ETV Bharat / jammu-and-kashmir
گرمی سے پریشان سیلانیوں کے لیے گریز پسندیدہ سیاحتی مقام
ملک کے مختلف حصوں میں شدید گرمی کے دوران سیاح شمالی کشمیر کی گریز ویلی اور رازدان پاس جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : June 4, 2026 at 3:20 PM IST
بانڈی پورہ (اعجاز نازکی): بھارت کی بیشتر ریاستوں میں اس وقت گرمی کی لہر جاری ہے جبکہ متعدد شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر چکا ہے۔ ایسے میں کشمیر کے بلند و بالا پہاڑی سیاحتی مقامات پر غیر معمولی تعداد میں سیاح پہنچ رہے ہیں۔ شمالی کشمیر کی دور افتادہ گریز ویلی اور رازدان پاس جیسے علاقے جھلسا دینے والی گرمی سے بچنے کے لیے سیاحوں کی پہلی پسند بنتے جا رہے ہیں۔
روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں گاڑیاں سیاحوں کو لے کر گریز ویلی پہنچ رہی ہیں۔ ان میں سے بہت سے سیاح رازدان پاس پر قیام کرتے ہیں، جہاں جون کے آغاز کے باوجود اب بھی برف جمی ہوئی نظر آتی ہے۔ خوشگوار موسم، دلکش قدرتی مناظر اور گرمیوں میں برف کا یہ منفرد نظارہ سیاحوں کو مسحور کر دیتا ہے۔ علاوہ ازیں اس علاقے میں سیاحتی سرگرمیاں بھی بڑھ رہی ہیں۔
ممبئی سے آئی ایک خاتون سیاح نے بتایا کہ جہاں ممبئی میں چالیس ڈگری درجہ حرارت لوگوں کو جھلسا رہا ہے، وہیں کشمیر میں اس وقت ہلکی برفباری سے لطف اندوز ہونا کسی جنت نما نظارے سے کم نہیں۔ انہوں نے ملک کے سبھی شہریوں کو کشمیر آنے اور یہاں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل کی۔
گریز کی سیر پر آئے ایک اور سیلانی نے کہا: "ہمارے علاقے میں لوگ شدید گرمی کی وجہ سے گھروں سے باہر نکلنے سے بھی کتراتے ہیں، جبکہ یہاں موسم خوشگوار ہے اور فلک بوس پہاڑ برف سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ کشمیر گرمی سے بچنے کے لیے بہترین مقام ہے۔"
یہ بھی پڑھیں:
وندے بھارت ٹرین سے کشمیری کیب آپریٹرز کو سیاحت کے فروغ کی امید، جموں کے ڈرائیورز میں تشویش

