ETV Bharat / jammu-and-kashmir

جموں و کشمیر کے سرکاری اسکولوں میں متنازع کتابوں کا معاملہ، پولیس نے مقدمہ درج کر کے چھاپے مارے، 8 افسران معطل

ناشر کے دفتر سے اہم دستاویزات ضبط کیے گئے ہیں تاکہ کتابوں کی تیاری، منظوری اور تقسیم سے متعلق عمل کی تحقیقات کی جائے۔

جموں و کشمیر کے سرکاری اسکولوں میں متنازع کتابوں کا معاملہ، پولیس نے مقدمہ درج کر کے چھاپے مارے، 8 افسران معطل
جموں و کشمیر کے سرکاری اسکولوں میں متنازع کتابوں کا معاملہ، پولیس نے مقدمہ درج کر کے چھاپے مارے، 8 افسران معطل (IANS)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : July 5, 2026 at 7:05 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

جموں: جموں و کشمیر کے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں موجود دو متنازع کتابوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند شخصیات کی تمجید کیے جانے کے الزام کے بعد جموں و کشمیر پولیس کے کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر (سی آئی کے) ونگ نے مقدمہ درج کر کے بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک ناشر کے دفتر پر چھاپہ مار کر کاغذی ریکارڈ اور ڈیجیٹل مواد بھی ضبط کیا گیا ہے، جبکہ انتظامیہ نے آٹھ سرکاری ملازمین کو معطل، ایک کنٹریکٹ ملازم کو برطرف اور دونوں کتابوں کو تمام سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں سے فوری طور پر واپس لینے کا حکم دیا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق زیرِ تفتیش کتابوں میں "Personalities and Legends of J&K" شامل ہے، جسے ہلال احمد اور سنتوش مینا نے تحریر کیا ہے اور اسے ابرا بک پبلشرز، جموں نے شائع کیا ہے۔ دوسری کتاب "Great Personalities of Jammu and Kashmir" ہے، جس کے مصنف سشانت گیری ہیں جبکہ اسے انوراگ پرکاش، نئی دہلی نے شائع کیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایک کتاب کی 123 کاپیاں جموں، رام بن اور ادھم پور کے سرکاری اسکولوں میں تقسیم کی گئی تھیں، جبکہ دوسری کتاب کی 128 کاپیاں جموں اور بارہمولہ کے اسکولوں کی لائبریریوں تک پہنچائی گئی تھیں۔

پولیس نے اس معاملے میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی مختلف دفعات، جن میں مجرمانہ سازش، قومی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے، فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور جھوٹی معلومات کی اشاعت سے متعلق دفعات شامل ہیں، کے علاوہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعہ 13 کے تحت بھی مقدمہ درج کیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق ناشر کے دفتر سے اہم دستاویزات، کمپیوٹر ریکارڈ اور دیگر ڈیجیٹل شواہد ضبط کیے گئے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کتابوں کی تیاری، منظوری اور تقسیم کا پورا عمل کس طرح انجام دیا گیا۔

تاہم پولیس نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک کسی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا اور تفتیش مختلف پہلوؤں سے جاری ہے۔ اس سے قبل جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ ملازمین کو معطل کر دیا، ایک کنٹریکٹ کمپیوٹر اسسٹنٹ کی خدمات ختم کر دیں اور معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم جاری کیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی جانچ میں کتابوں میں ایسا مواد پایا گیا جسے "انتہائی نامناسب" قرار دیا گیا، اسی بنیاد پر محکمہ تعلیم نے دونوں کتابوں کو تمام سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں سے فوری طور پر واپس لینے کی ہدایت جاری کی۔

یہ بھی پڑھیں: سمگر شکشا کتاب تنازع: ایل جی انتظامیہ نے آٹھ ملازمین کو کیا معطل، انکوائری کا حکم

اس معاملے پر بی جے پی، کانگریس سمیت مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کتابوں میں علیحدگی پسند نظریات اور شخصیات کو مثبت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ مکمل تحقیقات کے بعد ہی ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔