ETV Bharat / jammu-and-kashmir
تفریحی پارکس میں بچوں کی سلامتی کی خاطر ُایس او پیزُ پر عمل درآمد! ایک جائزہ
تفریحی پارکس میں بچوں کی سلامتی کی خاطر ُایس او پیزُ پر عمل درآمد! ایک جائزہ

Published : June 2, 2026 at 5:04 PM IST
سرینگر (پرویز الدین): وادیٔ کشمیر جہاں فلک بوس پہاڑوں، بہتے ہوئے چشموں اور جھیلوں کی وجہ سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتی ہے وہیں یہ مغل باغات سے بھی کافی مشہور ہیں۔ کشمیر میں مغل دور حکومت میں تعمیر کیے گئے باغات موجود ہیں۔ یہ باغ اپنی خوبصورتی اور طرز تعمیر کے اعتبار سے سب سے جداگانہ ہیں۔ خوبصورتی اور قدیم طرز تعمیر کے لحاظ سے مغل باغات سیاحوں کی پہلی پسند رہتے ہیں۔ خواہ وہ ملکی ہو یا غیر ملکی سیاح۔ موسمِ بہار ہو یا موسم خزاں۔ ہر موسم میں آنے والے سیاح باغ کے اندر رنگ برنگے پھولوں، بہتے پانے کے جھرنوں اور فواروں کا مزا لینے کے لیے آتے ہیں۔
اس کے علاوہ محکمہ پھول بانی نے کشمیر میں کئی دیگر باغات اور پارکس کی بھی تزئین و آرائش انجام دے کر ان میں اوپن جم کو متعارف کیا ہے تاکہ زیادہ لوگوں کی توجہ ان کی جانب مبذول کرائی جاسکیں۔

تفریحی پارکس بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشو ونما کے لیے نہایت اہم
شہر سرینگر کے مرکزی علاقے میں واقع بچوں کے لیے مخصوص اس تفریحی پارک میں والدین اپنے بچوں کو سیر وتفریح کے لیے لاتے ہیں۔ بچے ان جھولوں، سلائیڈز اور کھلی جگہ پر مختلف سرگرمیوں سے لطف اندوز ہوتے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ یہ بچوں کی جسمانی، ذہنی اور سماجی نشو ونما کے لیے ایک اہم جگہ ہے اور بچوں کی اسکرین ٹائم کو کم کرنے اور ان کی سماجی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ تاہم ایسی پارکس میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے کئی خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔

اگر کسی بچے کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جائے
محکمہ پھول بانی ان پارکوں کی صفائی ستھرائی اور بچوں کی خاطر رکھے گئے ایسے تفریحی ساز وسامان کی بہتر دیکھ ریکھ تو کرتے ہیں لیکن خدانخواستہ کھیلتے کھیلتے اگر کسی بچے کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جاتا ہے تو اس حوالے سے ابتدائی طور پر علاج کی خاطر یہاں کسی بھی طرح کی کوئی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ جیسا کہ فرسٹ ایڈ باکس وغیرہ۔

پارکس میں میٹنگ نصب کرانے پر محکمے کی جانب سے غور
ایسی صورت حال کے تعلق سے ڈائریکٹر پھول بانی متھورہ معصوم کہتی ہیں کہ ان پارکس میں بچوں کی سلامتی کے لیے خاص دھیان رکھا گیا ہے اور یہ اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ کسی بھی حادثے سے بچنے کی خاطر زمین کو اگرچہ ریت سے پیڈنگ کی گئی ہے۔ تاہم محکمہ اب بہت جلد ایسی پارکس میں میٹنگ نصب کرانے پر غور کر رہا ہے اور اب ہم ریت کو میٹنگ میں تبدیل کرنے جارہے ہیں تاکہ بچوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنایا جاسکیں۔

چلڈرنس پارک میں فرسٹ ایڈ باکس کی سہولت موجود نہیں
وہیں انہوں نے کہا کہ ان پارکس میں بچوں کی دلجوئی کے لیے اور تفریح کے لیے جو سامان یہاں نصب کیا گیا ہے، اس کی دیکھ ریکھ محکمے کے عہدیداران کرتے رہتے ہیں اور اگر کوئی جھولا یا سلائیڈ ٹوٹ جاتا ہے تو اس کو وقت پر تبدیل کر دیا جاتا ہے تاکہ کسی بھی بچے کے ساتھ کوئی حادثہ پیش نہ آئے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ فرسٹ ایڈ باکس وغیرہ کی سہولت موجود نہیں ہے اور یہ برمحل تجویز ہے۔ جس پر آنے والے وقت میں محکمہ عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرے گا۔

مخصوص پارک کی نگرانی اور دیکھ ریکھ کے لیے خاص توجہ
فلوری کلچر آفیسر سرینگر ڈاکٹر انعام نے کہا کہ دیگر باغات کے ساتھ ساتھ سرینگر میں بچوں کی اس مخصوص پارک کی نگرانی اور دیکھ ریکھ کے لیے خاص توجہ دی جارہی ہے اور پارک میں موجودہ کئی خراب جھولوں اور دیگر سامان کی تبدیلی کرنا مقصود ہے۔ جسے چند دنوں میں ہی ترجیح کی بنیاد پر تبدیل کیا جارہا ہے تاکہ کسی بھی حادثے سے بچا جاسکے۔

واضح رہے کہ کشمیر صوبے میں تاریخی باغات کے علاوہ کئی دیگر پارکس بھی موجود ہیں۔ جن میں ایسے 37 مارکس ہیں جہاں محکمہ نے باضابطہ طور پر داخلہ ٹکٹ رکھا ہوا ہے۔

