ETV Bharat / jammu-and-kashmir
سی آئی کے کی بڑی کارروائی، کشمیر بھر میں مِیول اکاؤنٹس کے خلاف کریک ڈاؤن، 22 مقامات پر چھاپے
کارروائی کے دوران موبائل فونز، لیپ ٹاپس، ڈیجیٹل اسٹوریج ڈیوائسز اور اہم مالی دستاویزات ضبط کی گئیں۔

Published : January 7, 2026 at 10:19 AM IST
شوپیاں (شاہد ٹاک): کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر (سی آئی کے) نے سائبر دہشت گردی سے جڑے مالی نیٹ ورکس کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے اج صبح کشمیر وادی میں مِیول اکاؤنٹس کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا۔ ذرائع کے مطابق اس کارروائی کے تحت وادی بھر میں تقریباً 22 مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے گئے۔
ذرائع نے بتایا کہ مجموعی طور پر کی جانے والی کارروائیوں میں سے قریب 15 چھاپے صرف سرینگر میں انجام دیے گئے، جبکہ باقی کارروائیاں بڈگام، شوپیان اور کولگام اضلاع میں کی گئیں۔ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے پندگوشن علاقے میں بھی چھاپہ مار کارروائی کی گئی۔ یہ کارروائی عدالتی اجازت کے بعد انجام دی گئی اور اس کا مقصد ان مالی نیٹ ورکس کا پتہ لگانا اور انہیں توڑنا ہے جو مبینہ طور پر سائبر دہشت گردی، آن لائن فراڈ، غیر قانونی بیٹنگ اور گیمنگ پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی رقوم کو منتقل کرنے میں استعمال ہو رہے تھے۔
سی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کی بنیاد ایک ایف آئی آر ہے جو خفیہ اور مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر درج کی گئی ہے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ایک منظم سنڈیکیٹ سائبر جرائم سے حاصل ہونے والی رقم کو مختلف بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منظم جرائم کے ڈھانچوں تک پہنچا رہا تھا، جبکہ بعض مالی لین دین میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔
تحقیقات کے دوران ایک وسیع “مِیول اکاؤنٹ” نیٹ ورک کا بھی انکشاف ہوا، جس میں غریب، بے روزگار یا غیر مشتبہ افراد کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس استعمال کیے جا رہے تھے۔ حکام کے مطابق ان اکاؤنٹس کے اصل مالکان میں سے کئی افراد اس بات سے بھی لاعلم تھے کہ ان کے اکاؤنٹس غیر قانونی رقوم کی عارضی منتقلی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، تاکہ رقم کے اصل ماخذ اور آخری منزل کو چھپایا جا سکے۔
سی آئی کے نے ڈیجیٹل نگرانی، مالیاتی انٹیلی جنس اور لین دین کے تجزیے کی بنیاد پر بیک وقت چھاپوں کی اجازت حاصل کی۔ کارروائی کے دوران موبائل فونز، لیپ ٹاپس، ڈیجیٹل اسٹوریج ڈیوائسز اور اہم مالی دستاویزات ضبط کی گئیں، جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک کی سرگرمیوں اور اس کے وسیع تر روابط سے متعلق اہم شواہد فراہم کریں گی۔
اس خبر کے شائع ہونے تک کارروائی جاری تھی اور تحقیقات کے آگے بڑھنے کے ساتھ مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:

