ETV Bharat / jammu-and-kashmir
وشوگرو کا خواب اور مذہبی تعصب ایک ساتھ نہیں چل سکتے: وزیر جاوید رانا
مسلم طلبہ کے داخلوں پر شروع ہوئے احتجاج، یونیورسٹی کی ڈی-رجسٹریشن کو جموں کشمیر کے وزیر جاوید رانا نے ’دقیانوسی سوچ‘ قرار دیا۔

Published : January 9, 2026 at 7:17 PM IST
سرینگر: جموں کشمیر نیشنل کانفرنس (این سی) کے سینئر لیڈر اور کابینہ وزیر، جاوید رانا، کا کہنا ہے کہ کسی خاص مذہب کے طلبہ کی وجہ سے ایک میڈیکل کالج ہی بند کرنا قدیم اسٹون ایج (دقیانوسی زمانے کی) سوچ کی علامت ہے۔ انہوں نے نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) کے حالیہ فیصلے پر سخت افسوس ظاہر کیا جس کے تحت جموں کشمیر کے ضلع ریاسی میں ویشنو دیوی میڈیکل کالج کا ایم بی بی ایس کورس ہی بند کر دیا گیا۔
ای ٹی وی بھارت کے نمائندے معظم محمد کے ساتھ ایک خاص انٹرویو میں جل شکتی، ماحولیات، قبائلی امور اور جنگلات کے وزیر جاوید رانا نے کہا: ’’اگر ملک میں ایسی سوچ کو بڑھاوا دیا گیا تو بھارت ’وشو گرو‘ (Vishwaguru) بننے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔‘‘
انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی این ڈی اے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ’’ملک کی قیادت، قوم کو ایک ہزار سال پیچھے دھکیلنا چاہتی ہے، جبکہ ترقی یافتہ ملک اگلے ایک ہزار سال کا منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے اپنے سیاسی کیریر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’’ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ایک اہم ادارہ اس لیے بند کیا گیا کیونکہ وہاں ایک خاص مذہب کے طلبہ کو داخلہ دیا گیا۔‘‘ انہوں نے انتباہ کیا کہ ایسے فیصلوں سے ملک کا اتحاد، خودمختاری اور عالمی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔
شری ماتا ویشنو دیوی کالج میں پہلے ایم بی بی ایس بیچ میں مسلم طلبہ کے داخلوں پر جموں میں احتجاج شروع ہوا اور دایاں بازو جماعتوں نے ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی کے نام سے نومبر 2025 میں ایک پلیٹ فارم قائم کرکے منظم احتجاج شروع کیا اور مطالبہ کیا کہ 42 کشمیری مسلم طلبہ کو دوسرے کالجوں میں بھیجا جائے۔ ان طلبہ کا تقریباً تین ماہ قبل میرٹ پر نیٹ امتحان پاس کرکے ویشنو دیوی کالج میں داخلہ ہوا تھا۔
سمیتی کا کہنا تھا کہ شری ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کا چندہ صرف ہندو یاتری دیتے ہیں، اس لیے کالج کے کسی بھی شعبے سے صرف ہندو ہی مستفید ہونے چاہئیں۔ لیکن شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس اقلیتی ادارہ نہیں ہے اور اسے جموں کشمیر حکومت سے گرانٹ بھی ملتی ہے (قریب 50 کروڑ روپے گزشتہ دو سال میں)، اس وجہ سے مذہب کی بنیاد پر داخلہ ممکن نہیں ہے۔
سنگھرش سمیتی کی جانب ڈیڑھ ماہ کے احتجاج کے بعد 6 جنوری 2026 کو این ایم سی کے میڈیکل اسیسمنٹ اینڈ ریٹنگ بورڈ نے 50 سیٹوں والے ایم بی بی ایس کورس کے لیے اجازت نامہ ہی واپس لے لیا، جو 2025-26 کے لیے یونیورسٹی کو دیا گیا تھا۔
ای ٹی وی بھارت کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران وزیر جاوید رانا نے طنزیہ انداز میں کہا: ’’جہاں ڈاکٹر بنانے ہیں، وہاں دنگل نہیں ہونا چاہیے۔ ادارے کا مقصد اچھے ڈاکٹر اور انجینئر تیار کرنا ہے نہ کہ کشتی کرنے والے پہلوان۔‘‘ رانا کے مطابق ’’اگر مقصد ایسے لوگ بنانا ہے جو ملک میں تشدد برپا کریں یا لنچنگ کریں، تو یہ سماج کے لیے نقصان دہ ہے۔‘‘
جموں کشمیر کے ہندو مسلم بھائی چارے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر نے کہا: ’’میڈیکل کالج کی بندش سے جموں کشمیر میں گنگا جمنی تہذیب کو زک پہنچا ہے اور لوگ اس فیصلے سے سخت ناراض ہیں۔‘‘ انہوں نے کسی بھی تنظیم یا پلیٹ فارم کا نام لیے بغیر کہا: ’’کچھ تنظیموں سے وابستہ لوگ مذہبی اور علاقائی تقسیم کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔‘‘
وزیر نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کو حالات خراب ہونے سے پہلے ہی وعدے پورے کرنے چاہئیں اور جموں کشمیر کے لوگوں کو ریاست کا درجہ، خاص اختیارات اور امن و قانون کا کنٹرول واپس دینا چاہیے تاکہ ایسے حالات نہ بنیں جو ملک کے اتحاد کو چیلنج کریں۔ انہوں نے کہا:ـ ’’بی جے پی کے کچھ لیڈروں کا جموں کو الگ ریاست بنانے کا مطالبہ افسوسناک ہے۔‘‘ ان کے مطابق ’’پیر پنجال، چناب علاقے کبھی اس مطالبے کی حمایت نہیں کریں گے۔‘‘
انہوں نے بعض میڈیا اداروں، جسے وہ گودی میڈیا کہتے ہیں، کی سخت تنقید کی جو جموں کے علیحدہ ریاستی درجے کی حمایت کر رہے ہیں۔ رانا کے مطابق ’’پہلے یہ بتایا جائے کہ پچھلی تقسیم (لداخ کو الگ کیے جانے) سے کیا ملا؟‘‘ انہوں نے دربار مو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسے جموں کشمیر کی منتخب حکومت نے بحال کیا کیونکہ ’’جموں چار سال سے پیچھے رہ گیا تھا، لیکن الگ ریاست کے لیے وسائل کہاں ہیں؟‘‘
ریزرویشن معاملے پر انہوں نے کہا کہ ’’جموں کشمیر حکومت نے پالیسی سب کی اطمینان کے مطابق بہتر بنائی ہے اور فائل لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہے، امید ہے جلد منظوری دیں گے۔
فارسٹ رائٹس ایکٹ (ایف آر اے) کے تحت دعوؤں پر انہوں نے کہا کہ ’’اب قبائلی محکمہ اس کا نوڈل ڈیپارٹمنٹ ہوگا، اور بلاک و ضلع سطح پر سیل بنائے جا رہے ہیں تاکہ کیس آسانی سے حل ہوں۔‘‘ انہوں نے یہ ذمہ داری قبائلی محکمہ کو دئے جانے پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی تعریف کی۔
یہ بھی پڑھیں:

