ETV Bharat / jammu-and-kashmir
تحصیل راج پورہ کے 300 خاندان شدید سردی کے موسم میں آلودہ پانی کی سپلائی سے پریشان
ضلع پلوامہ کے تحصیل راجپورہ کے علاقے گلشن آباد، چنہ پورہ، بیلو چیک سے ملحقہ علاقوں میں تقریبا 300 خاندان آلودہ پانی پینے پرمجبور ہیں

Published : January 2, 2026 at 2:58 PM IST
پلوامہ(سید عادل مشتاق)؛ اگرچہ حکومت نے جل جیون مشن "ہر گھر نل، ہر گھر جل" کے تحت صاف پینے کا پانی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم زمینی سطح پر صورتحال اس کے برعکس نظر آرہی ہے۔ علاقہ کے مکینوں کے مطابق سی بی ناتھ میں سنہ 2009 میں لاکھوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا، فلٹریشن پلانٹ اب تک ناکارہ پڑا ہے، جس کے سبب صاف پانی کی فراہمی ممکن نہیں ہو پائی ہے۔
محکمہ جل شکتی پلوامہ نے پانی کی سپلائی کے لیے نالہ رومشی سے پائپ لائن بچھائی تھی، تاہم منبع کے آس پاس غیر سائنسی اور بے ہنگم مائننگ کی وجہ سے پانی آلودہ ہو جاتا ہے اور یہی آلودہ پانی گھروں تک پہنچ رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ متعدد بار متعلقہ محکموں سے شکایات درج کرائی گئیں لیکن اب تک مسئلے کے حل کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔
ایگزیکٹو انجینئر جل شکتی پلوامہ انجینئر بلال احمد ملک نے بتایا کہ پانی کی فراہمی نالہ رومشی سے ہو رہی ہے تاہم فلو کو متوازن کرنے کے کام کے دوران محکمہ فلڈ کنٹرول کی جانب سے منبع کے قریب مٹی و ملبہ ڈالنے نالے میں ڈالنے سے پانی آلودہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معاملہ اعلیٰ حکام کے ساتھ اٹھایا گیا ہے اور جلد ہی اس کا حل نکالا جائے گا۔
دوسری جانب ایگزیکٹو انجینئر فلڈ کنٹرول پلوامہ نے فون پر بتایا کہ نالہ رومشی کے ایک حصے کو ہموار کرنے اور پانی کے بہاؤ کو متوازن کرنے کے لیے لیولنگ کا کام جاری تھا اور اس سلسلے میں ٹھیکیدار کو قانونی اجازت بھی دی گئی تھی ،تاہم کسی قسم کی خلاف ورزی کسی حال میں برداشت نہیں کی جائے گی۔ محکمہ فلڈ کنٹرول کے مطابق خلاف ورزی سامنے آنے پر ٹھیکیدار کے خلاف فوری کارروائی کی گئی اور مشینری کو موقع سے ہٹا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:ترال: پینے کے پانی سے محروم برنواڈ کے لوگوں کا احتجاج
اس سلسلے میں ایم ایل اے راجپورہ غلام محی الدین میر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی اولین ترجیح عوامی مشکلات کا ازالہ ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آلودہ پانی کی فراہمی کا مسئلہ فوری بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔

