ETV Bharat / jammu-and-kashmir

نیشنل کانفرنس کی عبرتناک شکست وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کیلئے لمحہ فکریہ

بڈگام اور نگروٹہ ضمنی انتخابات کے نتائج جموں کشمیر میں ووٹروں کے انداز فکر میں تبدیلی کے غماز ہیں۔

بڈگام میں پی ڈی پی  جیت کے بعد آغا روح اللہ کے حامی جشن مناتے ہوئے
بڈگام میں پی ڈی پی جیت کے بعد آغا روح اللہ کے حامی جشن مناتے ہوئے (ای ٹی وی بھارت)
author img

By Muhammad Zulqarnain Zulfi

Published : November 14, 2025 at 6:59 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: جموں و کشمیر میں جمعہ کو منظر عام پر آنے والے ضمنی انتخابات کے نتائج سے اخذ کیا جا رہا ہے کہ ووٹروں کے رویے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے کئی دہائیوں کی اجارہ داری کے بعد پہلی بار نیشنل کانفرنس (این سی) سے بڈگام کی نشست چھین لی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے گزشتہ سال کے مقابلے میں چھوٹے فرق سے نگروٹہ سیٹ کو برقرار رکھا۔ دونوں حلقوں کے نتائج بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے اور زمینی حقائق کی ترجمانی کرتے ہیں۔

بڈگام میں 50.01 فیصد ووٹ ڈالے گئے، جس میں 1,26,025 رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 73,833 نے حصہ لیا۔ ٹرن آؤٹ 2024 سے تھوڑا کم ہوا، جب 52.68 فیصد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ پی ڈی پی کے آغا سید منتظر مہدی نے 21,576 ووٹوں کے ساتھ اس حلقہ سے کامیابی حاصل کی، انہوں نے این سی کے آغا سید محمود الموسوی کو شکست دی، جنہیں17,098 ووٹ ملے۔ 1962 میں اس حلقے کی تشکیل کے بعد سے اب تک 11 میں سے 10 انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے کامیابی حاصل کی تھی لیکن اب کی بار وہ ایسا کرنے میں ناکام ہوئی۔

آزاد امیدوار جبران ڈار 7,152 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے، اور بی جے پی کے آغا سید محسن نے 2,619 ووٹ حاصل کیے۔ 2024 میں عمر عبداللہ نے بڈگام سے 36,010 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ آغا منتظر 17,525 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ اس سال، منتظر نے اپنی تعداد اور ووٹ شیئر دونوں میں بہتری لائی، جبکہ این سی میں زبردست کمی دیکھی گئی۔ ان کے ووٹوں میں ای وی ایم پر ڈالے گئے 21,565 ووٹ اور 11 پوسٹل بیلٹ شامل تھے، جبکہ محمود کے 17,089 ای وی ایم ووٹ اور نو پوسٹل بیلٹ تھے۔

قابل توجہ ہے کہ نوٹا کے نام پر پڑنے والے ووٹوں کی تعداد کئی آزاد امیدواروں سے حاصل شدہ ووٹوں سے زیادہ ہے۔

نگروٹہ حلقے سے بی جے پی کی امیدوار نے بنا کسی مزاحمت کے جیت درج کی لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ انکے ووٹ شیئر میں تھوڑی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس حلقے میں 74.82 فیصد ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا تھا، اس کے 97,980 رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 73,833 نے ووٹ ڈالے۔ بی جے پی کی دیویانی سنگھ رانا نے 42,350 ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کرکے جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی (انڈیا) کے ہرش دیو سنگھ کو شکست دی، جنہیں 17،703 ووٹ ملے۔ این سی کی شمیم بیگم 10,872 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہیں۔

ہرش دیو سنگھ کا کہنا ہے کہ انہوں نے بیک وقت دو حکومتوں کو شکست دی۔ ایک یہ کہ گورنر انتظامیہ نے انکی سیکیورٹی چھین کر بھاجپا امیدوار کو سیکیورٹی دی جبکہ انہوں نے حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کی امیدوار سے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔

نگروٹہ کی نمائندگی پچھلے دو ایک الیکشنز میں رانا خاندان کے حصے میں آئی۔ یہ سیٹ 1996 میں معرض وجود میں آئی تھی جس کے بعد بی جے پی نے چار بار یہ سیٹ جیتی ہے جبکہ این سی نے دو بار اس پر قبضہ کیا ہے جن میں وہ دور بھی شامل ہے جب دویندر رانا نیشنل کانفرنس کے اہم لیڈر اور عمر عبداللہ کے دست راست ہوا کرتے تھے۔

رانا نے چند برس قبل عمر عبداللہ سے ناطہ توڑ دیا اور بھاجپا میں شامل ہو گئے تھے۔ دویندر رانا مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جیتندر سنگھ کے چھوٹے بھائی تھے۔ انہوں نے بھاجپا ٹکٹ پر ۲۰۲۴ کا الیکشن جیتا تھا لیکن نتائج سامنے آنے کے چند روز بعد ہی انکا انتقال ہو گیا۔ 2024 میں دیویندر سنگھ رانا 48,113 ووٹوں، یا تقریباً 65 فیصد ووٹوں کے ساتھ جیت گئے تھے۔ وہیں ان کی دختر دیویانی رانا کا حصہ گر کر 57.36 فیصد رہ گیا، جو 7 فیصد کم ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ تفاوت کا یہ فیصد زیادہ تر ہرش دیو سنگھ کی جھولی میں گیا ہے جس نے تقریباً 24 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

یہ بھی پڑھیں:

  1. پی ڈی پی کی نظر میں بڈگام انتخابات ’عمر عبداللہ حکومت کے خلاف عوامی فیصلہ‘
  2. بڈگام اسمبلی نشست پر این سی کو پہلی مرتبہ شکست، ڈی پی امیدوار آغا منتظر کامیاب
  3. نگروٹہ اسمبلی نشست پر بی جے پی امیدوار دیویانی رانا نے جیت درج کی