ETV Bharat / jammu-and-kashmir
بجلی بل میں اضافے کے خلاف شوپیان میں اپنی پارٹی کا زوردار احتجاج، حکومت سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ
احتجاج کے دوران اپنی پارٹی کے ضلع صدر گوہر حسن وانی نے کہاکہ یکم ستمبر کا بجلی بوجھ غریبوں کا ماہانہ بجٹ بگاڑ دے گا۔

Published : August 26, 2026 at 1:59 PM IST
شوپیان: (شاہد ٹاک) جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں جموں و کشمیر اپنی پارٹی کی جانب سے بجلی کے بلوں میں مجوزہ اضافے کے خلاف ایک زوردار احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج میں اپنی پارٹی کے ضلع شوپیان یونٹ سے وابستہ عہدیداروں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور موجودہ حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
یہ احتجاج اپنی پارٹی کے شوپیان میں واقع ضلع پارٹی دفتر کے سامنے منعقد کیا گیا، جہاں مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عام صارفین پر بجلی کے بلوں کا مزید مالی بوجھ ڈالنے کے فیصلے پر فوری طور پر نظرثانی کی جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے عام لوگ پہلے ہی مہنگائی اور معاشی مشکلات سے دوچار ہیں، ایسے میں بجلی کے نرخوں میں مزید اضافہ عوام کی مشکلات کو بڑھا دے گا۔
مظاہرین نے موجودہ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے دوران عوام سے متعدد وعدے کیے گئے تھے اور لوگوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ حکومت اقتدار میں آنے کے بعد بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوام کی مشکلات کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔ تاہم، مظاہرین کے مطابق زمینی صورت حال اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے اور بجلی جیسے بنیادی شعبے میں بھی عام صارفین کو اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
متعلقہ خبر: ہماری حکومت میں بجلی کے نرخوں میں مزید اضافہ نہیں ہوگا، عمر عبداللہ
اپنی پارٹی کے کارکنوں نے کہا کہ بجلی ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ براہِ راست غریب، متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو متاثر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گھریلو صارفین کے لیے پہلے ہی بجلی کے بھاری بل ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں، جبکہ یکم ستمبر سے بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے کی صورت میں عوام پر اضافی بوجھ پڑے گا۔
مظاہرین نے مرکزی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف عوام مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر معاشی مشکلات سے نبردآزما ہیں، جب کہ دوسری جانب بجلی کے بلوں میں اضافہ عام خاندانوں کے ماہانہ بجٹ کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی بل اضافہ این سی سرکار کی ایک اور ناکامی: رفیق احمد نائیک
اس موقعے پر مظاہرین نے حکومت سے پرزور اپیل کی کہ بجلی کے بلوں میں مجوزہ اضافے کے فیصلے کو واپس لیا جائے اور عوام کو مزید مالی مشکلات سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بجلی کے نرخوں میں اضافے کے فیصلے پر نظرثانی نہیں کی گئی تو اپنی پارٹی کی جانب سے جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھی احتجاجی پروگراموں میں شدت لائی جائے گی۔
احتجاج کے دوران اپنی پارٹی ضلع شوپیان کے صدر گوہر حسن وانی اور دیگر پارٹی کارکنان نے شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ پارٹی عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور لوگوں کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچانے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔

