ETV Bharat / jammu-and-kashmir
'کتاب' ایک ایسا استاد ہے جو انسان کو غور و فکر اور سوال کرنے کا سلیقہ عطا کرتا ہے
واضح رہے کہ چنار بک فیسٹیول میں انگلش، اردو، کشمیری، ہندی، ڈوگری اور دیگر زبانوں کی کتابوں والے تقریباً 200 اسٹالز قائم کیے گئے ہیں۔

Published : July 19, 2026 at 12:22 PM IST
سرینگر: (پرویز الدین) نیشنل بک ٹرسٹ، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، زارت تعلیم، حکومت ہند اور ضلع انتظامیہ سرینگر کی مشترکہ کاوشوں سے چنار بُک فیسٹیول کے تیسرے ایڈیشن کا آغا ہوا۔ جموں و کشمیر کے لیفٹینٹ گورنر منوج سنہا نے سنیچر کے روز قومی سطح کے اس کتاب میلے کا باضابطہ طور افتتاح کیا۔
ڈل جھیل کے کنارے ایس کے آئی سی سی سرینگر میں منعقدہ 9 روزہ بک فیسٹیول میں انگریزی، اردو، کشمیری، ہندی، ڈوگری اور دیگر زبانوں کی کتابوں تک رسائی فراہم کرنے والے دو سو سے زائد اسٹالز قائم کیے گئے جب کہ تقریباً 250 کتب فروش اور ناشرین اس میں شرکت کر رہے ہیں، نیز شائقین کتب کی کثیر تعداد اس میلے کے تئیں غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ طلبہ، اساتذہ، والدین، ادیب اور محبان اردو کے ساتھ ساتھ دیگر شعبہ جات سے وابستہ لوگوں کی بڑی تعداد کتاب میلے شرکت کر کے اسے علم و ادب کا یادگار منظرنامہ بنا رہے ہیں۔

فکشن نگار پرویز مانوس کہتے ہیں کہ کتب بینی کا رجحان دن بدن کم ہوتا جا رہا ہے۔ لکھنے والے زیادہ ہیں اور پڑھنے والے بے حد کم۔ موجودہ ڈیجیٹل اسکرینوں کے تسلط والے دور میں اس فیسٹیول کو کتابوں کی جانب ایک مثبت واپسی کی علامت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کتاب محض معلومات کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسا استاد ہے جو انسان کو غور و فکر اور سوال کرنے کا سلیقہ عطا کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ای کتب کی افادیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ لیکن کاغذ کی خوشبو، ورق پلٹنے کی مخصوص آواز اور ذہنی یکسوئی جیسا تجربہ صرف روایتی کتاب ہی فراہم کرتی ہے۔

اس کتاب میلے میں جہاں مختلف طبقہ ہائے فکر کے لوگ کتابیں خرید ریے ہیں، وہیں مختلف علمی اور ثقافتی پروگرامز سے بھی یہاں لوگ محظوظ ہوں گے۔ شام کے اوقات میں یہاں الگ الگ موضوعات پر مذاکروں کے علاوہ رنگا رنگ موسیقی کے پروگرام بھی پیش کیے جائیں گے۔ جب کہ میلے میں مشاعرے، شام غزل، صوفیانہ کلام، بچوں کے پروگرامز اور معروف مصنفین سے ملاقات جیسی ہمہ جہت سرگرمیاں بھی جاری رہے گی۔ ایسے میں یہ ادبی میلہ نہ صرف کتب بینی کے شوقین کے لیے بلکہ یہ فن، ادب، اور موسیقی سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بھی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔

اسٹال مالکان اور ملک کے نامور پبلیشز کہتے ہیں کہ ہم نے شائقین کتب کے مزاج کو بھاپنتے ہوئے ہم نے یہاں کتابیں دستیاب رکھی ہوئی ہیں۔ مذہب سے لے کر ملک اور تاریخ سے لے کر کہانیوں تک کی مختلف اور منفرد کتابیں رکھی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ خاص طور پر طلبہ 'چنار بک فیسٹول' کے تئیں دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

ملک کے دیگر پبلیشز کے ساتھ ساتھ محکمہ آرکالوجی سروے آف انڈیا کی جانب سے یہاں ایک اسٹال لگایا گیا تاکہ لوگ خاص کر نوجوان نسل ملک کی تہذیبی تاریخ اور آثار قدیمہ سے آشنا ہو جائے۔ ایسے میں تاریخی اور آثار قدیمہ سے متعلق کتابوں کو خریدنے میں لوگوں نے کافی دلچسپی دکھائی اور بہتر درعمل دیکھنے کو ملا۔ اسٹال مالک محمس شہزاد کا کہنا ہے کہ مطالعہ ایک ایسا عمل ہے جو ہر بار نئی معنویت اور مختلف تجربات سے ہمکنار کرتا ہے۔‘

چنار بُک فیسٹیول کے منتظمین کہتے ہیں کہ ’’ہمارا مقصد کتاب سے رشتہ جوڑنا ہے۔ بچوں میں تحقیق، تخلیق اور تنقیدی سوچ پیدا کرنے کے لیے کتب بینی انتہائی ضروری ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر طالب علم کم از کم روزانہ 20 منٹ کتابوں کے ساتھ گزارے۔ واضح رہے کہ 9 روزہ یہ بُک فیسٹیول 18 جولائی سے شروع ہوکر 26 جولائی تک جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں:
قومی کتاب میلہ سرینگر میں 18سے 26جولائی تک ہوگا منعقد
ساہتیہ اکادمی کے پیوپل اینڈ بُکس پروگرام میں غلام نبی آتش کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین
بزم شعر و ادب شمالی کشمیر نے سوپور میں ایک روزہ ادبی کانفرنس اور اعزازات کی تقریب کا انعقاد کیا
سرینگر میں ادبی تقریب معنقد، کشمیر شعری مجموعے کی رسم رونمائی انجام
مراز ادبی سنگم کی گولڈن جوبلی،ادیبوں اور شعراء کو سراہا گیا، دو کتابوں کی رسم رونمائی

