ETV Bharat / jammu-and-kashmir

ذمہ دار کون؟ ویشنو دیوی میڈیکل کالج کے ڈی-رجسٹریشن پر عمر عبداللہ کا رد عمل

عمر عبداللہ نے اٹھایا ویشنو دیوی یونیورسٹی قیادت پر سوال، کہا ’’صرف50 طلبہ کی ایڈجسٹمنٹ کا مسئلہ نہیں، یہ مستقبل کا بڑا نقصان ہے۔‘‘

ا
عمر عبداللہ (فائل فوٹو: ای ٹی وی بھارت)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : January 8, 2026 at 1:58 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

جموں (عامر تانترے) : نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) نے شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس (SMVDIME) کو مطلوبہ معیار برقرار نہ رکھنے پر 6 جنوری کی شام اچانک MBBS کی اجازت واپس لیے جانے کے فوراً بعد جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے جواب طلب کیا ہے کہ ’’میڈیکل کالج کا معیار کیوں برقرار نہیں رکھا گیا؟‘‘

جمعرات کی صبح جموں کے کنونشن سینٹر (Convention Centre) میں منعقدہ ایک تقریب کے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا: ’’سب سے پہلے یہ بتایا جائے کہ پہلی انسپکشن کس نے کی اور کس نے کالج کو پاس کیا اور منظوری دی؟ لوگ جشن منا رہے ہیں، مگر اوپر سے نیچے تک سب عہدیداروں سے پوچھا جانا چاہیے کہ اگر کالج تعمیر کیا گیا تو معیار کو کیوں برقرار نہیں رکھا گیا؟‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’یونیورسٹی کا سربراہ کون ہے، چانسلر کون ہے؟ جیسے آپ مجھ سے سوال کرتے ہیں، ویسے ہی ان سے بھی پوچھیں۔ معیار نہیں رکھے گئے تو ذمہ دار کون ہے؟ اور ان کے خلاف کیا کارروائی ہوگی؟‘‘

این ایم سی کے مطابق میڈیکل ایسیسمنٹ اینڈ ریٹنگ بورڈ (MARB) نے سرپرائز انسپکشن کے دوران کالج میں بے ضابطگیاں پائیں، اور موجودہ 50 طلبہ کے بیچ کو جموں کشمیر کے دوسرے میڈیکل کالجوں میں منتقل کرنے کا حکم دیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے وزیر صحت کو ہدایت دی ہے کہ 50 طلبہ کو ان کے گھروں کے نزدیک کالجوں میں اضافی نشستیں بنا کر داخل کیا جائے۔

انہوں نے کہا: ’’مسئلہ صرف ان 50 طلبہ کا نہیں، بلکہ اُن آنے والے طلبہ کا مستقبل بھی ہے جو اس کالج سے فائدہ اٹھاتے۔ آج 50 سیٹیں تھیں، آنے والے برسوں میں 400 تک پہنچ جاتیں۔ مستقبل میں جموں سے 400 میں سے 250 طلبہ آ سکتے تھے۔ اس نقصان کا ذمہ دار کسی کو ٹھہرانا ہوگا۔‘‘

۱
ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں پہلے بیچ کے طلبا کے استقبل میں نصب کی گئی ایک ہورڈنگ (Special Arrangement)

یاد رہے کہ ایم بی بی ایس رجسٹریشن حصول کے بعد امسال پہلی مرتبہ ویشنو دیوی میڈیکل کالج کے لیے 45طلبہ پر مشتمل پہلے بیچ کے لیے نیٖٹ (NEET) امتحان کریک کرنے والے 45طلبہ کا یہاں داخلہ اپروو کیا گیا جن میں 42مسلم طلبہ تھے۔ مسلم طلبہ کا اس کالج میں داخلہ منظور کیے جانے کے بعد جموں میں ہندو تنظیموں نے سخت احتجاج درج کیا اور کئی دایاں بازو تنظیموں نے یک جٹ ہو کر لگاتار ڈیڑھ ماہ تک مخالفت کی اور چھ نومبر کی شام این ایم سی نے یونیورسٹی کی رجسٹریشن ہی منسوخ کر دی۔

یہ بھی پڑھیں:

ویشنو دیوی کالج میں MBBS کورس منسوخ، بھاجپا و سنگھرش سمیتی مطمئن

ویشنو دیوی میڈیکل کالج کے طلبہ کو ہاسٹل خالی کرنے کا حکم جاری، مذہب پر ہوئی سیاست نے طلبہ کا دل توڑ دیا