ETV Bharat / jammu-and-kashmir

سرینگر میں ریزرویشن مخالف مظاہرے سے قبل روح اللہ مہدی سمیت دیگر قائدین ہاؤس اریسٹ!

روح اللہ کے دفتر نے ہاؤس اریسٹ کا دعویٰ کرتے ہوئے بڈگام میں ان کے گھر کے باہر تعینات پولیس کی تصویر پوسٹ کی۔

بڈگام میں روح اللہ مہدی کے گھر کے باہر تعینات پولیس
بڈگام میں روح اللہ مہدی کے گھر کے باہر تعینات پولیس (Picture courtesy : X of Office of Aga Syed Ruhullah)
author img

By Mir Farhat Maqbool

Published : December 28, 2025 at 11:02 AM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: جموں و کشمیر انتظامیہ نے آج سرینگر میں ریزرویشن مخالف مظاہروں کو ناکام بناتے ہوئے سیاسی رہنماؤں کو گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی ہے۔

حکمراں جماعت، نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ نے کہا کہ سرینگر میں آج طے شدہ احتجاج سے قبل بڈگام میں ان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

روح اللہ نے ریزرویشن پالیسی کو معقول بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سرینگر کے پولو ویو پر واقع شیر کشمیر پارک میں ایک احتجاج اور دھرنا کا اعلان کیا تھا۔ وہ ریزرویشن سمیت دیگر مسائل پر عمر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


روح اللہ نے 'ہاؤس اریسٹ' کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ "نہ تو لوگوں کو میرے گھر میں داخل ہونے کی اجازت ہے اور نہ ہی اندر سے کسی کو باہر جانے کی اجازت ہے۔"

اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر روح اللہ کے آفس ہینڈل نے ہاؤس اریسٹ کا دعویٰ کرتے ہوئے سنیچر کی رات بڈگام میں ان کے گھر کے باہر پولیس کی تعیناتی کی تصاویر پوسٹ کیں۔

ان کے آفس نے ایکس پر لکھا کہ "رکن پارلیمنٹ روح اللہ مہدی کی رہائش گاہ کے باہر مسلح پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔ کیا یہ ایک پرامن، طلبہ کی حمایت میں ہونے والے مظاہرے کو خاموش کرنے کے لیے پیشگی کریک ڈاؤن ہے؟ اگر ہاں، تو اس سے اختلاف رائے سے (حکومت پر طاری) پریشان کن خوف کا پتہ چلتا ہے۔ حکام کو عوام کے سامنے اس بات کی وضاحت کرنی چاہیے کہ یہ تعیناتی کس لیے ہے۔ ہم اپنے کل کے منصوبے پر قائم ہیں۔"

وہیں پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید پرہ کے قریبی ساتھی عارف امین نے بھی دعویٰ کیا کہ آدھی رات کو پرہ کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ امین نے ایکس پر پوسٹ میں سوال کیا کہ طلباء کے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کو ویپنائز کیوں کیا جا رہا ہے؟ ۔

جموں و کشمیر حکومت یا ایل جی انتظامیہ نے ابھی تک ان رہنماؤں کی نظر بندی کے دعوؤں پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ روح اللہ مہدی نے آج ایک احتجاج اور دھرنے کا اعلان کیا تھا جو سرینگر کے ایس کے پارک میں منعقد ہونا تھا اور جہاں طلباء اور ریزرویشن مخالف کارکنوں کی شرکت متوقع تھی۔

اپنی ہی پارٹی کی زیر قیادت حکومت سے ناراض رکن پارلیمنٹ نے گذشتہ سال دسمبر میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کی قیادت کی تھی، جس پر وزیر اعلیٰ کے حامی کچھ این سی قانون سازوں کی کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔

اس سے قبل سماجی بہبود کی وزیر سکینہ ایتو نے منتخب حکومت کے خلاف آج کے اعلان کردہ احتجاج پر روح اللہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایتو نے کہا کہ حکومت نے ریزرویشن پالیسی کو معقول بنانے کی منظوری دے دی ہے اور اس کی منظوری کے لیے لیفٹیننٹ گورنر سے سفارش کی ہے۔ ایتو نے کہا کہ روح اللہ کو لوک بھون کے باہر احتجاج کرنا چاہیے۔

متعلقہ خبر:

طلبہ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ان کا مسئلہ ہر فورم پر اٹھائیں گے، آغا روح اللہ مہدی

جموں کشمیر ریزرویشن احتجاج کی ڈیڈ لائن برقرار، حکومت کی طرف سے ریزرویشن کوٹہ پر 'وضاحت کی کمی' بنی وجہ

این سی کی سی ڈبلیو سی میٹنگ: فاروق عبداللہ روح اللہ مہدی کے دفاع میں کھڑے ہو گئے