ETV Bharat / jammu-and-kashmir
کمیٹی کی سفارش کے باوجود ایم بی بی ایس انٹرنز کے اسٹائپنڈ میں اضافہ نہیں، حکومت سے فوری عمل درآمد کا مطالبہ
اس وقت جموں و کشمیر کے سرکاری میڈیکل کالجوں میں ایم بی بی ایس انٹرنز کو تقریباً 12,300 روپے ماہانہ اسٹائپنڈ دیا جا رہا ہے۔

Published : August 27, 2026 at 8:55 PM IST
اننت ناگ: (میر اشفاق) جموں و کشمیر میں ایم بی بی ایس انٹرنز نے اپنے ماہانہ اسٹائپنڈ میں فوری اضافے کے مطالبے کو ایک بار پھر زور دیا ہے۔ انٹرنز کا کہنا ہے کہ ان کا اسٹائپنڈ گزشتہ سات برس سے زائد عرصے سے تبدیل نہیں ہوا، حالانکہ اس دوران حکومت نے خود معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی، کمیٹی نے اسٹائپنڈ میں اضافے کی سفارش کی، طلبہ نے بارہا حکومت کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں اور معاملہ جموں و کشمیر اسمبلی میں بھی اٹھایا گیا، تاہم سفارش کے باوجود اب تک اس پر حتمی عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔
جموں کشمیر میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (جے کے ایم ایس اے) کے میڈیا کوآرڈینیٹر اور ایگزیکٹو ممبر ڈاکٹر محمد عاقب جاوید نے ای ٹی وی بھارت کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جموں و کشمیر کے سرکاری میڈیکل کالجوں میں ایم بی بی ایس انٹرنز کو تقریباً 12,300 روپے ماہانہ اسٹائپنڈ دیا جا رہا ہے۔ اس اسٹائپنڈ میں آخری مرتبہ جنوری 2019 میں اضافہ کیا گیا تھا، جب جموں و کشمیر حکومت نے گورنمنٹ آرڈر نمبر 80-HME آف 2019 کے تحت اسے 4,800 روپے سے بڑھا کر 12,300 روپے ماہانہ کر دیا تھا۔
تاہم اس کے بعد گزشتہ سات برس سے زائد عرصے میں اسٹائپنڈ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ اس دوران رہائش، خوراک، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور دیگر ضروری اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ اس دیرینہ مطالبے کے پیش نظر محکمہ صحت و طبی تعلیم نے 27 جون 2023 کو گورنمنٹ آرڈر نمبر 538-JK(HME) آف 2023 کے تحت ایک کمیٹی تشکیل دی، جسے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کے اسٹائپنڈ میں اضافے کے معاملے کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
کمیٹی نے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد اسٹائپنڈ میں اضافے کی سفارش کی۔ بعد ازاں جموں و کشمیر حکومت نے قانون ساز اسمبلی میں اپنے جواب میں اعتراف کیا کہ کمیٹی نے انٹرنز کا ماہانہ اسٹائپنڈ بڑھا کر 25 ہزار روپے کرنے کی سفارش کی ہے۔ اگرچہ بعض ابتدائی رپورٹس اور نمائندگیوں میں 26,350 روپے کی رقم کا ذکر کیا گیا تھا، تاہم بعد میں حکومت کی جانب سے اسمبلی میں دیے گئے جواب میں 25 ہزار روپے ماہانہ کی سفارش کا ذکر کیا گیا۔
کمیٹی کی سفارش کے بعد معاملہ محکمہ صحت و طبی تعلیم کی جانب سے پروسیس کیا گیا اور ضروری منظوری کے لیے محکمہ خزانہ کو بھیجا گیا۔ تاہم مالی اور انتظامی نوعیت کے بعض سوالات، اضافی معلومات اور وضاحتوں کے باعث یہ معاملہ طویل عرصے تک زیر التوا رہا۔ متعلقہ سرکاری میڈیکل کالجوں سے بھی معلومات طلب کی گئیں اور بعد میں فائل کو دوبارہ پروسیس کر کے محکمہ خزانہ کے سامنے پیش کیا گیا۔
اس تمام عمل کے باوجود کئی برس گزر جانے کے بعد بھی ترمیم شدہ اسٹائپنڈ پر عمل درآمد کے لیے حتمی سرکاری حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا۔ ایم بی بی ایس انٹرنز اور میڈیکل طلبہ تنظیموں کی جانب سے یہ معاملہ مختلف سطحوں پر مسلسل حکومت کے سامنے اٹھایا جاتا رہا ہے۔
اکتوبر 2024 میں ایم بی بی ایس انٹرنز نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کر کے اسٹائپنڈ میں اضافے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران انٹرنز نے جموں و کشمیر اور ملک کی دیگر ریاستوں میں انٹرنز کو دیے جانے والے اسٹائپنڈ کے درمیان بڑھتی ہوئی مالی تفاوت کا معاملہ بھی اٹھایا۔
12 مئی 2025 کو ایم بی بی ایس انٹرنز کے ایک وفد نے نائب وزیر اعلیٰ، وزیر اعلیٰ کے مشیر اور وزیر صحت و طبی تعلیم سے ملاقات کر کے اسٹائپنڈ میں اضافے کے حوالے سے ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔ جولائی 2025 میں وزیر صحت نے کہا تھا کہ انٹرنز کے اسٹائپنڈ میں اضافے کا معاملہ زیر عمل ہے اور اس پر جلد عمل درآمد کیا جائے گا۔ 9 ستمبر 2025 کو آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے بھی وزیر اعلیٰ کو ایک نمائندگی پیش کرتے ہوئے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی۔ طلبہ تنظیم کی بعد کی نمائندگیوں کے مطابق اکتوبر 2025 میں یہ تجویز محکمہ صحت و طبی تعلیم کی سطح پر منظور ہونے کے بعد دوبارہ محکمہ خزانہ کو ضروری منظوری کے لیے بھیجی گئی۔
فروری 2026 میں یہ معاملہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں بھی اٹھایا گیا۔ حکومت نے اپنے سرکاری جواب میں تسلیم کیا کہ 2023 میں تشکیل دی گئی کمیٹی نے انٹرنز کے اسٹائپنڈ کو بڑھا کر 25 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی سفارش کی ہے، تاہم تجویز ابھی بھی ضروری مالی منظوری اور رضامندی کی منتظر ہے۔
مئی 2026 میں میڈیکل طلبہ اور ڈاکٹروں کے نمائندوں نے اس طویل تاخیر کے معاملے میں لیفٹیننٹ گورنر سے بھی مداخلت کی اپیل کی۔ متعدد ملاقاتوں، نمائندگیوں، حکومتی یقین دہانیوں اور اسمبلی میں معاملہ اٹھائے جانے کے باوجود جموں و کشمیر میں ایم بی بی ایس انٹرنز کا ماہانہ اسٹائپنڈ اب بھی تقریباً 12,300 روپے ہی ہے۔
انٹرنز کا کہنا ہے کہ ان کا مطالبہ محض زیادہ رقم حاصل کرنے کا مطالبہ نہیں ہے، بلکہ حکومت کی جانب سے خود تشکیل دی گئی کمیٹی نے اس معاملے کا جائزہ لینے کے بعد اسٹائپنڈ میں اضافے کی سفارش کی ہے، لیکن اس سفارش پر کئی برس گزرنے کے باوجود عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔ انٹرنز کے مطابق جموں و کشمیر میں دیا جانے والا تقریباً 12,300 روپے ماہانہ کا اسٹائپنڈ ملک کی متعدد دیگر ریاستوں اور سرکاری طبی اداروں کے مقابلے میں کافی کم ہے۔
طلبہ اور ان کے نمائندوں کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اڈیشہ میں انٹرنز کو تقریباً 44,319 روپے، مغربی بنگال میں 43,099 روپے، آسام میں 35 ہزار روپے، کرناٹک میں 30 ہزار روپے، کیرالہ میں 27,300 روپے، دہلی اور میگھالیہ میں 26,300 روپے، تلنگانہ میں 25,900 روپے اور اترپردیش و اروناچل پردیش جیسی ریاستوں میں 25 ہزار روپے ماہانہ اسٹائپنڈ دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کئی دیگر ریاستوں میں بھی جموں و کشمیر کے مقابلے میں کہیں زیادہ اسٹائپنڈ دیا جا رہا ہے، جبکہ جموں و کشمیر حکومت کی اپنی تشکیل کردہ کمیٹی بھی 25 ہزار روپے ماہانہ کی سفارش کر چکی ہے۔
ایم بی بی ایس انٹرنز کا کہنا ہے کہ اس بڑھتی ہوئی مالی تفاوت نے ان پر اضافی معاشی دباؤ ڈال دیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ان پر اپنی لازمی طبی تربیت کے دوران اہم پیشہ ورانہ اور طبی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایم بی بی ایس انٹرن شپ طبی تعلیم کا ایک لازمی حصہ ہے، جس کے دوران انٹرنز کو اسپتالوں اور طبی اداروں میں باقاعدہ طبی ذمہ داریاں انجام دینی ہوتی ہیں۔ وہ وارڈز، او پی ڈیز، ایمرجنسی شعبوں اور مختلف کلینیکل ڈیپارٹمنٹس میں طویل اوقات تک خدمات انجام دیتے ہیں۔
انٹرنز کا کہنا ہے کہ ایک طرف ان کے رہائشی، سفری، خوراک اور دیگر اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ دوسری جانب 2019 سے ان کا اسٹائپنڈ جوں کا توں برقرار ہے۔طلبہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اسٹائپنڈ میں اضافے کی ضرورت کو خود حکومت نے تسلیم کیا تھا، جس کے تحت 2023 میں اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ ایم بی بی ایس انٹرنز کا بنیادی مطالبہ سرکاری کمیٹی کی سفارش کے مطابق ان کا ماہانہ اسٹائپنڈ فوری طور پر بڑھا کر 25 ہزار روپے کیا جائے اور اس حوالے سے بغیر مزید تاخیر کے ضروری سرکاری حکم نامہ جاری کیا جائے۔
انٹرنز کے دیگر مطالبات میں زیر التوا تجویز کو فوری طور پر نمٹانا، جموں و کشمیر کے تمام سرکاری میڈیکل کالجوں میں یکساں طور پر ترمیم شدہ اسٹائپنڈ نافذ کرنا، فائل کی موجودہ صورتحال اور تاخیر کی وجوہات کے حوالے سے شفافیت اختیار کرنا اور اسٹائپنڈ میں اضافے کو کسی غیر معقول طور پر ایم بی بی ایس فیس میں اضافے کے ساتھ منسلک نہ کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ طلبہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ مستقبل میں اسٹائپنڈ کا وقتاً فوقتاً جائزہ لینے اور اس میں اضافہ کرنے کے لیے ایک مستقل نظام وضع کیا جائے، تاکہ اسے دوبارہ سات یا آٹھ برس تک بغیر کسی ترمیم کے منجمد نہ رکھا جائے۔
انٹرنز کا مطالبہ یہ بھی ہے کہ ان کی ذمہ داریوں اور کام کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کی دیگر مناسب اور قابل موازنہ سرکاری طبی اداروں اور ریاستوں کے مطابق اسٹائپنڈ میں مناسب برابری لائی جائے۔ ایم بی بی ایس انٹرنز کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ محکمے فوری طور پر تمام ضروری رسمی کارروائیاں مکمل کر کے اسٹائپنڈ میں اضافے کا سرکاری حکم نامہ جاری کریں اور اس طویل عرصے سے زیر التوا معاملے کا بلا تاخیر فیصلہ کیا جائے۔

