ETV Bharat / jammu-and-kashmir
جموں و کشمیر کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنا دو قومی نظریہ کی توثیق ہوگا: محبوبہ مفتی
محبوبہ مفتی نے کہا کہ میڈیکل کالج کی ڈی ریکگنیشن کے گرد پیش آنے والے واقعات کا سلسلہ سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔

Published : January 9, 2026 at 8:28 PM IST
سری نگر : پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز کہا کہ شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی بندش بظاہر پہلے سے طے شدہ معلوم ہوتی ہے، اور خبردار کیا کہ اس فیصلے نے ایک خطرناک مثال قائم کی ہے جس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ میڈیکل کالج کی ڈی ریکگنیشن کے گرد پیش آنے والے واقعات کا سلسلہ سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے کہا، “ایک شام عمر عبداللہ نے کہا کہ کالج بند ہونا چاہیے، اور اگلے ہی دن اسے بند کر دیا گیا۔ یہ محض اتفاق نہیں لگتا۔” ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات خوف اور غیر یقینی کی فضا پیدا کرتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس فیصلے سے ملک کے دیگر حصوں میں انتہاپسند عناصر کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ کل کو کوئی دائیں بازو کی تنظیم ملک کے کسی بھی حصے میں احتجاج کر کے کشمیر سے مسلم طلبہ کو نکالنے کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ “یہ ایک روایت بن جائے گی۔ جموں و کشمیر کو ایک تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اور جو کچھ یہاں آزمایا جاتا ہے وہ بعد میں ملک کے دوسرے حصوں میں دہرایا جاتا ہے-”
انہوں نے کہاکہ مرکزی ایجنسیوں کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی چھاپہ مار کارروائیاں پہلے کشمیر میں تیز کی گئیں اور بعد میں پورے ملک میں پھیل گئیں۔ مغربی بنگال میں حالیہ پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اس دباؤ کے خلاف ڈٹی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا، “ممتا بنرجی ایک شیردل خاتون ہیں اور ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہیں۔”
محبوبہ مفتی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ جموں میں جان بوجھ کر لوگوں کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جموں و کشمیر کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا تو یہ محمد علی جناح کے پیش کردہ دو قومی نظریے کی عملی توثیق ہوگی۔ انہوں نے کہا، “ہماری قیادت نے دو قومی نظریے کو مسترد کیا تھا کیونکہ ہمارا یقین گاندھی کے بھارت پر تھا۔ اگر آج ہم ریاستوں کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے لگیں تو اس کا مطلب ہوگا کہ جناح درست تھے۔”
یہ بھی پڑھیں: ترقی کے نام پر روزگار چھینا جا رہا ہے، این سی خاموش کیوں؟ محبوبہ مفتی
انہوں نے قیادت سے اپیل کی کہ وہ خود احتسابی کرے اور ایسے فیصلوں سے گریز کرے جو سماجی تقسیم کو گہرا کریں اور ملک کی تکثیری بنیادوں کو کمزور کریں۔

