ETV Bharat / jammu-and-kashmir
کولڈ اسٹوریج انتظامیہ کی کاہلی سے ماحولیاتی اور آبی آلودگی میں اضافہ
کولڈ اسسٹوریج یونٹس کی انتظامیہ سڑے ہوئےسیب اوردیگر نامیاتی فضلہ کو سڑکوں کے کنارے نالہ رمبی آرا کے اندر اور اطراف میں پھینک رہی ہے۔


Published : July 8, 2026 at 4:16 PM IST
پلوامہ: (سید عادل مشتاق) وادی کشمیر کے سب سے بڑے صنعتی زون آئی جی سی لاسی پورہ میں قائم کنٹرولڈ ایٹماسفیئر (سی اے) اسٹوریج یونٹس جہاں ایک جانب کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے سیب کو محفوظ رکھ کر باغبانوں کی آمدنی میں اضافہ کر رہے ہیں، وہیں دوسری جانب بعض یونٹس کی مبینہ غفلت ماحولیات اور قیمتی آبی وسائل کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق لاسی پورہ انڈسٹریل اسٹیٹ میں 50 سے زائد سی اے اسٹوریج یونٹس فعال ہیں، جو وادی بھر کی باغبانی پیداوار کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم الزام ہے کہ بعض اسٹوریج یونٹس کی انتظامیہ سڑے ہوئے سیب اور دیگر نامیاتی فضلہ کو مقررہ مقامات پر تلف کرنے کے بجائے کھلے عام سڑکوں کے کنارے اور نالہ رمبی آرا کے اندر اور اطراف میں پھینک رہی ہے، جس کے باعث قدرتی ماحول اور آبی ذخائر آلودہ ہو رہے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے، حالانکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے فضلہ تلف کرنے کے لیے علیحدہ جگہ مختص کی گئی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ مسلسل خلاف ورزیوں کے باوجود مؤثر کارروائی نہ ہونا متعلقہ حکام کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق نالہ رمبی آرا کئی دیہات کے لیے آبپاشی اور پینے کے پانی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس پانی کی آلودگی نہ صرف ماحولیات بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ گرمیوں کے موسم میں بڑی تعداد میں لوگ اسی نالے میں نہاتے اور تیرتے ہیں، جس کے باعث آلودہ پانی سے مختلف آبی بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
سالڈ ویسٹ مینجمنٹ رولز کے تحت کھلے مقامات، ندی نالوں یا عوامی جگہوں پر فضلہ پھینکنا، جلانا یا دفن کرنا قابلِ سزا ماحولیاتی جرم ہے۔ مقامی عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ خلاف ورزی کے مرتکب سی اے اسٹوریج یونٹس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے تاکہ قدرتی ماحول اور آبی وسائل کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
آئی جی سی لاسی پورہ انڈسٹریل ایسوسی ایشن کے صدر مختار احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نالہ رمبی آرا اور دیگر کھلے مقامات پر سڑے ہوئے سیب پھینکنے کا عمل فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب فضلہ ٹھکانے لگانے کے لیے باقاعدہ جگہ مختص ہے تو اس کے باوجود خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے تاکہ ماحولیات اور قدرتی وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں:ناگواڑی ترال کے لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم، حکومت کی توجہ کے منتظر
ادھر پلوامہ پولوشن کنٹرول کمیٹی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ سی اے اسٹوریج یونٹس کو فضلہ تلف کرنے کے طریقہ کار اور مقررہ مقامات کے حوالے سے پہلے ہی ایڈوائزری جاری کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یونٹ ہدایات کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور ماحولیات کو نقصان پہنچانے والوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

