ETV Bharat / jammu-and-kashmir
تاریخی کامیابی حاصل کرنے والی جموں کشمیر کرکٹ ٹیم کا رانجی کے سفر پر ایک نظر
جموں کشمیر کرکٹ ٹیم نے پہلی مرتبہ رنجی ٹرافی کا خطاب اپنے نام کیا اور فائنل میں کرناٹک کی ٹیم کو مات دی۔

Published : February 28, 2026 at 5:25 PM IST
جموں (عامر تانترے): فروری 2026 کا آج کا دن جموں کشمیر کرکٹ کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا گیا ہے۔ جموں کشمیر کرکٹ ٹیم نے آٹھ مرتبہ رنجی چمپئن رہ چکی کرناٹک کی ٹیم کو شکست دیکر پہلی مرتبہ ٹائٹل اپنے نام کیا۔
جموں کشمیر کی کرکٹ ٹیم نے یہ کامیابی قسمت کی بنیاد پر نہیں بلکہ سخت محنت اور کوششوں کے ساتھ انجام دیا۔ انفرادی و اجتماعی پرفارمنس کی وجہ سے یہ خواب ممکن ہوا ہے۔
انڈر ڈوگس نے بھارتی کرکٹ کے تمام بڑے ناموں کو پچھاڑ دیا اور سبھی ناک آؤٹ میچوں میں جموں و کشمیر نے جہاں بھی کھیلا، میدان مار لیا۔
کوارٹر فائنل میں دفاعی چیمپئن مدھیہ پردیش کو ہرانا ہو یا سیمی فائنل میں طاقتور بنگال کی ٹیم، جموں و کشمیر نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابی کا سلسلہ جاری رکھا۔
فائنل میچ میں مہمان ٹیم نے میزبان کرناٹک کو کبھی بھی گیم پر حاوی ہونے کا موقع نہیں دیا۔ کرناٹک کی طرف سے کھیلنے والے بھارتی کرکٹ کے بڑے ناموں؛ بشمول بھارتی ٹیم کے موجودہ ٹیسٹ اوپنر کے ایل راہول، اور میانک اگروال، کرون نائر، دیو دت پڈیکل اور پرسید کرشنا جیسے کھلاڑیوں کے باوجود، جموں و کشمیر نے چیمپئن کی طرح کھیلا۔
جموں کشمیر کی ٹیم نے ٹاس جیت پر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور اوپنر یاور حسن کی 88 رنز کی شاندار اننگز اور اس کے بعد اسٹائلش شبھم پنڈیر کی شاندار سنچری نے مخالفین کو واضح پیغام دیا کہ جموں و کشمیر کی ٹیم فائنل جیتنے کے لیے میدان میں اتری ہے اور ٹرافی کے بغیر واپس نہیں جائے گی۔ اس کے بعد جموں و کشمیر کے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے اسٹار عبدالصمد کی باری تھی جنہوں نے کرناٹک کے گیند بازوں کو سنبھلنے کا کوئی بھی موقع نہیں دیا۔ سر اور ہاتھ پر ضرب لگنے کے بعد بھی جموں و کشمیر ٹیم کے کپتان پارس ڈوگرا نے وکٹ کیپر بلے باز کنہیا وادھاون کے ساتھ مل کر میچ پر گرفت مزید مضبوط کی اور کھیل کو میزبانوں کے ہاتھوں سے دور پہنچایا۔
اسپننگ آل راؤنڈر ساحل لوترا کے ساتھ عابد مشتاق اور ٹیل اینڈرز پہلی اننگز میں اسکور کو 584 رنز تک لے جانے میں کامیاب رہے۔
کرکٹ شائقین خاص کر قومی سلیکٹرز کی نظریں بھی فائنل خاص کر جموں و کشمیر کے پیس گیند باز عاقب نبی ڈار پر مرکوز تھیں، جنہوں نے کسی کو بھی مایوس نہیں کیا۔ عاقب نبی ڈار نے وہی کھیل جاری رکھا جو وہ پچھلے دو سیزن سے جاری رکھے ہوئے تھے۔
کے ایل راہول، کرونا نائر اور سمرن روی چندرن کو ان کی جادوئی سوئینگ نے واپس پولین لوٹایا۔ جس سے میزبانوں کو زبردست جھٹکا لگا۔ انہیں بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز سنیل کمار اور دائیں ہاتھ کے میڈیم پیسر یودھویر سنگھ چاڑک نے یکساں طور پر سپورٹ کیا۔ تاہم عاقب کی وکٹوں کی طلب نہیں مٹی اور اس اننگ میں بھی پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ جمعہ کے روز سنچری بنانے والے میانک اگروال اور اس کے بعد شیکھر شیٹی کے وکٹ نے عاقب کو سیزن کا سب سے زیادہ وکٹ لینے والا کھلاڑی بنا دیا۔
جموں و کشمیر کے باؤلنگ اٹیک کا خلاصہ کرتے ہوئے، جموں و کشمیر کے سابق بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز اور اتراکھنڈ کے موجودہ کوچ سریندر سنگھ باگل نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا، "عاقب نبی ڈار اس وقت دنیا کے بہترین باؤلر ہیں اور اس سیزن میں ان کی کارکردگی نے سب کو ان کا مداح بنا دیا ہے۔"
یہ بھی پڑھیں:

