ETV Bharat / jammu-and-kashmir
’دال میں کچھ کالا ہے‘، کشمیری پنڈتوں کو ہی دھمکیاں کیوں؟ فاروق عبداللہ نے کیا تحقیقات کا مطالبہ
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی وزارت داخلہ سے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے سکیورٹی نظام اور پنڈتوں کی واپسی پر سوالات اٹھائے۔


Published : August 13, 2026 at 8:56 PM IST
سرینگر: جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے وادی میں کشمیری پنڈت ملازمین کو دی جانے والی مخصوص دھمکیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعرات کو سرینگر میں اپنے بیٹے اور جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ صرف کشمیری پنڈت ملازمین کو ہی دھمکیاں کیوں دی گئی ہیں!
نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا: ”میں حیران ہوں کہ صرف انہیں ہی دھمکی کیوں ملی؟ یہ دھمکی کہاں سے آئی؟ یہاں صرف کشمیری پنڈت ہی نہیں رہتے، دوسرے لوگ بھی یہاں موجود ہیں۔ ہندو سرکاری افسر اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی یہاں ہیں۔ انہیں دھمکیاں کیوں نہیں ملیں؟ صرف انہیں ہی کیوں؟“
Condemning the attack on Shiromani Akali Dal president and former Punjab Deputy Chief Minister Sukhbir Singh Badal, National Conference President Dr Farooq Abdullah expressed serious concern and urged the Union Ministry of Home Affairs to intervene. Honourable Chief Minister Omar… pic.twitter.com/NEbybEpE0o
— JKNC (@JKNC_) August 13, 2026
فاروق عبداللہ نے کہا کہ چونکہ سکیورٹی کا معاملہ عمر عبداللہ حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے، اس لیے وزارت داخلہ کو اس معاملے میں مداخلت کرکے تحقیقات کرنی چاہیے۔ ”سکیورٹی لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہے۔ وزارت داخلہ کو اس معاملے کو دیکھنا چاہیے اور سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کا پتہ لگانا چاہیے جو اس کے پیچھے ہیں۔ دال میں کچھ کالا ہے اور میرے خیال میں اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔“
ای ٹی وی بھارت کی رپورٹ کے مطابق، وادی میں اقلیتی ملازمین کو سکیورٹی خدشات کے پیش نظر 15 اگست تک گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کشمیری پنڈت ملازمین کو آن لائن دھمکیاں دی گئی ہیں، جن میں پی ایم پیکیج کے تحت سرکاری ملازمت حاصل کرنے والے کشمیری پنڈتوں کے نام بھی تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ دھمکی لشکرِ طیبہ سے وابستہ ایک زیلی تنظیم یونائیٹڈ لبریشن کونسل کی جانب سے دی گئی۔ آن لائن گردش کرنے والے دھمکی آمیز پوسٹروں میں کشمیری پنڈت ملازمین کی فہرست کے ساتھ ان کے فون نمبرز سمیت دیگر خفیہ معلومات بھی درج تھیں۔
کشمیر میں گزشتہ ماہ دو دہشت گرد حملوں نے معمول کی صورتحال کو شدید متاثر کیا تھا۔ 22 جون کو اننت ناگ میں امرناتھ یاترا کی ڈیوٹی انجام دے رہے ایک پولیس اہلکار عاشق حسین قریشی کو دن دہاڑے گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ اس کے دس دن بعد ہی جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں ایک اور دہشت گرد حملے میں چھتیس گڑھ سے تعلق رکھنے والے اینٹ کے بھٹوں میں کام کر رہے دیپک رترے اور بپندر نامی دو مزدوروں کو ہلاک کیا گیا تھا۔
’پنڈتوں کو کالونیوں میں بسانا حل نہیں‘
فاروق عبداللہ نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کے لیے شروع کیا گیا وزیر اعظم پیکیج ان کی وادی میں واپسی اور بازآبادکاری کے لیے تھا، نہ کہ انہیں کالونیوں یا ٹرانزٹ کیمپوں میں بسانے کے لیے۔ ”وہ (کشمیری پنڈت) ہر جگہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان سے کیے گئے وعدوں کا کیا ہوا؟ حکومت نے کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے لیے کیا کیا؟“
انہوں نے کہا کہ وادی میں کشمیری پنڈتوں کی واپسی، بازآبادکاری اور انہیں روزگار فراہم کرنے کی پالیسی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دور میں شروع کی گئی تھی، جب عمر عبداللہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ تھے۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ ”انہیں ٹرانزٹ کیمپوں میں بسانا اچھی بات نہیں۔ انہیں لوگوں کے درمیان رہنا ہوگا۔ کشمیری مسلمان کبھی ان کے خلاف نہیں تھے۔ ہم نے یہ نہیں کیا تھا (کشمیری پنڈتوں کی وادی سے ہجرت)، سب جانتے ہیں کہ یہ کس نے کیا۔“
’کاکروچ جنتا پارٹی نے ملک میں بیداری پیدا کی‘
کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس تنظیم کو ملک میں ”زیادتیوں اور سانحات“ کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کا کریڈٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین پر عمل نہیں کیا جا رہا اور یہ اچھی بات ہے کہ اس تنظیم نے اپنی آواز بلند کی ہے۔
مہاراشٹر میں سکھبیر بادل پر حملہ سکیورٹی کی ناکامی قرار
فاروق عبداللہ نے پنجاب کے سابق نائب وزیر اعلیٰ سکھبیر سنگھ بادل پر مہاراشٹر کے ایک گوردوارے کے اندر ہوئے حملے کی بھی مذمت کی اور اسے سکیورٹی کی ناکامی قرار دیا۔ ”میرا ماننا ہے کہ یہاں بھی سکیورٹی میں کوتاہی ہوئی ہے۔"
یہ بھی پڑھیں:

