ETV Bharat / jammu-and-kashmir

آن لائن دھمکی کے بعد کشمیری پنڈت ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت

آن لائن دھمکیوں میں کشمیری پنڈت ملازمین کے نام ظاہر ہونے کے بعد پنڈتوں کو 15 اگست تک گھر سے کام کی ہدایت دی۔

ا
سرینگر میں پولیس اہلکار ایک گاڑی کی چیکنگ کرتےہوئے (ای ٹی وی بھارت)
author img

By Moazum Mohammad

Published : August 10, 2026 at 8:42 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: کشمیر میں پنڈت ملازمین کو آن لائن دہشت گردی کی دھمکی دیے جانے کے بعد سکیورٹی مزید بڑھا دی گئی ہے اور انہیں 15 اگست تک گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

یہ فیصلہ گزشتہ ماہ کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گرد حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ 22 جون کو جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں امرناتھ یاترا کی ڈیوٹی انجام دے رہے عاشق حسین قریشی نامی ایک پولیس اہلکار کو دن دہاڑے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس کے 10 روز بعد جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں چھتیس گڑھ سے تعلق رکھنے والے دو مزدوروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ گولی مار کر قتل کیے گئے دونوں مزدور - دیپک رترے اور بوپندر - اینٹوں کے ایک بھٹے پر کام کر رہے تھے۔

اب سکیورٹی اداروں کو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ایسی دھمکیوں کا علم ہوا ہے جن میں وادی میں سرکاری ملازمتیں انجام دے رہے کشمیری پنڈت ملازمین کے نام شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ دھمکیاں لشکرِ طیبہ سے منسلک ایک نام نہاد تنظیم یونائیٹڈ لبریشن کونسل کی جانب سے جاری کیے جانے کا شبہ ہے۔ آن لائن گردش کرنے والے دھمکی آمیز پوسٹروں میں کشمیری پنڈت ملازمین کے نام اور ان کے فون نمبر بھی درج تھے۔

ان دھمکیوں کے بعد حکام نے سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں اور کشمیری پنڈت ملازمین کو 15 اگست تک گھر سے کام (Work From Home) کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

کشمیری پنڈت ملازم اور آل پی ایم پیکیج ایمپلائز فورم ان کشمیر کے صدر سنی رینہ نے کہا: "کولگام میں مزدوروں کے قتل کے بعد حکام نے مہاجر ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ حکم یوم آزادی تک کے لیے ہے۔"

وزیراعظم پیکیج کے تحت سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے والے 6,000 کشمیری پنڈت ملازمین کشمیر میں گورنمنٹ نوکری کر رہے ہیں۔ یہ ملازمین مختلف سرکاری محکموں میں تعینات ہیں اور سکیورٹی حصار میں قائم کالونیوں میں رہتے ہیں۔ رینہ نے کہا کہ دھمکیاں سوشل میڈیا پر جاری کی گئی تھیں اور دھمکی آمیز پوسٹروں میں ملازمین کے نام ظاہر کیے گئے تھے۔

بی جے پی اور کشمیری پنڈتوں کے معروف رہنما اشونی چرنگو کا کہنا ہے کہ گھر سے کام کرنا ان دھمکیوں کا مستقل حل نہیں ہے۔ انہوں نے ای ٹی وی بھارت کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا: "حل دہشت گردی کے خاتمے میں ہے۔ ہر کشمیری پنڈت کو سکیورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں۔"

اشونی چرنگو نے کہا کہ جب تک دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوتا، کشمیری پنڈتوں کو موجودہ صورتحال میں "منظر سے ہٹانے" کی ضرورت ہے، جس طرح مرکزی حکومت نے 2019 میں آرٹیکل 370 اور 35A ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی اور جموں و کشمیر حکومت، دونوں کو دہشت گردی کے خلاف مہم شروع کرنی چاہیے۔

بی جے پی رہنما نے مزید کہا: ’’کشمیری مسلمانوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ گزشتہ چار دہائیوں میں دہشت گردی کی وجہ سے انہوں نے کیا حاصل کیا اور کیا کھویا ہے۔"

ادھر، سرینگر سمیت وادی کشمیر کے دیگر علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی موجودگی مزید بڑھا دی گئی ہے۔ یوم آزادی سے قبل سرینگر پولیس کے اہلکار شہر میں مختلف مقامات پر ناکے لگا کر گاڑیوں اور لوگوں کی تلاشی لیتے ہوئے نظر آئے۔

ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق شہر کے اہم مقامات پر علاقہ کنٹرول کرنے کی مشقیں اور سکیورٹی کے اضافی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے۔ دریں اثنا، پولیس کے کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر (CIK) نے انٹرنیٹ پر مبینہ طور پر بنیاد پرست اور ملک مخالف مواد پھیلانے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار افراد کی شناخت ڈورو اننت ناگ کے مہران قاضی اور سوپور کے بابر حمید ڈار کے طور پر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

کوئی بھی مذہب بے گناہوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ