ETV Bharat / jammu-and-kashmir
بازار میں مشک بدجی کی خوشبو مدھم پڑنے لگی،کبھی 25 ہزار فی کوئنٹل،آج 10 ہزار بھی مشکل،کہاں گئے سنہرے دن ؟
مشک بدجی کو2023میں جغرافیائی شناخت یعنی جی آئی ٹیگ ملنے کے بعد اس کی عالمی شناخت کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

Published : August 13, 2026 at 5:17 PM IST
اننت ناگ (میر اشفاق): کشمیر کا مشہور خوشبودار اور روایتی مشک بدجی چاول، جس نے اپنی منفرد خوشبو، ذائقے اور مخصوص خصوصیات کے باعث نہ صرف کشمیر بلکہ بیرونِی ممالک میں بھی شناخت حاصل کی، آج مارکیٹ کے بحران سے دوچار ہے۔ ساگم کے کسانوں کے مطابق مشک بدجی چاول کی قیمتوں اور مانگ میں مسلسل کمی کے باعث اس روایتی صنعت کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
مشک بدجی کو 2023 میں جغرافیائی شناخت یعنی جی آئی ٹیگ ، ملنے کے بعد اس کی عالمی شناخت کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس سے قبل محکمہ زراعت اور سکاسٹ کشمیر کی تحقیق اور کاوشوں کے نتیجہ میں مشق بدجی کو ایک نئی شناخت اور مارکیٹ ملا، جس کے بعد اس کی مانگ میں اضافہ ہوا اور کسانوں کو روایتی چاول کے مقابلے میں بہتر قیمتیں ملنے لگیں۔

تاہم ساگم کے کسانوں کا کہنا ہے کہ مشک بدجی کی کاشت کو ان علاقوں تک وسیع کیا گیا، جہاں مقامی آب و ہوا اور زرعی حالات اس کی معیاری پیداوار کے لیے موزوں نہیں تھے۔ کسانوں کے مطابق اس توسیع کے نتیجے میں مشک بدجی کی مجموعی مارکیٹ ویلیو متاثر ہوئی اور ساگم، جو اس چاول کی روایتی اور معیاری پیداوار کے لیے معروف رہا ہے، کے کسان بھی اس صورتحال سے متاثر ہوئے ہیں۔

مقامی کسانوں کے مطابق چند سال قبل ساگم میں معیاری مشک بدجی چاول کی قیمت تقریباً 20 سے 25 ہزار روپئے فی کوئنٹل تک پہنچ جاتی تھی، لیکن اب یہی چاول 10 سے 15 ہزار روپئے فی کوئنٹل میں بھی فروخت کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں طلب اتنی کم ہو گئی ہے کہ گزشتہ سال کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ اب بھی ان کے پاس موجود ہے۔
مشک بدجی کو فروغ دینے کے لئے حکومت کی جانب سے، ساگم مشک بدجی فارمر پروڈیوسر کمپنی لمیٹڈ (ایف پی سی ) ایک کسانوں کی تنظیم کو تشکیل دیا گیا تھا جو علاقے کے مشک بدجی چاول پیدا کرنے والے کسانوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ ادارہ مشک بدجی چاول کی پیداوار، پروسیسنگ، برانڈنگ اور مارکیٹنگ کے امور میں بھی شامل ہے۔
ساگم کے دنوٹھ پورہ کے رہنے والے حاجی غلام قادر وانی نامی ایک مقامی کسان جو ساگم مشک بدجی فارمر پروڈیوسر کمپنی لمیٹڈ (ایف پی سی) کے ممبر بھی ہیں کے مطابق گزشتہ سال کا تقریباً 800 کوئنٹل مشک بدجی چاول ابھی تک ذخیرہ ہے اور طویل عرصے تک اسٹاک پڑا رہنے کے باعث اس کے خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر مارکیٹ فراہم نہ کی گئی تو ان کی گزشتہ سال کی پیداوار کا بڑا حصہ ضائع ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق علاقے میں تقریباً 730 خاندان مشک بدجی کی کاشت سے وابستہ ہیں اور یہاں سالانہ تقریباً 8,000 کوئنٹل مشک بدجی چاول پیدا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق مشک بدجی کی کاشت اس علاقے میں محض ایک تجارتی سرگرمی نہیں بلکہ صدیوں پرانی زرعی روایت ہے، جسے مقامی کسان نسل در نسل آگے بڑھاتے آئے ہیں۔
وانی نے کہا کہ ایک وقت میں مشک بدجی کی پیداوار تو ہوتی تھی، لیکن اس کے لیے مناسب مارکیٹ موجود نہیں تھی۔ بعد میں محکمہ زراعت اور سکاسٹ کشمیر کی تحقیق اور کوششوں سے اس چاول کو نئی شناخت ملی اور مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوئی۔ اس کے نتیجے میں مشک بدجی کی مانگ میں اضافہ ہوا اور کسانوں کو بہتر قیمتیں ملنے لگیں۔
تاہم وقت گزرنے کے ساتھ مشک بدجی کی کاشت کو وسیع پیمانے پر پھیلانے کی پالیسی نے اس کی مارکیٹ کو متاثر کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر اس کی کاشت صرف ان علاقوں تک محدود رکھی جاتی جہاں اس کی معیاری پیداوار ممکن ہے تو مشک بدجی کی مخصوص شناخت اور مارکیٹ ویلیو کو برقرار رکھا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں کمی اور مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کا اثر رواں سال کی کاشت پر بھی پڑا ہے۔ کسانوں کے مطابق بڑی تعداد میں کاشتکاروں نے مشک بدجی کے بجائے دیگر اقسام کے چاول کاشت کیے ہیں، جس کے نتیجے میں ساگم میں رواں سال مشک بدجی کے زیرِکاشت رقبہ اور پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مشک بدجی کے فروغ کے لیے محکمہ زراعت نے ساگم مشک بدجی فارمرز پروڈیوسر کمپنی لمیٹڈ نامی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور اس کے لیے تقریباً 10 لاکھ روپے کی مالی معاونت بھی مختص کی گئی تھی، تاہم ان کے مطابق یہ رقم ابھی تک کمیٹی کو واگزار نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے محکمہ زراعت سے ان فنڈز کے ذریعے ساگم میں مشک بدجی کے لیے ایک مخصوص رائس مل قائم کرنے کی بھی اپیل کی تھی، لیکن اس پر ابھی تک عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔
مقامی کاشتکار بشیر احمد ملک نے کہا کہ ساگم کی مشک بدجی کی کوالٹی منفرد ہے اور اسی علاقہ سے اس کی شروعات ہوئی تھی ،تاہم قیمتوں میں بدریج کمی ہونے سے اب کسان متبادل راستہ اپنانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صنعت کو بچانے کے لئے حکومت کو ایک جامع پالیسی مرتب کرنا چاہئے، اس کی معیاری پیداوار کے لیے موزوں علاقوں کی نشاندہی کی جائے اور ساگم جیسے روایتی پیداواری مرکز کو خصوصی تحفظ دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مشک بدجی کی بے قابو توسیع اور مارکیٹ کے بحران کا حل نہ نکالا گیا تو یہ صدیوں پرانی صنعت مستقبل میں معدوم ہو سکتی ہے۔
ساگم مشک بدجی فارمر پروڈیوسر کمپنی لمیٹڈ (ایف پی سی ) کے ارکان کے مطابق مشک بدجی کے لیے بیرونِ ملک مارکیٹ پیدا کرنے کی کوششیں بھی ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ سال محکمہ زراعت کی وساطت سے تقریباً 20 ٹن مشک بدجی چاول جاپان برآمد کرنے کا معاہدہ ہونا تھا، تاہم ان کے مطابق اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث یہ معاہدہ منسوخ ہو گیا، جس سے مقامی مارکیٹ پر بھی منفی اثر پڑا۔
دوسری جانب محکمہ زراعت کا مؤقف کسانوں سے مختلف ہے۔ چیف ایگریکلچر افسر اننت ناگ شاہنواز حسین شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت کا مقصد مشک بدجی کی پیداوار بڑھانا اور اس کی کاشت کو مزید علاقوں تک عام کرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کسان اس منفرد فصل سے فائدہ اٹھا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ مشک بدجی کی مارکیٹ کے حوالے سے وزیرِ زراعت جاوید احمد ڈار کے ساتھ بھی بات چیت ہوئی ہے اور حکومت کسانوں کے لیے بہتر مارکیٹ فراہم کرنے کے امکانات پر غور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق مختلف پروگراموں کے ذریعے کسانوں کو براہِ راست تاجروں کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی پیداوار بہتر اور مناسب قیمتوں پر فروخت کر سکیں۔
چیف ایگریکچر افسر نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ ساگم علاقے میں مشک بدجی کے لیے ایک رائس مل جلد تعمیر کی جائے گی، جس سے مقامی سطح پر چاول کی پروسیسنگ اور مارکیٹنگ کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
ای ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے وزیرِ زراعت جاوید احمد ڈار نے بھی کہا کہ مشک بدجی کی مارکیٹ کے حوالے سے پیش رفت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس کی پیداوار کو کسی ایک علاقے تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ اس کا دائرہ بڑھ چکا ہے اور اب مشق بدجی کی کاشت شمالی کشمیر تک بھی پہنچ گئی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ اس روایتی چاول کو مزید فروغ دیا جائے اور اس کے لیے بہتر مارکیٹ پیدا کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کشمیر کے پہاڑوں پر اولیائے کرام کے مزارات، روحانیت، تاریخ اور فطرت کا حسین امتزاج
ساگم کے کسانوں کا کہنا ہے کہ مشک بدجی نے طویل عرصے کی محنت کے بعد عالمی شناخت حاصل کی ہے، اس لئے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی پیداوار میں صرف اضافہ نہ کیا جائے بلکہ اس کے معیار، اصل جغرافیائی شناخت اور مارکیٹ ویلیو کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے۔ بصورتِ دیگر ،جی آئی ٹیگ کے باوجود کشمیر کا یہ قدیم اور خوشبودار چاول اپنی ہی مارکیٹ میں اپنی قدر کھونے کے خطرے سے دوچار رہ سکتا ہے۔

