ETV Bharat / jammu-and-kashmir
ایکسپائر ڈی این ایس معاملہ اور مبینہ طبی لاپرواہی سے نوجوان کی موت کے بعد جی ایم سی اننت ناگ میں سنگین بدنظمی کا انکشاف
حکم نامے کے مطابق، کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ واقعہ سے جڑے تمام حقائق اور حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے۔

Published : April 23, 2026 at 10:17 PM IST
اننت ناگ: (میر اشفاق) گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) اننت ناگ میں گزشتہ دو ماہ کے دوران پیش آئے دو بڑے واقعات نے محکمہ صحت کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مارچ 2026 میں ایک نہایت تشویشناک واقعہ سامنے آیا، جس میں مریضوں کو ایکسپائر شدہ ڈی ایکسٹروز نارمل سالین (ڈی این ایس ) لگایا گیا۔ یہ انکشاف اس وقت ہوا جب مریضوں کے تیمارداروں نے بوتلوں پر درج تاریخ (مارچ 2025) دیکھی، جس سے معلوم ہوا کہ ڈی این ایس تقریباً ایک سال قبل ایکسپائر ہوا تھا۔
واقعے کے بعد جی ایم سی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسٹور کیپر، وارڈ کے انچارج فارماسسٹ اور ایک اسٹاف نرس کو معطل کر دیا۔ ان ملازمین کو میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر سے منسلک کر کے تحقیقات مکمل ہونے تک اسٹیشن چھوڑنے سے روک دیا گیا ہے۔
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ارشد حسن صدیقی کی جانب سے تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں سنگین بدانتظامی کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، متعلقہ عملے نے بنیادی حفاظتی اصول یعنی ادویات کی معیاد ختم ہونے کی تاریخ چیک کرنا یا نظر انداز کیا۔ اس کے علاوہ، پورے ہسپتال میں ادویات کے ذخیرے اور نظام کی جانچ کے لیے میڈیکل آڈٹ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب، مذکورہ ہسپتال میں حالیہ دنوں ایک اور افسوسناک واقعہ بھی پیش آیا، جہاں قاضی گنڈ سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان سڑک حادثے کے بعد مبینہ طور پر بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار گیا۔جس کے بعد اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ ایمرجنسی میں بروقت سینئر عملہ موجود نہیں تھا، جس کے باعث مریض کی حالت بگڑتی گئی۔عوامی دباؤ کے بعد اس معاملہ سے متعلق حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم جاری کیا ہے۔حکم نامہ کے مطابق، اس کمیٹی کو واقعہ کی مکمل اور تفصیلی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ کمیٹی میں مشن ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ مشن بطور چیئرپرسن، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر بطور ممبر اور چلڈرن ہسپتال بمنہ سرینگر کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ بطور ممبر شامل ہیں۔
حکم نامے کے مطابق، کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ واقعہ سے جڑے تمام حقائق اور حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے، اس بات کا تعین کرے کہ متعلقہ وقت میں جی ایم سی اننت ناگ میں عملہ مناسب مقدار میں موجود تھا یا نہیں، اور کسی بھی قسم کی غفلت، تیاری میں کمی یا طبی خدمات کی فراہمی میں کوتاہی کے ذمہ داران کا تعین کرے۔
اس کے علاوہ کمیٹی کو آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے اصلاحی اقدامات تجویز کرنے کی بھی ذمہ داری دی گئی ہے۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایک ہفتہ کے اندر اپنی تفصیلی رپورٹ، تمام دستاویزی شواہد کے ساتھ، متعلقہ انتظامی محکمہ کو پیش کرے۔
حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پرنسپل جی ایم سی اننت ناگ سمیت تمام متعلقہ افسران اور عملہ کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے اور مطلوبہ ریکارڈ اور دستاویزات فراہم کریں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جی ایم سی اننت ناگ میں پیش آئے حالیہ واقعات کے بعد عوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اسپتال میں رات کے اوقات میں سینئر ڈاکٹروں کی عدم موجودگی ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔ اگرچہ ڈیوٹی روسٹر میں سینئر ڈاکٹروں کے نام درج ہوتے ہیں، تاہم عملی طور پر وہ وارڈز میں موجود نہیں ہوتے، جس کے باعث مریضوں کا انحصار کم تجربہ کار جونیئر عملے پر رہتا ہے۔
ان تمام معاملات نے جی ایم سی اننت ناگ میں طبی نظام اور انتظامی نگرانی پر سخت سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ عوامی سطح پر جوابدہی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

