ETV Bharat / jammu-and-kashmir
پہلگام بائی پاس پر سیاحوں کی آمدورفت پر مسلسل پابندی سے ’ایپل ویلی‘ میں کاروبار متاثر
پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد ایل جی انتظامیہ نے کئی سیاحتی مقامات پر سیکورٹی وجوہات کی بنا پر پابندی عائد کر دی تھی۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : February 24, 2026 at 1:15 PM IST
اننت ناگ (میر اشفاق) : بجبہاڑہ - سلر پہلگام بائی پاس غیر مقامی سیاحوں کی آمدورفت کے لئے مسلسل بند رہنے سے سینکڑوں افراد کی روزی بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ بائی پاس روڈ پر واقع چینی وُڈر، جو -ایپل ویلی - کے نام سے مشہور ہے، سیاحوں کی آمد و رفت پر عائد پابندی کے باعث عوامی اور سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
معروف سیاحتی مقام پہلگام کی بائی پاس سڑک بجبہاڑہ کے چینی وڈر کے مقام پر سیب کے گھنے باغات کے درمیان سے گزرتی ہے، اس لئے یہ جگہ ’ایپل ویلی‘ کے نام سے مشہور ہے۔ سیب کے باغیچوں کی وجہ سے یہ جگہ سیاحوں کے لئے کافی پُر کشش ہے، اس جگہ سے گزرنے والے ملکی و غیر ملکی سیاح سیب کے باغات میں کچھ لمحات گزار کر اپنے جسم و ذہن کو تروتازہ کرتے ہیں۔ سیاح سیلفی اور فوٹو گرافی کرکے حسین لمحات کو اپنے کیمروں میں قید کرتے ہیں، دلکش مناظر کی وجہ سے یہ مقام سیاحوں کے لیے ایک اہم کشش رکھتا تھا، تاہم طویل عرصے سے جاری پابندی کے باعث یہاں کی سیاحتی سرگرمیاں تقریباً معطل ہو کر رہ گئی ہیں۔
ایپل ویلی کی بندش کے نتیجے میں مقامی معیشت بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ دکاندار، ریستوران، ہینڈی کرافٹس کے شو رومز، مختلف اشیاء فروخت کرنے والے اسٹال والے و دیگر سیاحتی سرگرمیوں سے وابستہ افراد شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگرچہ پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد آہستہ آہستہ سیاحتی مقامات پر سے پابندی ہٹائی گئی تاہم اس سڑک پر سیاحوں کے گزر پر پابندی ہنوز برقرار ہے۔

حالیہ دنوں اس معاملے کی گونج قانون ساز اسمبلی میں بھی سنائی دی، جب بجبہاڑہ کے ایم ایل اے بشیر احمد ویری نے ایوان میں اس مسئلے کو اٹھاتے ہوئے بجبہاڑہ - سلر پہلگام بائی پاس پر سے پابندی ہٹانے اور اسے باقاعدہ طور پر سیاحتی نقشے میں شامل کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ’’اگر مناسب حفاظتی اور انتظامی اقدامات کے ساتھ اس مقام کو دوبارہ کھولا جائے تو اس سے مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور سیاحت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔‘‘
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایپل ویلی کے راستے سے سیاحوں کے داخلے پر پابندی نے نہ صرف ان کی آمدنی کے ذرائع محدود کر دیے ہیں بلکہ نوجوانوں میں بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

محمد اقبال نامی ایک مقامی نوجوان نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ وہ گزشتہ چھہ برس سے ایپل ویلی میں ہینڈی کرافٹس کا کاروبار کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ سیاحوں کی آمد سے ان کا کاروبار اچھا خاصا چل رہا تھا، ان کے پاس کام کرنے والے مزید چھہ نوجوان اپنا روزگار کماتے تھے تاہم سیاحوں کی بندش کے بعد کاروبار بری طرح متاثر ہوا جس کی وجہ سے وہ اپنے ملازمین کو فارغ کرنے پر مجبور ہوگئے، ’’کیونکہ میں خود بے روزگار ہوگیا ہوں اسلئے دوسروں کو روزگار دینے کے قابل نہیں رہا۔‘‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلسل بندش کی وجہ سے وہ مالی بحران سے گزر رہے ہیں اور یہ حال صرف ان کا نہیں بلکہ اس جگہ پر کام کرنے والے سینکڑوں افراد کا بھی ہے۔ انہوں نے حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سڑک کو سیاحوں کی آمدورفت کے لئے جلد سے جلد بحال کریں تاکہ آئندہ نقصان سے بچا جا سکے۔
عادل احمد خان نامی ایک اور نوجوان نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ وہ ایپل ویلی میں ایک ریستوران پر کام کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ گھر کا سارا گزارا اسی ہوٹل پر چلتا تھا اور یہ ان کی کمائی کا واحد ذریعہ تھا تاہم پابندی کے سبب وہ نہ صرف خود بلکہ ان کے ساتھ کام کرنے والے کئی نوجوان بے روزگار ہو گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹورسٹس کی خاصی تعداد پہلگام وارد ہوتی ہے لیکن انہیں صرف کے پی روڈ سے جانے کی اجازت ہے، جبکہ ان کا علاقہ گزستہ دو برسوں سے سڑک کو سیاحوں کے لئے کھولنے کا منتظر ہے۔ عادل کا کہنا ہے کہ ٹورسٹ کا پیک سیزن شروع ہونے والا ہے اگر جلد سے جلد پہلگام بائی پاس سڑک کو سیاحوں کے لئے نہیں کھولا گیا تو سینکڑوں دکانیں اور کاروباری ادارے مکمل طور بند ہو جائیں گے۔
اس مقام پر محکمہ سیاحت کا ایک ٹورسٹ رزاٹ بھی موجود ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ کروڑوں کی لاگت سے مذکورہ ریزاٹ کو تعمیر کیا گیا لیکن جب ٹورسٹس کی آمد پر ہی پابندی ہے تو اس رزاٹ کا کوئی فائدہ نہیں ہے، اسلئے حکومت کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے اور پابندی کو ہٹانے کے اقدامات اٹھانے چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں:
پہلگام کے سیاحتی مقامات اور لدر کے کنارے پولیتھین فری زون قرار، خلاف ورزی پر ہوگا بھاری جرمانہ

