ETV Bharat / jammu-and-kashmir

کشمیر، ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے دوسرے روز بھی پابندیاں عائد

گزشتہ روز بھی جموں کشمیر کے بیشتر علاقوں میں پابندیاں نافذ رہیں وہیں آج بھی انٹرنیٹ کی اسپیڈ سست کر دی گئی ہے۔

کشمیر، ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے دوسرے روز بھی پابندیاں عائد
کشمیر، ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے دوسرے روز بھی پابندیاں عائد (ای ٹی وی بھارت)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : March 3, 2026 at 2:33 PM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف کشمیر میں ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے منگل کو سرینگر سمیت کشمیر کے بعض علاقوں میں مسلسل دوسرے روز بھی پابندیاں جاری رکھی گئیں۔ وہیں جموں کے ضلع پونچھ میں مکمل ہڑتال دیکھی گئی۔

سرینگر سمیت وادی کے دیگر کئی علاقوں میں عوامی نقل و حرکت کو محدود رکھنے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے پابندیاں عائد کیں۔ تعلیمی ادارے بند ہیں اور وادی میں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار بھی کم کر دی گئی ہے۔

خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد حکام نے پیر اور منگل کو تعلیمی ادارے بند رکھنے کے احکامات پہلے ہی صادر کیے تھے اور آج شام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اسکولوں اور کالجز کو دوبارہ کھولنے یا بندش کی مزید توسیع کا فیصلہ کیا جائے گا۔

شیعہ اکثریتی علاقوں میں پابندیاں مزید سخت کر دی گئی ہیں، کیونکہ اتوار سے کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ اتوار کو مختلف علاقوں سے مظاہرین سرینگر میں لال چوک کے معروف گھنٹہ گھر کے نزدیک جمع ہوئے اور ایران پر حملے اور خامنہ ای کے قتل کی مذمت کی۔ گھنٹہ گھر کے نزدیک سال 2019 کے بعد پہلا بڑا عوامی اجتماع تھا۔ تاہم گزشتہ روز سے اس تجارتی مرکز کو سیل کر دیا گیا ہے اور مظاہرین کو شہر خاص کر لال چوک کی جانب بڑھنے سے روکنے کے لیے اور مظاہرین کو منتشیر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے بھی داغے گئے۔

ا
سرینگر میں ایک سیکورٹی اہلکار (ای ٹی وی بھارت)

احتجاج کے دوران بعض مقامات پر پتھراؤ کے واقعات کی بھی رپورٹس ہیں۔ متعدد افراد بشمول سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

احتجاج کے باعث ٹریفک اور نقل و حمل میں خلل کا خدشہ ظاہر کیے جانے کے سبب حکام نے شمالی کشمیر کے سرحدی اضلاع کی جانب جانے والی شاہراہ پر بھی ٹریفک کے حوالے سے ایڈوائزری جاری کی ہے۔

ادھر، جموں کے سرحدی ضلع پونچھ میں مکمل ہڑتال رہی اور دکانیں اور بازار بند رہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے ہڑتال میں حصہ لیا، تاہم بعد دوپہر سرینگر کے مضافاتی علاقوں سمیت بعض اضلاع میں معمولات زندگی بحال ہوئی اور دکانیں بھی کھلیں اور ٹریفک کی نقل و حرکت بھی دیکھنے کو ملی۔

دریں اثنا سرینگر پولیس نے متنبہ کیا ہے کہ عوام کو بھڑکانے اور امن و امان خراب کرنے کی نیت سے من گھڑت اور گمراہ کن معلومات پھیلانے والے بعض میڈیا اداروں اور شہریوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ کچھ نیوز چینلز، میڈیا ادارے اور افراد الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جان بوجھ کر من گھڑت اور غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔ کئی پروفائلز کی نشاندہی کی گئی ہے اور متعلقہ افراد کو پولیس کے سائبر سیل میں طلب کیا گیا ہے، تاہم اداروں یا افراد کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

جموں و کشمیر پولیس نے ایک ایڈوائزری بھی جاری کرتے ہوئے عوام سے تحمل برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے، تاہم پولیس نے خبردار کیا ہے کہ ہنگامہ آرائی، پتھراؤ، جھڑپیں اور عوامی نظم و نسق میں خلل کسی صورت قابل قبول نہیں۔

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ تشدد اور اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور امن برقرار رکھنے میں تعاون دیں۔

پلوامہ کے بعض علاقوں میں بھی بندشیں نافذ
ضلع پلوامہ میں گنگو سمیت دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں احتیاطی اقدامات کے تحت بندشیں عائد کی گئیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

ضلع کے گنگو میں سکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی اور حساس مقامات پر نگرانی بھی بڑھا دی گئی تھی۔

وہیں دوسری جانب ضلع پلوامہ کے بیشتر علاقوں میں معمولاتِ زندگی جزوی طور پر بحال نظر آئی۔ کاروباری ادارے کھلے رہے جبکہ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ بھی چلتا رہا۔

انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور امن و بھائی چارے کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا تعاون کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور حالات کے مطابق مزید فیصلے کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:

  1. ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت پر غم وغصہ: دیکھیے کشمیر کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے
  2. کشمیری شعیہ لیڈر نے مظاہرین سے کی امام بارگاہوں میں سوگ منانے کی اپیل
  3. کشمیر میں پابندیاں، احتجاجی مظاہرے، موبائل انٹرنیٹ خدمات محدود