ETV Bharat / jammu-and-kashmir
کشمیر میں وقت سے پہلے کھلے بادام کے شگوفے، کسان فکر مند
موسمیاتی تبدیلیاں کشمیر کے کسانوں کیلئے نئے چیلنجز کا باعث بن رہی ہیں۔ اس بار موسم بہار معمول سے بیس دن پہلے شروع ہو گیاہے۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : February 25, 2026 at 4:59 PM IST
پلوامہ (سید عادل مشتاق) : درجہ حرارت میں معمول سے کہیں زیادہ اضافے کے باعث وادی کشمیر میں بادام شگوفے وقت سے پہلے ہی کھلنے لگے ہیں، جس سے مقامی کاشتکاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق قبل از وقت شگوفوں (بلومنگ) کا کھلنا، آئندہ فصل کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اگر آئندہ دنوں اچانک سردی کی لہر، ژالہ باری یا غیر متوقع بارشیں ہوئیں تو نازک پھول متاثر ہو کر پیداوار میں نمایاں کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔
گزشتہ دنوں سے جاری طویل خشک سالی اور تیز گرمی کے باعث بادام کے شگوفے معمول سے تقریباً ایک ماہ قبل ہی کھل گئے ہیں، جس نے نہ صرف کسانوں بلکہ زرعی ماہرین کو بھی حیران کر دیا ہے۔ عام طور پر اس خطے میں بادام کے شگوفے مارچ میں ہی کھلتے ہیں، تاہم اس بار گرم موسم نے قدرتی شیڈول کو بھی متاثر کیا ہے۔
باغ مالکان کا کہنا ہے کہ قبل از وقت شگوفے کھلنا بظاہر خوش آئند محسوس ہوتا ہے اور باغات خوبصورت منظر پیش کر رہے ہیں، لیکن اچانک درجہ حرارت میں کمی یا موسم میں تبدیلی فصل کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ پلوامہ سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا: ’’اگر شگوفے جھڑ گئے تو اس کا براہِ راست اثر پیداوار اور کسانوں کی معیشت پر پڑے گا۔‘‘ انہوں نے متعلقہ محکمہ سے کسانوں کی بروقت رہنمائی اور ممکنہ نقصان کی صورت میں معاوضے یا امدادی اقدامات کو یقینی بنائے جانے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔

زرعی شعبے سے وابستہ عہدیداروں نے اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کاشتکاروں کو ہدایت دی کہ وہ محکمہ زراعت کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری پر سختی سے عمل کریں تاکہ ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
باغبانوں کو ماہرین کا مشورہ
ماہرین نے باغبان کو وضع کردہ جراثیم کش ادویات کے چھڑکاؤ کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً جاری کردہ ایڈوائزری پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔ اس کے علاوہ آبپاشی کا مناسب انتظام رکھنے، زمین میں نمی کا توازن برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ باغات کی مسلسل نگرانی کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے تاکہ ’’کسی بھی بیماری یا جراثیم کے حملے کی صورت میں فوری تدارک ممکن ہو سکے۔‘‘
وہیں حکام نے کسانوں سے غیر معیاری یا غیر ضروری ادویات کے استعمال سے گریز کرنے کی بھی تلقین کی ہے۔ اور ضمن میں رہنمائی کے لیے متعلقہ محکمہ سے رجوع کرنے کی تلقین کی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ صورتحال عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے وسیع تر اثرات کی عکاسی کرتی ہے، جس کے پیش نظر کسانوں کو جدید زرعی طریقوں اور سائنسی مشوروں کو اپنانا ناگزیر ہے، تاکہ ’’اس سیزن کی پیداوار کو ممکنہ حد تک محفوظ بنایا جا سکے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں:

