ETV Bharat / jammu-and-kashmir
جموں کشمیر میں سرگرم سات ملی ٹنٹس کا نیٹ ورک ختم، سکیورٹی فورسز کا مشترکہ آپریشن کامیاب
فوجی بیان کے مطابق یہ آپریشن تقریبا گیارہ ماہ تک جاری رہا اور اس دوران سیکورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : February 23, 2026 at 11:52 AM IST
|Updated : February 23, 2026 at 3:26 PM IST
جموں (محمد اشرف گنائی) : صوبہ جموں کے پہاڑی ضلع کشتواڑ میں چھاترو کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں سکیورٹی فورسز نے ایک طویل اور مشترکہ آپریشن کے دوران سات دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ فوج کے وائٹ نائٹ کور کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ 326 دنوں سے جاری تعاقب اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی۔
فوج کی جانب سے جاری کیے گئے کے ایک بیان کے مطابق شدید سردی، برف باری اور مشکل جغرافیائی حالات کے باوجود فوج، جموں و کشمیر پولیس اور سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے مربوط حکمت عملی کے تحت دہشت گردوں کا سراغ لگایا۔ سکیورٹی ایجنسیز کے مضبوط انٹیلی جنس نیٹ ورک کی مدد سے متعدد مقامات پر ان ملی ٹنٹس کے ساتھ کنٹیکٹ (آمنا سامنا) ہوا، اور مختلف تصادم آرائیوں کے کے بعد بالآخر تمام سات مطلوب دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
فوج نے مزید بتایا ہے کہ آپریشن کے دوران جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا جس میں ایف پی وی ڈرونز، سیٹلائٹ امیجری، آر پی اے/یو اے ویز اور جدید مواصلاتی نظام شامل تھے۔ ’’ان ذرائع نے پہاڑی علاقوں میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور کارروائی کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔‘‘
#𝗪𝗵𝗶𝘁𝗲𝗞𝗻𝗶𝗴𝗵𝘁𝗖𝗼𝗿𝗽𝘀 | #𝗚𝗮𝗹𝗹𝗮𝗻𝘁𝗣𝗲𝗿𝘀𝗲𝘃𝗲𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲
— White Knight Corps (@Whiteknight_IA) February 23, 2026
𝗘𝗹𝗶𝗺𝗶𝗻𝗮𝘁𝗶𝗼𝗻 𝗼𝗳 𝗧𝗲𝗿𝗿𝗼𝗿𝗶𝘀𝘁𝘀
Relentless and painstaking high-altitude joint operations were conducted over 326 days in the Kishtwar region. Forces tracked terrorists in challenging… pic.twitter.com/nIhH71RiOb
فوج نے اس ضمن میں جاری بیان میں مزید کہا ہے کہ ’’اس کارروائی کے دوران سیف اللہ اور اس کے ساتھیوں کو ہلاک کیا گیا۔‘‘ فوج کی اس کارروائی کو دہشت گرد نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
طویل آپریشن پر سیکورٹی فورسز کی مشتکہ پریس بریفنگ
آرمی ہیڈ کوارٹر، کشتواڑ، پر پیر کو ایک اہم پریس بریفنگ کے دوران سکیورٹی فورسز نے ضلع کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں جاری بڑے انسدادِ دہشت گردی آپریشن کی تفصیلات شیئرکیں۔ پریس کانفرنس، بریگیڈیئر سنیل مشرا،کمانڈر 9 سیکٹر راشٹریہ رائفلز اور سریدھر پاٹل، ڈی آئی جی ڈوڈہ-کشتواڑ-رامب ن نے شرکت کی۔
کوئنٹر انسرجنسی فورس ڈیلٹا، میجر جنرل اے پی ایس بال ڈیلٹا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں سرگرم ایک بڑے دہشت گرد گروہ کا سکیورٹی فورسز مسلسل تعاقب کر رہی تھی، اس سلسلے میں گزشتہ سال اپریل/مئی سے آپریشنز کا آغاز کیا گیا تھا جو شدید بارشوں اور برفباری کے باوجود سردیوں میں بھی جاری رہا۔ اپریل 2025 میں تین خطرناک دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا تھا تاہم گروہ کا سرغنہ جس کا کوڈ نام سیف اللہ ہے، اپنے قریبی ساتھی عادل اور دو دیگر دہشت گردوں کے ساتھ فرار ہونے میں کامیاب ہوا تھا۔
مشترکہ پریس کانفرنس میں مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے جی او سی ڈیلٹا نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس انٹیلی جنس بیورو اور دیگر ذرائع سے حاصل شدہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر 14 جنوری 2026 کو مشترکہ انسداد دہشت گردی آپریشن ’’آپریشن تراشی–I” کا آغاز کیا گیا۔ یہ آپریشن کاؤنٹر انسرجنسی فورس ڈیلٹا، وائٹ نائٹ کور کے تحت، آسام رائفلز، جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کے اشتراک سے شروع کیا گیا۔ اس دوران 18 جنوری 2026 کو دہشت گردوں سے پہلا آمنا سامنا ہوا اور ان کا مضبوط و منظم ٹھکانہ تباہ کر دیا گیا۔ مسلسل تعاقب کے نتیجے میں 4 فروری 2026 کو آپریشن تراشی-I کے دوران ایک دہشت گرد عادل کو ہلاک کیا گیا جبکہ اسی روز ایک علیحدہ کارروائی ’’آپریشن کیا‘‘ میں دو مزید دہشت گرد مارے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 4فروری کے بعد بھی فورسز نے بھرپور عزم کے ساتھ کارروائی جاری رکھی اور 22 فروری 2026 کو تقریباً صبح 11 بجے دوبارہ دہشت گردوں سے مڈبھیڑ ہوئی 21 اور 22 فروری کی درمیانی شب پہاڑی اور دشوار گزار علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا تھا جہاں آخری مقابلے میں تین دہشت گرد مارے گئے اور سکیورٹی فورسز نے بلند پیشہ ورانہ مہارت، باہمی ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کو کسی بھی ممکنہ فرار سے روکے رکھا کارروائی کے دوران رئیل ٹائم سرویلنس ڈرونز اور نائٹ وژن آلات کا استعمال کیا گیا جبکہ خصوصی دستوں کو فوری طور پر تعینات کیا گیا۔
اس طویل آپریشن کے دوران، سیکورٹی فورسز کے مطابق، خوش آئند بات یہ تھی کہ اس طویل المدتی آپریشن میں فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ آرمی کے تربیت یافتہ کتے ’’ٹائسن‘‘ کا کردار بھی قابل ذکر رہا، جس نے ایک ڈھوک میں داخل ہو کر دہشت گردوں کی موجودگی کی تصدیق کی۔ تاہم اس دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے ٹائسن زخمی ہوگیا۔
اسلحہ اور گولہ بارود کی ضبطی کے حوالہ سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علاقے کی تلاشی کارروائی کے دوران اب تک جنگی سازو سامان، بشمول تین اے کے 47 رائفلز اور دیگر اسلحہ برآمد کیا گیا۔ مارے گئے دہشت گردوں کی لاشیں بھی قبضے میں لے لی گئی ہیں۔
مشترکہ پریس کانفرنس میں مزید کہا گیا کہ وائٹ نائٹ کور کے تحت سی آئی ایف (ڈیلٹا) نے گزشتہ 20 دنوں کے دوران اپنے دائرہ اختیار میں پاکستان کی سرپرستی میں کام کرنے والے 6 دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:

