ETV Bharat / jammu-and-kashmir
پابندی ہٹنے کے بعد بڈگام کے دودھ پتھری اور یوسمرگ سیاحوں کے لیے دوبارہ کھل گئے
جموں و کشمیر کے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا نے ایکس پر لکھا کہ سیاحتی مقام دودھ پتھری کو سیاحوں کیلئے کھول دیا گیا ہے۔

Published : February 18, 2026 at 8:04 AM IST
|Updated : February 18, 2026 at 7:34 PM IST
بڈگام(محمد عارف وانی): وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں مشہور سیاحتی مقام دودھ پتھری کو مسلسل دس ماہ تک بند رکھنے کے بعد آج سیاحوں اور عوام کے لیے کھولا گیا۔ اس بات کا اعلان کل ایل جی منوج سنہا نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (X) پر ٹویٹ کر کے کیا۔ جس کے بعد آج دودھ پتھری میں دوبارہ سیاحوں کی گہما گہمی دیکھنے کو ملی۔
اپنے ٹویٹ میں آفس آف لیفٹیننٹ گورنر جموں و کشمیر نے اعلان کیا کہ کشمیر اور جموں ڈویژن کے متعدد سیاحتی مقامات کو فوری طور پر دوبارہ کھول دیا جا رہا ہے۔
اس کے تحت کشمیر ڈویژن میں جن 11 سیاحتی مقامات کو فوری طور پر کھولا جا رہا ہے اُن میں یوسمرگ، دودھ پتھری (ضلع بڈگام)، ڈنڈی پورہ پارک (کوکرناگ)، پیر کی گلی، ڈوبجن اور پڈپاون (ضلع شوپیاں)، آستان پورہ، ٹیولپ گارڈن (سری نگر)، تھجواس گلیشیئر، ہنگ پارک (گاندربل) اور ولر/وٹلب (بارہمولہ) شامل ہیں۔
اسی طرح جموں ڈویژن کے تین سیاحتی مقامات دیوی پنڈی (ریاسی)، ماہو منگت (رام بن) اور مغل میدان (کشتواڑ) کو بھی فوری طور پر کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ مزید برآں کشمیر ڈویژن کے تین مقامات گریز، اتھواتو اور بنگس جبکہ جموں ڈویژن میں رام کنڈ کو برف صاف ہونے کے بعد سیاحوں کے لیے دوبارہ کھولا جائے گا۔
لیفٹیننٹ گورنر آفس کے مطابق سیاحت کے فروغ اور مقامی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔ انتظامیہ نے متعلقہ اضلاع کو ہدایت دی ہے کہ سیاحوں کے لیے تمام ضروری سہولیات اور حفاظتی انتظامات یقینی بنایا جائے۔
مقامی تاجروں، ہوٹل مالکان اور ٹیکسی آپریٹروں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاحتی مقامات کی دوبارہ بحالی سے کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔ انتظامیہ کی جانب سے سیاحوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مقامی ہدایات اور حفاظتی اصولوں پر عمل کریں تاکہ خوشگوار اور محفوظ ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
واضح رہے کہ حکومت سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے تاکہ جموں و کشمیر کی معیشت کو مستحکم بنایا جارہا ہے۔
ای ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے ایک سیاح نے کہا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ انہیں دودھ پتھری جیسے خوبصورت مقام کی سیر کا موقع ملا۔ ان کے مطابق یہاں کا منظر انتہائی دلکش اور چمکتی برف آنکھوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کے دیگر سیاحتی مقامات کی بھی سیر ہم نے کی، تاہم دودھ پتھری کا حسن سب سے منفرد اور مختلف ہے۔
کیریلا سے آئے سیاح نے بتایا کہ ان کا آج واپسی کا پروگرام تھا، لیکن لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے کل شام کو مختلف سیاحتی مقامات دوبارہ کھولنے کے اعلان جس میں دودھ پتھری بھی شامل ہے اس کے بعد انہوں نے اپنی ٹکٹیں منسوخ کر کے ایک دن کے لیے اپنا پیکیج بڑھا دیا تاکہ دودھ پتھری کی قدرتی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں آنا واقعی ایک بہترین فیصلہ ثابت ہوا۔
اسی دوران ایک اور سیاح نے کشمیر کی سر زمین کو ’’ جنت بے نظیر ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے تمام لوگوں کو وادی کی سیر ضرور کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق کشمیر کے لوگ نہایت مددگار اور ایماندار ہیں، جو سیاحوں کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہیں۔
جے پور سے تعلق رکھنے والے ایک سیاح نے اپنے پیغام میں کہا کہ اگر ملک کے لوگ کشمیر کی سیر نہیں کرتے تو یہ ان کا نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار ضرور آئیں اور پھر خود فیصلہ کریں کہ وادی کی خوبصورتی کس قدر بے مثال ہے اور یہاں کسی طرح کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔
مقامی لوگوں نے بھی اس موقع پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایل جی منوج سنہا، سی ایم عمر عبداللہ، ڈی سی بڈگام، ایس ایس پی بڈگام کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ضلع بڈگام کے لوگوں کو دودھ پتھری اور یوسمرگ کو دوبارہ دس ماہ کے بعد سیاحوں کے لئے کھول دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خراب پہلگام عملے کے بعد جب دودھ پتھری کو بند کر دیا گیا تو ہم فاقہ کشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ اب ہماری تمام بھارت کے عوام سے اپیل کرتے ہیکہ وہ آئے اور ہمیں اپنی مہمان نوازی کا موقع دے۔
واضح رہے کہ پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد تمام سیاحتی مقامات کو ملکی ؤ غیر ملکی سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا تھا اور مقامی آبادی کو بھی ان مقامات پر جانے سے روکا گیا تھا پھر پہلے مرحلے میں گلمرگ، پہلگام اور سونمرگ کو کھولا گیا۔ جس کے بعد دوسرے مرحلے میں مزید مقامات کو یو ٹی میں کھولا گیا اور اب آج متعدد سیاحتی مقامات کو کھولا گیا ہے جو کہ ایک خوش آئند فیصلہ ہے اور اس سے منسلک روزی روٹی کمانے والے خوش نظر آ رہے ہیں۔

