ETV Bharat / jammu-and-kashmir
موسمی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے وادی میں آبی حیات متاثر، کوکرناگ ٹراؤٹ فارم تاحال محفوظ
موسمی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے آبی حیات متاثر، تاہم کوکرناگ ٹراؤٹ فارم تاحال محفوظ

Published : February 24, 2026 at 6:30 PM IST
اننت ناگ: “جل ہے تو زندگی ہے” یہ محض ایک مقولہ نہیں بلکہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور آبی حیات خصوصاً مچھلیاں مکمل طور پر اسی پر انحصار کرتی ہیں۔ گزشتہ ایک برس کے دوران موسمی تغیر اور گلوبل وارمنگ کے اثرات وادیٔ کشمیر میں واضح طور پر محسوس کیے گئے۔ نہ مناسب برفباری ہوئی اور نہ ہی خاطر خواہ بارشیں، جس کے باعث دریاؤں، ندی نالوں اور چشموں میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی۔
پانی کی قلت کے ساتھ ساتھ آلودگی اور گندگی نے بھی آبی ذخائر کو شدید متاثر کیا۔ مختلف علاقوں میں مچھلیوں کی پراسرار ہلاکت کے واقعات سامنے آئے، جس سے نہ صرف ماحولیاتی ماہرین بلکہ عوام میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ بالخصوص ضلع اننت ناگ کے مارٹنڈ سوریا مندر کے اطراف آبی ذخائر، نالہ لدر کے بعض حصوں اور ضلع کے دیگر مقامات پر بڑی تعداد میں مردہ مچھلیاں پائی گئیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق پانی کی کم ہوتی سطح اور اس میں شامل آلودہ مواد اس صورتحال کی بنیادی وجوہات ہیں۔
اننت ناگ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات کے بعد یہ خدشات سامنے آ رہے تھے کہ کہیں موسمی تبدیلیوں کے منفی اثرات ایشیا کے سب سے بڑے ٹراؤٹ فش فارم کو بھی متاثر نہ کر دیں۔ ان اندیشوں کے پیشِ نظر ای ٹی وی بھارت نے ضلع اننت ناگ کے مشہور و معروف کوکرناگ ٹراؤٹ فش فارم کا تفصیلی جائزہ لیا۔ کوکرناگ اپنی زرخیز زمین، خوشگوار موسم اور وافر قدرتی آبی وسائل کی بدولت ملک بھر میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ یہی خصوصیات اس علاقے کو ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش کے لیے نہایت موزوں بناتی ہیں۔
ڈپٹی انسپکٹر فشریز سید منظور احمد کا کہنا ہے کہ حالیہ موسمی تغیرات کے باوجود فارم میں انتظامیہ کی جانب سے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ مچھلیوں کی افزائش اور معیار پر کسی قسم کا منفی اثر نہ پڑے۔ جائزے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ فارم میں پانی کے بہاؤ، درجہ حرارت اور صفائی کے نظام پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق موجودہ حالات میں بھی پیداوار معمول کے مطابق جاری ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر حفاظتی اور سائنسی بنیادوں پر اقدامات جاری رہے تو کوکرناگ کا یہ اہم ٹراؤٹ فش فارم آئندہ بھی اپنی کارکردگی برقرار رکھنے میں کامیاب رہے گا۔ انہوں کہا کہ متعلقہ عملہ مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔ پانی کے معیار کی باقاعدہ جانچ، صفائی ستھرائی اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ ٹراؤٹ فارم کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فارم نہ صرف خطے کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے بلکہ سیاحتی اور ماحولیاتی لحاظ سے بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔
وہی چیف پروجیکٹ آفیسر سجاد احمد نے اس موقع پر بتایا کہ کوکرناگ ٹراؤٹ فارم قدرتی چشموں (نیچرل اسپرنگز) سے منسلک ہے، جس کی وجہ سے یہاں پانی کی فراہمی تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور پانی کی سطح میں کوئی تشویشناک کمی واقع نہیں ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دیگر علاقوں میں مچھلیوں کی ہلاکت کی بنیادی وجوہات آلودگی، گندگی اور پانی کی کم ہوتی مقدار ہیں، جبکہ کوکرناگ میں صورتحال ان چیزوں کے برعکس ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پابندی کے باعث ’ایپل ویلی‘ میں تجارتی سرگرمیاں ٹھپ - KASHMIR TOURISM AFFECTED
مجموعی طور پر اگرچہ موسمی تبدیلیوں نے وادی کے آبی نظام کو متاثر کیا ہے، تاہم کوکرناگ کا ٹراؤٹ فش فارم قدرتی وسائل اور مؤثر نگرانی کی بدولت فی الحال محفوظ ہے، جو ایک حوصلہ افزا امر ہے۔

