ETV Bharat / jammu-and-kashmir
کشمیری شعیہ لیڈر نے مظاہرین سے کی امام بارگاہوں میں سوگ منانے کی اپیل
امریکہ، اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کے خلاف جموں و کشمیر میں شیعہ برادری کا احتجاج جاری ہے۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : March 2, 2026 at 4:07 PM IST
|Updated : March 2, 2026 at 4:13 PM IST
سرینگر: وادی کشمیر میں حکام کی جانب سے پابندیوں اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے خلاف شیعہ برادی کی جانب جاری احتجاج اور مظاہروں کے بیچ، شعیہ رہنما اور سابق وزیر نے شعیہ آبادی سے صرف "اپنے علاقوں میں ہی سوگ کو محدود ر"کھنے کی اپیل کرتے ہوئے "جذبات کو غلط استعمال نہ ہونے دینے" کی بھی تاکید کی ہے۔
We are in acute shock and unbearable grief at the martyrdom of Shaheed Ayatullah al-Uzma Sayyid Ali Hussaini Khamenei (RA). A part of our body, a part of our soul feels torn away. The pain is not of one nation alone , it is felt by Shias and all lovers of truth across the world.…
— Imran Reza Ansari (@imranrezaansari) March 2, 2026
سابق وزیر اور آل جموں و کشمیر شعیہ ایسوسی ایشن کے صدر عمران رضا انصاری نے کہا ہے کہ جذبات کو غلط سمت میں جانے کی اجازت دینے کے بجائے، اپنے علاقوں کے مقامی امام بارگاہوں میں مجالس، مرثیہ، اور اجتماعات منعقد کریں۔
عمران انصاری نے سماجی رابطہ گاہ ایکس پر لکھا: "ہم ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں قتل کیے جانے پر شدید صدمے اور ناقابل برداشت غم میں ہیں۔ ہمارے جسم کا ایک حصہ، ہماری روح کا ایک حصہ ٹوٹ گیا ہے۔ یہ درد صرف ایک قوم کا نہیں، بلکہ شعیوں اور دنیا بھر میں حق کے چاہنے والوں کا ہے۔ کل کوئی مومن (شیعہ) گھر پر سکون سے نہیں بیٹھ سکا؛ ہر دل غمزدہ تھا۔"
انہوں نے کشمیری شعیہ نوجوانوں سے اپیل کی: "ہمارا یہ غم مقدس ہے۔ آئیں اس غم کا عزت کے ساتھ اظہار کریں۔ اپنے مقامی امام بارگاہوں اور اپنے علاقوں میں مجالس، مرثیہ، اور اجتماعات منعقد کریں۔ سوگ کو اپنے اپنے علاقوں تک محدود رکھیں۔ جذبات کو غلط استعمال یا کسی ایسی سمت میں موڑنے کی اجازت نہ دیں جو ہماری کمیونٹی کو نقصان پہنچائے۔ اگر انتظامیہ نے نوٹس جاری کیے ہیں تو ہمیں ان پر عمل کرنا چاہیے۔ نظم و ضبط بھی عزاداری کا حصہ ہے۔"
عمران نے پیر کے روز سرینگر اور دیگر شعیہ اکثریتی والے علاقوں میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کے دوران جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنے کی ستائش کی۔ "قابل تعریف مظاہرہ تھا، یہ وقت کمیونٹی کے لیے ایک انتہائی جذباتی وقت ہے، اور حساس طریقے سے ہینڈل کرنے سے امن برقرار رہے گا اور سوگواروں کے جذبات کا احترام بھی ہوگا۔ ہمارے آنسو ہی ہمارا احتجاج ہیں۔ ہماری مجلس ہماری مزاحمت ہے۔ آئیں ہم اتحاد، صبر، اور ذمہ داری کے ساتھ سوگ منائیں۔"
کشمیر بھر میں اتوار کو خامنہ ای کے قتل کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ سری نگر شہر کے گھنٹہ گھر کے نزدیک شیعہ احتجاجی جمع ہوئے اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی۔ تاہم، حکام نے مزید مظاہروں کو روکنے کے لیے آج سرینگر اور دیگر علاقوں میں پابندیاں عائد کر دیں۔ پولیس اور نیم فوجی دستے سڑکوں اور دیگر اہم چوراہوں پر تعینات کیے گئے تاکہ مظاہرین کو لال چوک پہنچنے سے روکا جا سکے۔
یہ بھی بھی پڑھیں:

