ETV Bharat / jammu-and-kashmir
’تکبر تباہی ہے‘ بڈگام میں این سی کی ہار پر آغا روح اللہ کا رد عمل
پی ڈی پی کی فتح کا جشن آغا روح اللہ کے حامیوں نے بڈگام میں ان کا فوٹو ہاتھوں میں لئے ہوئے برملا طور پرکیا۔

Published : November 14, 2025 at 8:00 PM IST
سرینگر: بڈگام ضمنی انتخاب میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ہاتھوں نیشنل کانفرنس (این سی) کی شکست کے چند منٹ بعد ہی پارٹی کے رکن پارلیمان آغا روح اللہ مہدی نے ایک دوٹوک پیغام جاری کر دیا جس میں انہوں نے این سی کی ہار کو ’تکبر‘ کے ساتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ ’’تکبر تباہی کی جڑ ہے۔‘‘ آغا روح اللہ نے گزشتہ برس این سی کی ٹکٹ پر لوک سبھا الیکشن میں جیت حاصل کی تاہم ان کے اور پارٹی کے مابین رسہ کشی اب عوامی سطح پر عیاں ہو چکی ہے۔
روح اللہ نے قرآنی کی ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’’تکبر انسان کو بربادی کی طرف لے جاتا ہے، جبکہ ہوش، عاجزی اور خود احتسابی ہی اصل راستہ ہے۔‘‘ گرچہ انہوں نے نام لے کر نہ اپنی پارٹی کا ذکر کیا اور نہ وزیراعلیٰ کا، لیکن ان کا اشارہ صاف طور پر نیشنل کانفرنس اور اس کی قیادت ہی کی طرف سمجھا گیا۔
Quran:
— Aga Syed Ruhullah Mehdi (@RuhullahMehdi) November 14, 2025
I will turn away from My signs those who are arrogant upon the earth without right; and if they should see every sign, they will not believe in it. And if they see the way of consciousness, they will not adopt it as a way; but if they see the way of error, they will adopt…
ممبر پارلیمنٹ روح اللہ نے اپنے ماموں اور این سی امیدوار آغا سید محمود کی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیا، اور نہ ہی ووٹ ڈالا بلکہ انتخاب کے روز وہ سرکاری دورے پر جرمنی میں تھے۔ گیارہ نومبر کو منعقد ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج جمعہ کو مشتہر ہوئے جس جس میں دونوں نشستوں پر ووٹرز کے بدلتے رجحانات صاف دکھائی دے رہے ہیں۔
بڈگام میں این سی کی شکست اور پی ڈی پی کی کامیابی کے فوراً بعد بڈگام ٹاؤن میں پی ڈی پی حامیوں کے ساتھ ساتھ آغا روح اللہ کے حامیوں نے بھی نہ صرف جشن منایا بلکہ آغا روح اللہ کے حق میں نعرے بازی بھی کی۔ وہیں آغا روح اللہ نے بھی فوری طور پر رد عامل ظاہر کرتے ہوئے سماجی رابطہ گاہ پر این کا نام لئے بغیر ان کی سخت مذمت کی۔
انہوں نے سورۃ الاعراف کی ایک آیت کا ترجمہ نقل کیا: ’’جو لوگ زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں، میں اُن کو اپنی نشانیوں سے محروم کر دیتا ہوں… وہ ہدایت کا راستہ دیکھیں تو بھی اختیار نہیں کرتے، جبکہ گمراہی کا راستہ دیکھتے ہیں تو اسی کو اپنا لیتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلا دیا اور وہ غفلت میں رہے۔‘‘
بڈگام میں آغا محمود کو پی ڈی پی کے امیدوار آغا سید منتظر کے ہاتھوں شکست دی میں یہ بھی دلچسپ ہے کہ دونوں ایک ہی ’آغا‘ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور آپس میں قریبی رشتے دار ہیں۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آغا روح اللہ کے اس طرز عمل کو ’سیاسی خودکشی‘ سے تعبیر کرتے ہوئے پارٹی میں کئی تبدیلیوں کا عندیہ دیا۔ ادھر، این سی حکومت کی ساجھے دار کانگریس پارٹی، کے جموں و کشمیر یونٹ صدر طارق حمید قرہ نے کہا کہ ’’انتخابی نتیجہ اس ناراضگی کی عکاسی کرتا ہے جو عوام کو اس بات پر ہوئی کہ وزیر اعلیٰ نے بڈگام چھوڑ کر گاندربل کی نشست برقرار رکھی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’لوگ حکومت سے کارکردگی نہ دکھائے جانے پر ناراض ہیں۔‘‘
بھاجپا لیڈر اور اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن سنیل شرما نے بھی بڈگام میں این سی کی شکوت کو ’’عبداللہ خاندان کی شکست‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا ’’صرف ایک سال میں ہی نوجوان، خواتین اور عام لوگ عمر عبداللہ سے ناراض ہو چکے ہیں۔ اس خاندان نے صرف اقربا پروری اور بدعنوانی کو فروغ دیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں:

