ETV Bharat / jammu-and-kashmir
کشمیر میں آلو بخارے کی فصل وقت سے پہلے پک کر تیار، موسمیاتی تبدیلی کا اثر، تاہم کسانوں کو اچھی قیمت ملنے کی امید
موسمی تبدیلیاں کشمیرکی باغبانی پر گہرے اثرات مرتب کررہی ہیں۔ یہی وجہ ہے آلو بخارے کی فصل اس سال وقت سےپہلے پک کر تیار ہے۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : July 1, 2026 at 2:26 PM IST
|Updated : July 1, 2026 at 4:03 PM IST
پلوامہ (سید عادل مشتاق): وادی کشمیر میں موسمی تبدیلیوں کے باعث جہاں مختلف پھلوں کی فصلیں معمول سے پہلے تیار ہو رہی ہیں، وہیں آلو بخارے کی فصل بھی اس سال روایتی وقت سے پہلے پک کر تیار ہوگئی ہے۔ جون کے آخری ہفتے سے ہی آلو بخارے کی اترائی کا عمل شروع ہو چکا ہے، جبکہ ماضی میں عموماً اس کی اترائی جولائی اور اگست کے مہینوں میں ہوا کرتی تھی۔
جموں و کشمیر ملک کے اہم آلو بخارہ پیدا کرنے والے خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران جموں و کشمیر میں تقریباً 18,962 میٹرک ٹن آلو بخارہ پیدا ہوا۔ وادی کشمیر اس مجموعی پیداوار میں نمایاں حصہ رکھتی ہے، جہاں سرخ، سلور اور دیگر اقسام کے آلو بخارے بڑی مقدار میں کاشت کیے جاتے ہیں۔ یہاں سے یہ پھل دہلی، پنجاب اور ملک کی دیگر بڑی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
ضلع پلوامہ وادی کے اہم آلو بخارہ پیدا کرنے والے اضلاع میں شامل ہے، جہاں تقریباً 1,500 ہیکٹر رقبے پر آلو بخارے کی کاشت کی جاتی ہے اور سالانہ قریب 9 ہزار ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ ضلع کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں کسان اس باغبانی سے وابستہ ہیں اور اسے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ تصور کرتے ہیں۔

اگرچہ رواں سال مجموعی طور پر فصل کو بہتر قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ضلع بڈگام سے متصل علاقوں کے ساتھ ساتھ ضلع پلوامہ کے کئی مقامات پر حالیہ ژالہ باری نے پھل کو نقصان پہنچایا ہے۔ کسانوں کے مطابق ژالہ باری کے باعث پھل کے معیار اور مقدار دونوں پر اثر پڑا، جس کے نتیجے میں اس سال پیداوار میں کچھ کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
دوسری جانب مارکیٹ میں آلو بخارے کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر کئی کسان بہتر دام حاصل کرنے کی امید میں اپنی پیداوار کو کنٹرولڈ ایٹماسفیئر (سی اے) اسٹورز میں محفوظ کر رہے ہیں تاکہ مناسب وقت پر بہتر قیمت پر فروخت کیا جا سکے۔

ایک مقامی کسان نے بتایا،“رواں سال آلو بخارے کی فصل مجموعی طور پر اچھی رہی ہے اور قیمتوں میں بھی گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ پہلے ہم زیادہ تر سبزیوں اور سیب کی کاشت کرتے تھے، لیکن گزشتہ چند برسوں سے آلو بخارے کی کاشت بھی شروع کی ہے، جو ہمارے لیے منافع بخش ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ گزشتہ چار برسوں سے آلو بخارے کی کاشت سے وابستہ ہیں اور اس شعبے سے مطمئن ہیں، تاہم بہتر کولڈ چین اور نقل و حمل کی سہولیات فراہم کی جائیں تو کسانوں کو مزید فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

اس حوالے سے محکمہ باغبانی کے عہدیدار شکیل رحمان نے بتایا کہ ضلع پلوامہ میں اس وقت آلو بخارے کی اترائی زور و شور سے جاری ہے اور مجموعی طور پر فصل کافی اچھی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع بڈگام سے ملحقہ بعض علاقوں میں ژالہ باری ضرور ہوئی، تاہم ضلع کے بیشتر علاقوں میں پھل محفوظ رہا اور کسانوں کو اچھی پیداوار کی امید ہے۔
ماہرین کے مطابق موسمی تبدیلیاں کشمیر کی باغبانی پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ اگرچہ بعض فصلیں وقت سے پہلے تیار ہو رہی ہیں، لیکن غیر متوقع موسمی حالات، خاص طور پر ژالہ باری اور بے وقت بارشیں، کسانوں کے لیے مسلسل چیلنج بنی ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:

