ETV Bharat / jammu-and-kashmir

خراب گوشت اسکینڈل کے اثرات برقرار: خلاف ورزی کرنے والوں کے لائسنس معطل، لیبارٹریوں میں توسیع تاحال نہ ہوسکی

کارروائیوں کے دوران 11 ہزار کلوگرام سے زائد درآمد شدہ منجمد، خراب اور بغیر لیبل کے گوشت اور ڈریسڈ چکن ضبط کیا گیا تھا۔

خراب گوشت اسکینڈل کے اثرات برقرار
خراب گوشت اسکینڈل کے اثرات برقرار (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : August 25, 2026 at 6:42 PM IST

|

Updated : August 25, 2026 at 6:55 PM IST

7 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر : جموں و کشمیر میں گزشتہ سال درآمد شدہ خراب گوشت اور ڈریسڈ چکن کے بڑے اسکینڈل کے ایک سال بعد بھی فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے متعدد فوڈ بزنس آپریٹرز کے لائسنس معطل ہیں، جبکہ متعلقہ مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ حکام کے مطابق بعض کولڈ اسٹوریج یونٹس کو نئے لائسنس جاری کیے گئے ہیں، تاہم فوڈ ٹیسٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کا مسئلہ اب بھی برقرار ہے۔

خراب گوشت اسکینڈل کے اثرات برقرار (ETV Bharat)

کشمیر کے ڈپٹی کمشنر فوڈ سیفٹی ہلال میر نے بتایا کہ گزشتہ سال شروع کی گئی خصوصی مہم کے نتیجے میں گوشت کی تجارت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ان کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں پر مجموعی طور پر 26 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ ان کے لائسنس اب بھی معطل ہیں۔ محکمہ نے کچھ کولڈ اسٹوریج یونٹس کو نئے لائسنس بھی جاری کیے ہیں۔ یہ معاملہ گزشتہ سال اگست میں اس وقت سامنے آیا تھا جب فوڈ سیفٹی محکمہ نے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں تاجروں کے خلاف چھاپہ مار کارروائیاں اور معائنے کیے۔

ان کارروائیوں کے دوران 11 ہزار کلوگرام سے زائد درآمد شدہ منجمد، خراب اور بغیر لیبل کے گوشت اور ڈریسڈ چکن ضبط کیا گیا تھا۔ محکمہ کی تفصیلی تحقیقات کے مطابق سری نگر اور وادی کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے چھ تاجروں نے دہلی اور دیگر ریاستوں کی منڈیوں سے منجمد گوشت اور چکن درآمد کیا تھا۔ فوڈ سیفٹی محکمہ نے معاملے میں نو فوڈ بزنس آپریٹرز کے لائسنس معطل کیے اور ان پر جرمانے عائد کیے، جبکہ جموں و کشمیر پولیس نے فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے درآمد شدہ گوشت فروخت کرنے کے الزام میں دو تاجروں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے۔

خراب گوشت کی درآمد اور اس کی مبینہ فروخت کے معاملے نے کشمیر کی ہوٹل اور ریسٹورنٹ صنعت کو بھی شدید متاثر کیا تھا۔ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد کئی ماہ تک صارفین نے ریسٹورنٹس میں جانے اور باہر سے گوشت اور چکن کی مصنوعات خریدنے سے گریز کیا، جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیوں پر بھی اثر پڑا۔ ہلال میر کے مطابق معاملے کو ان ریاستوں کے متعلقہ حکام کے ساتھ بھی اٹھایا گیا جہاں سے گوشت لایا گیا تھا اور جہاں سے اس کی سپلائی ہوئی تھی۔ بعض نمونے جانچ کے دوران انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ پائے گئے، جس کے بعد متعلقہ معاملات قانونی کارروائی کے لیے بھیج دیے گئے۔

ان کے مطابق ان مقدمات کی کارروائی متعلقہ عدالتوں میں جاری ہے۔ فوڈ سیفٹی محکمہ نے گوشت کے تاجروں اور متعلقہ کاروباری اداروں کو مکمل کولڈ چین برقرار رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ حکام کے مطابق منجمد گوشت کو پروسیسنگ یونٹ سے لے کر آخری صارف تک منفی 18 ڈگری سیلسیس کے درجہ حرارت پر محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ ہلال میر نے کہا کہ بازاروں کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے اور گزشتہ سال شروع کی گئی کارروائیاں بند نہیں ہوئی ہیں بلکہ محکمہ کی مہمات بدستور جاری ہیں۔

ہلال میر نے کہا کہ فوڈ سیفٹی صرف حکومت یا محکمہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ صارفین کو بھی اس معاملے میں محتاط رہنا چاہیے۔ اگر کسی صارف کو کسی کھانے کی چیز کے غیر محفوظ یا مشتبہ ہونے کا خدشہ ہو تو وہ محکمہ فوڈ سیفٹی کو شکایت درج کراسکتا ہے۔ خراب گوشت کے اسکینڈل نے جموں و کشمیر میں فوڈ سیفٹی کے بنیادی ڈھانچے، خصوصاً غذائی اشیا کی جانچ کے لیے دستیاب لیبارٹریوں اور افرادی قوت کی کمی کو بھی نمایاں کیا تھا۔

فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن جموں و کشمیر (ایف ڈی اے ۔ جے کے) نے مزید 10 فوڈ سیفٹی آن وہیلز یعنی موبائل فوڈ ٹیسٹنگ یونٹس حاصل کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس وقت 20 اضلاع کے لیے 12 موبائل یونٹس کام کر رہے ہیں۔ محکمہ نے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا کے کوالٹی ایشورنس ڈویژن، نئی دہلی سے دو مزید فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریاں قائم کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔ ان میں ایک اننت ناگ اور دوسری کٹھوعہ-سانبہ میں قائم کرنے کی تجویز ہے۔

فی الحال جموں و کشمیر میں صرف دو فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریاں ہیں، ایک سری نگر اور دوسری جموں میں۔ ضرورت پڑنے پر فوڈ سیمپلز بیرونِ ریاست رجسٹرڈ لیبارٹریوں کو بھی بھیجے جاتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے موجودہ لیبارٹریوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور دیگر اضلاع میں بھی ٹیسٹنگ سہولت کو وسعت دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں زیادہ سے زیادہ غذائی نمونوں کی جانچ جموں و کشمیر کے اندر ہی کی جاسکے۔

محکمہ کو افرادی قوت کی کمی کا بھی سامنا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق فوڈ سیفٹی افسران کی 40 آسامیاں خالی ہیں، جبکہ ضلع اور ڈویژن کی سطح پر افسران کی 10 آسامیاں بھی پُر نہیں کی جاسکی ہیں۔ حکام کے مطابق افرادی قوت اور لیبارٹری سہولیات میں اضافہ ہونے سے بازاروں کی نگرانی، نمونوں کے حصول اور کھانے پینے کی اشیا کی بروقت جانچ کو مزید مؤثر بنایا جاسکے گا۔

فوڈ سیفٹی محکمہ نے حال ہی میں ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر فوڈ بزنس آپریٹرز کے لیے ایک اہم ہدایت جاری کی ہے۔ انہیں اپنی تیار کردہ کھانے کی اشیا میں استعمال ہونے والے گوشت کی مخصوص قسم واضح طور پر ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد صارفین کو درست معلومات فراہم کرنا اور کھانے کی اشیا کے بارے میں گمراہ کن نمائندگی کو روکنا ہے۔

ہلال میر نے کہا کہ گوشت کی قسم کی واضح نشاندہی حفظانِ صحت کے اعتبار سے بھی اہم ہے، کیونکہ اس سے صارفین کو معلوم ہوسکتا ہے کہ کھانا تیار کرنے میں کون سے اجزا استعمال کیے گئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس سلسلے میں خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ اگر فوڈ سیفٹی افسران کو سنگین خلاف ورزی کا پتہ چلتا ہے تو محکمہ متعلقہ ادارے کا لائسنس معطل کرنے یا فوڈ آؤٹ لیٹ کے خلاف پابندی کا حکم جاری کرنے کی کارروائی بھی کرسکتا ہے۔

فوڈ سیفٹی حکام کے مطابق پیک شدہ دودھ اور پینے کے پانی کی تیاری کرنے والے پلانٹس کا بھی باقاعدگی سے معائنہ کیا جارہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صارفین کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کو نظرانداز نہیں کیا جاتا بلکہ ان کی مناسب تحقیقات کے بعد ضروری کارروائی کی جاتی ہے۔ ایک سال بعد بھی خراب گوشت اسکینڈل نے یہ سوال برقرار رکھا ہے کہ جموں و کشمیر میں فوڈ سیفٹی کے نظام کو کس حد تک جدید اور مؤثر بنایا جاسکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: علیحدگی پسند رہنما شبیر شاہ کو غیر ضروری ہتھکڑی نہ لگائی جائے: خصوصی این آئی اے عدالت

اگرچہ محکمہ کی جانب سے نگرانی، لائسنسنگ اور کارروائی کا سلسلہ جاری ہے، تاہم ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کی محدود تعداد اور افرادی قوت کی کمی اب بھی ایک اہم چیلنج ہے۔ حکام کے مطابق مستقبل میں ہر ضلع تک موبائل ٹیسٹنگ سہولت پہنچانے اور مقامی سطح پر فوڈ سیمپلز کی جانچ کا نظام مضبوط بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

Last Updated : August 25, 2026 at 6:55 PM IST