ETV Bharat / jammu-and-kashmir

اوڑی تک ریل خدمات پہنچنے سے بارڈر ٹورزم کو فروغ ملے گا: بی جے پی لیڈر میر مشتاق

میر مشتاق نے کہاکہ ریل لنک بننے سے مقامی آبادی کو کافی راحت ملنے کے ساتھ مقامی کاروباری کو بھی فائدہ ملے گا۔

بی جے پی کے سینئر لیڈر مرکزی حکومت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں پربات کی
بی جے پی کے سینئر لیڈر مرکزی حکومت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں پربات کی (ETV BHARAT)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : July 7, 2026 at 12:21 PM IST

2 Min Read
Choose ETV Bharat

بارہمولہ (کوثر عرفات): بی جے پی کے سینئر لیڈر میر مشتاق نے مرکزی سرکار کی تعریف کرتے ہوئے متعدد سرکاری اسکیموں سے متعلق اظہار خیال کیا۔اس موقعے پر انہوں نے خاص طور سے شمالی کشمیر میں چل رہے ٹرین پروجکٹ کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹرین خدمات کو بارہمولہ کے سرحدی قصبہ اوڑی تک پہنچانے کی کوشش شروع کر دی گئی ہیں اور اس ضمن میں اطلاعات کے مطابق مٹی کی جانچ کا کام شروع کیا گیا ہے۔

اوڑی تک ریل خدمات پہنچنے سے بارڈر ٹورزم کو فروغ ملے گا: بی جے پی لیڈر میر مشتاق (ETV BHARAT)


میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بی جے پی کے سینئر لیڈر میر مشتاق نے بتایا کہ اگرچہ جموں سے سرینگر اور سرینگر سے بارہمولہ تک ریل لنک ہونے سے عوام کو کافی سہولت ملی ہے لیکن اب جو پہل کی جا رہی ہے کہ وہ اوڑی کے دور افتادہ علاقہ کے عوام کیلئے بڑی خوشی کی بات ہے۔ میر مشتاق کے مطابق اس ریل لنک بننے سے مقامی آبادی کو کافی راحت ملی گی۔


انہوں نے کہا کہ جب یہاں اس علاقے میں ریل چلے گی تو بارڈر ٹورزم کو بھی کافی فروغ ملے گا کیونکہ یہ علاقہ قدرتی خوبصورتی سے مالامال ہے اور ملک کے کسی بھی کونے سے سیاح یہاں پر آسکیں گے۔ اس سے مقامی آبادی میں روزگار کے وسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

میر مشتاق نے مزید کہا کہ اوڑی میں مختلف اقسام کے اخروٹ کی پیداوار ہوتی ہے اور اکثر و بیشتر اس سے یہاں کے لوگ فائدہ نہیں اٹھا پاتے کیونکہ وقت پر وہ ملک کی دیگر ریاستوں میں نہیں پہنچ پاتا اور اگر ریل سروس میسر ہو گی تو اس سے ہمارے کسان کو بھی کافی منافع ہوگا او نقصان کے امکانات کم ہو جائیں گے۔

مزید پڑھیں: ڈوڈہ میں سیلاب سے بھاری تباہی، شہریوں نے نالوں میں ملبہ پھینکنے کے خلاف پہلے ہی خبردار کیا تھا، شکایتی خط منظرعام پر

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس وقت وادی کے ساتھ ساتھ اوڑی میں بھی کافی بے روزگاری ہے لیکن ہمارے پاس اپنے پاور پروجکٹ ہیں اور ہم سرکار سے گزارش کرتے ہیں کہ جو ہمارے مقامی نوجوان ہے ان کو نوکری دی جائے کیونکہ یہ ان کا حق ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ دیگر ریاستوں سے لوگ یہاں پر ان پروجکٹوں میں کام کریں اور ہمارے نوجوان کو نظر انداز کر دیا جائے۔