ETV Bharat / jammu-and-kashmir

وی پی این پابندی کے بیچ آئی سیکٹر نے کیا ’درمیانی حل‘ کا مطالبہ

جموں کے بعد اب کشمیر میں بھی حکام نے وی پی این کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے۔

ا
علامتی تصویر (فائل فوٹو)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : January 3, 2026 at 2:05 PM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: جموں و کشمیر میں ڈیجیٹل آلات خاص کر موبائل فونز پر ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (VPN) کے استعمال پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد چند روز میں ہی حکام نے 140 سے زائد ایسے افراد کی نشاندہی کی ہے جو انٹرنیٹ تک رسائی کے لیے وی پی این کا استعمال کر رہے تھے۔ وہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکٹر سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ تیزی سے بڑھ رہے آئی سیکٹر کو بچانے کے لئے ایک مربوط لائحہ عمل تیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں انتظامیہ نے سکیورٹی وجوہات اور امن عامہ کے خدشات کے پیش نظر یونین ٹیریٹری میں وی پی این کے استعمال پر پابندی عائد کر دی۔

پابندی کا آغاز
وی پی این کے استعمال پر جموں کے چند اضلاع سے پابندی کا آغاز ہوا تھا، جہاں پولیس نے گزشتہ برس کچھ علاقوں میں پابندی نافذ کی تھی۔ تاہم اب اس پابندی کی توسیع وادی کے اضلاع تک بھی کی گئی ہے اور گزشتہ ہفتے سرکاری حکمنامے کے تحت وی پی این پر قدغن عائد کیا گیا، قدغن کے فوراً بعد پولیس نے کارروائیاں انجام دیں اور 140 سے زائد افراد کو ’وی پی این‘ کے استعمال کا مرتکب پایا گیا۔

پولیس کے مطابق ضلع پلوامہ میں سب سے زیادہ خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جہاں تقریباً 100 افراد کی نشاندہی کی گئی ہے وہیں 49 افراد کے خلاف پلوامہ اور کولگام میں قانونی کارروائی بھی شروع کی گئی۔

ٹیک شعبے میں تشویش
اس پابندی نے آئی ٹی شعبے سے وابستہ نوجوانوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ چھ سال سے آئی ٹی انڈسٹری میں بطور ویب ڈیولپر کام کر رہے فائق احمد نامی ایک مقامی نوجوان کا کہنا ہے کہ ’’سکیورٹی خدشات اہم ہیں لیکن کاروباری سرگرمیوں کو تحفظ فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے۔‘‘ انہوں نے سیکورٹی خدشات اور آئی ٹی سیکٹر کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ’’درمیانی راستہ‘‘ نکالنے کی اپیل کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ’’کشمیر کا آئی ٹی شعبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، ہمارے نوجوان معیشت میں اپنا مثبت حصہ ڈال رہے ہیں، اگر سکیورٹی ادارے اور بزنس کمیونٹی مل بیٹھ کر کوئی فریم ورک مرتب کرے تو مجھے یقین ہے کہ کوئی سکیورٹی خدشات بھی باقی نہیں رہیں گے اور روزگار بھی متاثر نہیں ہوگا۔‘‘

کیسے کام کرتا ہے وی پی این
وی پی این ایک ایسا ڈیجیٹل مگر مخفی راستہ ہے جو ایک انٹرنیٹ صارف کو اپنی آن لائن شناخت خاص کر آئی پیIP ایڈریس کو مخفی رکھنے (چھپانے) کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ وی پی این کو بعض اوقات فائر وال کو بائی باس کرتے ہوئے ممنوعی مواد یا ویب سائٹس تک رسائی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اور انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے والے اس کی ٹریکنگ نہیں کر سکتے۔

اسی خدشے کو بنیاد بنا کر انتظامیہ نے اسے سائبر سکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ اور سرینگر سمیت بیشتر اضلاع کے ڈپیٹی کمشنرز نے وی پی این کے استعمال پر ’اگلے احکامات‘ تک پابندی عائد کر دی۔

سرینگر کے ضلع مجسٹریٹ اکشے لابرو نے پولیس مراسلے کی بنیاد پر 30 دسمبر سے دو ماہ تک کے کے لیے وی پی این کے استعمال پر پابندی کا حکم جاری کیا ہے۔ حکمنامے کے مطابق یہ پابندی سیکشن 163، بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا (BNSS) کے تحت عائد کی گئی ہے۔ قانون کی یہ شق مجسٹریٹ کو ’’عوامی تحفظ کے لیے قدغن‘‘ نافذ کرنے کا اختیار دیتی ہے۔

وہیں کشمیر کے ڈویژنل کمشنر انشول گرگ نے بھی واضح کیا کہ ’’یہ اقدام سکیورٹی مفاد میں اور سماج و ملک دشمن عناصر کے ذریعے وی پی این کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔‘‘

وادی کے مختلف اضلاع میں پولیس کارروائی
جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع میں بھی پولیس نے خصوصی مہم چلائی اور پندرہ افراد کو وی پی این کے استعمال میں ملوث پایا۔ شوپیاں پولیس افسر کے مطابق ’’بیشتر افراد کو تکنیکی جانچ اور پس منظر کی تصدیق کے بعد چھوڑ دیا گیا کیونکہ ان کا کسی بھی دہشت گرد سرگرمی سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔‘‘

تاہم احتیاطی اقدام کے طور پر 10 نوجوانوں کے خلاف سکیورٹی کارروائی شروع کی گئی اور انہیں آئندہ وی پی این استعمال نہ کرنے کی سخت وارننگ بھی دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:

پلوامہ پولیس کی کارروائی غیر مجاز وی پی این کے استعمال پر سخت نوٹس