ETV Bharat / jammu-and-kashmir

چھ سال سے زائد قید کے باوجود پلوامہ دہشت گرد حملہ کی ملزمہ کو ضمانت عرضی خارج کیوں ہوئی؟

عدالت نے شواہد، گواہوں پر اثرانداز ہونے کے خدشے اور UAPAپابندیوں کے پیش نظر انشا جان کی ضمانت مسترد کردی۔

ا
علامتی تصویر (فائل)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : August 22, 2026 at 5:39 PM IST

7 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: جموں کی خصوصی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) عدالت نے 2019 کے پلوامہ دہشت گرد حملے کی سازش کے مقدمے میں ملزمہ انشا جان عرف انشا طارق کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ریکارڈ پر ایسا کافی مواد موجود ہے جس کی بنیاد پر ابتدائی طور پر یہ مانا جاسکتا ہے کہ ان پر عائد کیے گئے الزامات درست ہیں۔

خصوصی جج پریم ساگر نے اپنے 15 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ یعنی یو اے پی اے (UAPA) کی دفعہ 43-D(5) کے تحت ضمانت کے لیے عائد سخت شرائط انشا پر لاگو ہوتی ہیں، اس لیے اس مرحلے پر انہیں ضمانت پر رہا نہیں کیا جاسکتا۔

جج کی دلیل
عدالت نے طویل عرصے سے جیل میں رہنے، مقدمے کی کارروائی میں تاخیر اور طبی مسائل کی بنیاد پر ضمانت دینے کی انشا کی درخواست بھی مسترد کردی۔ جج نے ضمانت کی درخواست خارج کرتے ہوئے کہا، "اس بات پر یقین کرنے کے لیے کافی شواہد موجود ہیں کہ ابتدائی طور پر درخواست گزار کے خلاف لگایا گیا الزام درست ہے۔"

سماعت جاری
عدالت نے مزید کہا کہ مقدمے کی سماعت جاری ہے اور استغاثہ کے اہم گواہوں کے بیانات ابھی ریکارڈ کیے جارہے ہیں۔ جج نے کہا کہ اگر انشا کو اس مرحلے پر ضمانت دی گئی تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اہم گواہوں کو متاثر کرسکتی ہیں، جس سے انصاف کی کارروائی متاثر ہوسکتی ہے۔

جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے ہرکی پورہ گاؤں کی رہنے والی انشا جان کو ان کے والد پیر طارق احمد شاہ کے ساتھ 3 مارچ 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف رنبیر پینل کوڈ (آر پی سی) ، یو اے پی اے، آرمز ایکٹ اور ایکسپلوسو سبسٹنسز ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔ عدالت نے ان کے خلاف 10 دسمبر 2022 کو الزامات طے کیے تھے۔

یہ مقدمہ 14 فروری 2019 کو پلوامہ میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے قافلے پر ہونے والے خودکش حملے سے متعلق ہے، جس میں کم از کم 40 سی آر پی ایف اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

چارج شیٹ میں الزامات
این آئی اے کی چارج شیٹ کے مطابق انشا مبینہ طور پر اس وسیع سازش کا حصہ تھیں اور ان کا پاکستانی جیشِ محمد (JeM) کے آپریٹو محمد عمر فاروق سے رابطہ تھا، جس پر حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ انشا اور ان کے والد نے جیشِ محمد کے کارکنوں کو اپنے گھر میں قیام کے دوران پناہ، کھانا اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کیں۔

این آئی اے کے مطابق عمر فاروق، خودکش حملہ آور عادل احمد ڈار اور سمیر احمد ڈار جنوری 2019 میں ان کے گھر میں ٹھہرے تھے۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد سامنے آنے والی عادل احمد ڈار کی ویڈیو بھی 28 اور 29 جنوری کو اسی گھر میں ریکارڈ کی گئی تھی۔

ایجنسی نے ڈیجیٹل شواہد بھی اپنی تحقیقات کا حصہ بنائے، جن میں مبینہ واٹس ایپ پیغامات، وائس نوٹس اور فاروق کے موبائل فون سے برآمد ہونے والی تصاویر شامل ہیں۔

دفاع کا مؤقف
انشا کے وکلاء نے بنیادی طور پر اس بنیاد پر ضمانت مانگی کہ وہ چھ سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں، مقدمے کی کارروائی سست رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے اور انہیں صحت کے کئی مسائل بھی درپیش ہیں۔

دفاع کے مطابق متعلقہ مرحلے تک 240 میں سے 49 استغاثہ کے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے تھے۔ وکلا نے دلیل دی کہ مقدمے کی کارروائی مکمل ہونے میں مزید کئی سال لگ سکتے ہیں۔

دفاع نے یہ بھی کہا کہ اب تک جن گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں، انہوں نے انشا کو مبینہ جرائم سے براہ راست نہیں جوڑا ہے، جبکہ ان کے قبضے سے کوئی قابل اعتراض مواد بھی برآمد نہیں ہوا۔

صحت کے مسائل کا حوالہ
ان کے وکلا نے جلد کی دائمی بیماری، سروائیکل اسپونڈیلوسس اور مسلسل سر درد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طویل قید کے باعث ان کی صحت متاثر ہوئی ہے۔ این آئی اے نے ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ الزامات کی سنگینی، تفتیش کے دوران جمع کیے گئے شواہد اور یو اے پی اے کے تحت موجود قانونی پابندیاں انشا کو ضمانت دینے کے خلاف ہیں۔

ایجنسی نے الزام دہرایا کہ انشا اور ان کے والد نے جیشِ محمد کے دہشت گردوں کو اپنے گھر میں قیام کی سہولت فراہم کی تھی۔ این آئی اے نے انشا اور عمر کے درمیان مبینہ رابطوں کو بھی اپنے مؤقف کی حمایت میں پیش کیا۔

صحت کے مسئلے پر عدالت کی ہدایت
عدالت نے انشا کی طبی حالت کو بھی مدنظر رکھا، تاہم اسے ضمانت پر رہائی کے لیے کافی نہیں سمجھا۔ جج نے کہا کہ : "درخواست گزار/ملزمہ کی بیماری جان لیوا نہیں ہے کہ فوری ریلیف کی ضرورت ہو۔"

تاہم عدالت نے جیل حکام کو ہدایت دی کہ انشا کو صحت سے متعلق مسائل کے لیے مناسب طبی علاج فراہم کیا جائے۔ خصوصی جج نے ڈسٹرکٹ جیل بارہمولہ کے سپرنٹنڈنٹ کو ان کے صحت کے مسائل کے لیے ضروری طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ جیل حکام کو ہر دو ہفتے بعد عدالت میں اس حوالے سے تعمیلی رپورٹ پیش کرنے کو بھی کہا گیا۔

عدالت نے انشا کے چھ سال سے زیادہ عرصے سے زیر حراست رہنے سے متعلق دفاع کی دلیل پر بھی غور کیا۔ جج نے کہا کہ مقدمے کی کارروائی جاری ہے اور استغاثہ کے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جارہے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ استغاثہ جن شواہد پر انحصار کررہا ہے، انہیں ابھی ان دیگر گواہوں کے بیانات سے تقویت ملنا باقی ہے جن کے بیانات بعد میں ریکارڈ کیے جانے ہیں۔ گواہوں پر اثر انداز ہونے کے خدشے کے بارے میں عدالت نے کہا کہ اس مرحلے پر انشا کی رہائی مقدمے کی کارروائی کو متاثر کرسکتی ہے۔

چنانچہ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے کی موجودہ صورتحال میں تاخیر اتنی بنیاد نہیں بنتی کہ یو اے پی اے کے تحت عائد قانونی پابندیوں کو نظر انداز کرکے ضمانت دی جاسکے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ضمانت کی درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے اس کی جانب سے کیے گئے مشاہدات مقدمے کے حتمی فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:

پلوامہ دہشت گردانہ حملہ کیس: این آئی اے کی خصوصی عدالت نے ملزم انشا جان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی