ETV Bharat / jammu-and-kashmir
بشیر احمد ویری کے خلاف وزیر اعلی کے تلخ جملوں پر بجبہاڑہ کی عوام کا ردعمل
مجموعی طور پر عوامی حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ بجلی کے مسئلے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔

Published : February 21, 2026 at 8:51 PM IST
اننت ناگ، (میر اشفاق): وزیر اعلی عمر عبداللہ کی جانب سے بجلی نرخوں کے مبینہ اضافے کے معاملے پر ایم ایل اے بشیر احمد ویری کے خلاف اسمبلی میں تلخ جملوں کے استعمال پر بجبہاڑہ سریگفوارہ حلقہ میں عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔ مقامی لوگوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے اندازِ بیان پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک منتخب عوامی نمائندہ کی تضحیک دراصل اس حلقے کے عوام کی بے عزتی کے مترادف ہے جنہوں نے انہیں اپنی آواز بنا کر ایوان میں بھیجا ہے۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر بشیر احمد ویری کو لاکھوں عوام نے اپنے مسائل اور مطالبات کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا ہے، اس لیے ان کا حق اور ذمہ داری ہے کہ وہ بجلی جیسے بنیادی مسئلے کو اسمبلی میں اجاگر کریں۔ عوامی حلقوں کے مطابق اگر وہ اپنے حلقے کے جائز مطالبات پیش کرتے ہیں تو اس پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے، نہ کہ غیر مناسب یا طنزیہ انداز اختیار کیا جائے۔
بجبہاڑہ سے تعلق رکھنے والے محمد اشرف بٹ نے کہا کہ انہیں وزیر اعلیٰ کے اس رویے سے مایوسی ہوئی ہے کیونکہ وہ اس نوعیت کے ردعمل کی توقع نہیں رکھتے تھے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک ایم ایل اے کا نہیں بلکہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد عوام کے وقار کا ہے جنہوں نے نیسنل کانفرنس پر اعتماد کرتے ہوئے اپنا ووٹ دیا۔
اسی طرح لطیف احمد کھانڈے نے کہا کہ بجلی یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ آئے روز نرخوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ بلا تعطل سپلائی یقینی نہیں بنائی جا رہی۔ عام صارفین کے کنکشن بقایاجات کی بنا پر کاٹے جا رہے ہیں لیکن سرکاری اداروں کے کروڑوں روپے واجب الادا ہونے کے باوجود اس پر کوئی سخت کارروائی نہیں ہو رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایم ایل اے نے یہ مسئلہ ایوان میں اٹھایا تو انہیں معقول اور سنجیدہ جواب ملنا چاہیے تھا۔
مجموعی طور پر عوامی حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ بجلی کے مسئلے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور آئندہ ایسے معاملات میں باوقار اور تعمیری مکالمے کو ترجیح دی جائے تاکہ عوامی اعتماد بحال رہ سکے۔ واضح رہے کہ سریگفوارہ بجبہاڑہ حلقہ سے منتخب ایم ایل اے ڈاکٹر بشیر احمد ویری نے حالیہ دنوں ایوان میں کہا کہ ان کے حلقے میں بجلی نرخوں میں اضافے کے خلاف روزانہ احتجاج ہو رہے ہیں جس پر انہیں عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کا حلقہ سیاسی طور پر کافی حساس ہے جہاں اپوزیشن کی خاص توجہ رہتی ہے، اس لیے تمام دباؤ انہیں ہی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ویری کے مطابق بجلی بقایہ جات کا بوجھ عام لوگوں پر ڈالا جا رہا ہے جبکہ سرکاری اور سیکورٹی اداروں کے کروڑوں روپے واجب الادا ہیں۔
اس پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جواب دیا کہ بجلی نرخوں میں کوئی من مانی اضافہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی رکن اسمبلی کے خلاف کوئی جانبداری برتی جا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہر رکن اسمبلی کو عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایک رکن کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق ’ہم سب پہلے ایم ایل اے ہیں، بعد میں وزیر بنتے ہیں، اس لیے عوام کی بات سننا ہماری ذمہ داری ہے۔عمر عبداللہ نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ’ویری رات کو سکون سے سوئیں، کیونکہ نیند پوری نہ ہونے سے حادثات بھی پیش آ سکتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ چند روز قبل بشیر احمد ویری ایک حادثے کے بعد جموں کے اسپتال میں زیر علاج رہے تھے، جہاں وزیر اعلیٰ سمیت کئی وزراء اور ارکان اسمبلی نے ان کی عیادت کی تھی۔

