ETV Bharat / jammu-and-kashmir
ٹوٹی چھتیں خستہ عمارتیں اور محدود کلاس رومز، پلوامہ کے سرکاری اسکولوں کی تلخ حقیقت
چیف ایجوکیشن آفیسر پلوامہ انجم آرا نے یقین دلایا کہ اسکول کےطلبہ کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیےفوری طور پر ہرممکن اقدامات کیےجائیں گے

Published : July 3, 2026 at 4:43 PM IST
پلوامہ (سید عادل مشتاق): جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے علاقے گجربستی کریوا دربگام میں واقع گورنمنٹ اپر پرائمری اسکول کی خستہ حال عمارت اور بنیادی سہولیات کی کمی نے تعلیمی نظام پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک جانب جموں و کشمیر میں تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور سرکاری اسکولوں میں بہتر سہولیات فراہم کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم دور دراز اور بالائی علاقوں کے کئی سرکاری اسکول آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
گجربستی کریوا دربگام کا یہ اسکول مقامی طلبہ کے روشن مستقبل کے لیے امید کی ایک کرن سمجھا جاتا ہے، مگر اسکول کی موجودہ بنیادی ڈھانچہ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ اسکول کی عمارت میں دیواروں پر دراڑیں پڑ چکی ہیں، چھت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جبکہ کلاس رومز کی شدید قلت بھی درپیش ہے۔

اسکول کی 9 جماعتیں صرف 3 کمروں میں چل رہی ہیں، جس کے باعث طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک طالب علم نے کہا کہ صرف تین کمروں میں نو جماعتوں کا چلنا طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہے اور یہ وادی کے بالائی علاقوں میں سرکاری اسکولوں کی اصل تصویر پیش کرتا ہے۔

علاقے کے ایک مقامی باشندے منیر احمد نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بنیادی سہولیات فراہم نہ کیے جانے کے سبب مقامی لوگ مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم معاشرے کے غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمارے بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات ملنی چاہئیں، مگر افسوس کہ ہمارے علاقے کی طرف کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ طلبہ اور والدین نے متعلقہ حکام اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ اسکول میں فوری طور پر بنیادی اور جدید سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ بچوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔

اس حوالے سے چیف ایجوکیشن آفیسر پلوامہ، انجم آرا نے یقین دہانی کرائی کہ اسکول کے طلبہ کو بہتر اور جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم سرکاری اسکولوں کو ضلع کے نجی اسکولوں کے ہم پلہ بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔


