ETV Bharat / jammu-and-kashmir

ایک لاکھ نوکریاں دینے والا عمرعبداللہ 24 ہزار نوکریاں کسے دے رہا ہے؟ سنیل شرما

شرما نے دفعہ370کو تاریخ کا حصہ قرار دیتے ہوئے این سی پر خصوصی درجہ کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دینے کا الزام عائد کیا۔

سنیل شرما
سنیل شرما (اے این آئی)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : February 21, 2026 at 4:57 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر (پرویز الدین) : حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر سنیل شرما نے حکمراں نیشنل کانفرنس (این سی) پر لوگوں کو گمراہ کن آئینی اصطلاحات سے الجھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے حکومت کو چیلنج کیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے لئے ’’خصوصی درجہ‘‘ کے بارے میں اپنے دعووں کو ثابت کرے۔

سنیل شرما سرینگر میں پریس نمائندوں سے مخاطب (ای ٹی وی بھارت)

ایس کے آئی سی سی، سرینگر میں ہفتے کو بھاجپا کی جانب سے منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے سنیل شرما نے کہا کہ انہوں نے اسمبلی میں حکومت کو کھلا چیلنج کیا ہے کہ وہ یہ ظاہر کرے کہ آئین میں ’’خصوصی حیثیت‘‘ کی اصطلاح کا ذکر اس انداز میں کیا گیا ہے جس طرح اسے پیش کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے دہرایا کہ ’’دفعہ 370 اب تاریخ ہے‘‘ اور اس کی بحالی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ 2024 کے اسمبلی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے شرما نے الزام عائد کیا کہ نیشنل کانفرنس نے دفعہ 370 کو بحال کرنے کے نام پر ووٹ مانگے تھے لیکن بعد میں کہا کہ وہ مرکز میں بی جے پی سے حمایت کی توقع نہیں کر سکتی۔

انہوں نے کہا: ’’عوام کو ضرور پوچھنا چاہیے کہ خصوصی حیثیت کی اصطلاح کے تحت کیا وعدہ کیا جا رہا ہے؟‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی نعروں کے ذریعے آئینی عہدوں کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

حزب اختلاف کے لیڈر سنیل شرما نے این سی کی قیادت پر برسوں سے متضاد موقف اپنانے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ جب وہ عوامی طور پر بی جے پی کی تنقید کرتی ہے، وہی جماعت ماضی میں سیاسی طور پر اس کے اتحادی رہی ہے۔ شرما نے مزید کہا کہ قانون سازی کی کارروائی کو اب عوام قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی مباحثوں تک ڈیجیٹل رسائی کی وجہ سے شفافیت میں اضافہ ہوا ہے۔

اپنے خطاب کے دوران انہوں نے روزگار اور بجلی سے متعلق وعدوں پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ انتخابات کے دوران این سی کی جانب سے کئے گئے وعدوں سے متعلق وضاحت اور جوابدہی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ آئینی اور حکمرانی سے متعلق مسائل کو نچلی سطح تک لے جائیں اور کہا کہ بی جے پی اسمبلی کے اندر اور باہر حکومت سے سوال کرتی رہے گی۔

سنیل شرما نے الزام عائد کیا کہ ’’24 ہزار نوکریاں باہر کی نجی کمپنی کو فروخت کی گئی ہیں۔ جموں وکشمیر کے نوجوانوں کو ایک لاکھ نوکریاں دینے والی نیشنل کانفرس حکومت یہاں کے بے روزگار نوجوانوں کو دھوکہ دے رہی ہے اور 24 ہزار نوکریاں نجی کمپنی کے سپرد کرنے کا یہ فیصلہ جموں وکشمیر کے نوجوان کے خوابوں کو چکنا چور کر رہا ہے۔

انہوں نے آگاہ کرتے ہوئے این سی حکومت سے کہا کہ ’’اس فیصلہ کو جلد از جلد واپس لیجئیے۔ ورنہ نیشنل کانفرنس کو لوگوں خاص کر نوجوانوں کے غصے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہر جگہ پر حکومت سے یہ سوال پوچھا جائے گا کہ ایک لاکھ نوکریاں دینے والا عمر عبداللہ 24 ہزار کس کے حوالے کرنے جارہا ہے۔‘‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’بی جے پی، موجودہ عمر عبداللہ سرکار کو بے نقاب کرے گی۔ خاص کر اس روز گار کے لیے جس کے لیے انہوں نے انتخابات میں لوگوں سے ووٹ حاصل کیے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:

  1. نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی کا بی جے پی کے تئیں دوہرا معیار: سنیل شرما
  2. اپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا اسمبلی میں ملکی مفاد کے خلاف بیانات حذف کرنے کا مطالبہ