معاملے کو اٹھانے کے بعد بھی وہ کوئی کارروائی نہیں کریں گے اور نہ ہی روح اللہ کو پارٹی سے نکالیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آغا روح اللہ کے بغیر ہی این سی ورکنگ کمیٹی اجلاس کے پہلے دن کی کارروائی ختم
سی ڈبلیو سی میٹنگ میں بہت سے ارکان اسمبلی نے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے نئی دہلی میں احتجاج کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن اس پر اتفاق رائے کا فقدان تھا اور وزیر اعلیٰ بھی نئی دہلی کے ساتھ تصادم کا راستہ نہیں اپنانا چاہتے تھے کیونکہ "جموں و کشمیر ایک سرحدی ریاست ہے"۔
"اس کے بجائے ہم مرکز کے ساتھ ورکنگ ریلیشن قائم کریں گے۔ این سی بی جے پی کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی کیونکہ ہمارا ایجنڈا بی جے پی کے ساتھ میل نہیں کھاتا ہے اور نہ ہی ہم اپنے نظریے پر سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں۔ اتحاد ہمیں دفن کر سکتا ہے اور ووٹ بینک کو ضائع کر سکتا ہے۔" میٹنگ کے ایک سینئر لیڈر نے کہا۔
میٹنگ نے پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس سمیت تمام پلیٹ فارمز کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ریاست کا مسئلہ اپنے ممبران پارلیمنٹ کے ذریعے اٹھایا جا سکے۔
مزید پڑھیں:
این سی میں خلفشار؟ پارٹی ایم ایل اے نے ممبر پارلیمنٹ کے بیان کا کیا طنز
آغا روح اللہ مہدی کا عوامی مینڈیٹ اور حکومتی کارکردگی پر دو ٹوک بیان
ہماری لڑائی صرف جموں و کشمیر ریاست کیلئے نہیں بلکہ آئینی ضمانتوں کی بحالی کیلئے ہے :آغا روح اللہ
پہلگام حملے کے بعد کشمیریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے: ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ

