ETV Bharat / jammu-and-kashmir

کشمیر میں 8 فیصد لوگ دل کے مختلف امراض میں مبتلا

ماہرین امراض قلب ڈاکٹر خالد محی الدین نے کہاکہ یہ بیماری پیدائشی ہوتی ہے اور دل میں سراخ پیدائشی نقائص کی ایک قسم ہے۔

کشمیر میں 8 فیصد  لوگ دل کے مختلف امراض میں مبتلا
کشمیر میں 8 فیصد لوگ دل کے مختلف امراض میں مبتلا (Eenadu)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : March 4, 2026 at 6:22 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر( پرویز الدین) کشمیر میں مجموعی طور پر 8 فیصد لوگ دل کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ اعدادو شمار کے مطابق کشمیر صوبے میں ہر ایک ہزار افراد میں سے 12 لوگ دل کے پیدائشی عارضے سے متاثر ہیں ۔ایسے میں اس عارضے میں دل میں سراخ کی موجودگی کا عارضہ سب سے زیادہ پایاجاتا ہے۔دل مِں موجود سراخ ایک ایسا عارضہ ہے جو کہ پیدائش سے ہی موجودہ ہوتا ہے ۔ ایسے افراد کو اونچائی پر جانے سے سخت تکلیف ہوتی ہے جو سانس لینے میں مشکل کی صورت سامنے آتی ہے۔

ماہرین امراض قلب ڈاکٹر خالد محی الدین کہتے ہیں کہ اصل میں پیدائشی بیماری ہوتی ہے اور دل میں یہ سراخ پیدائشی نقائص کی ایک قسم ہے۔ جس میں بچہ دل کے خلیوں کے درمیان سوراخ کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔دل میں قدرتی طور پر موجود چھوٹے سراخ خود ہی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن دل کے چیمبر میں موجود بڑا سراخ جراحی کے مدد سے ہی بند یا ٹھیک کیا جاتا ہے کیونکہ یہ کبھی بھی حرکت قلب بند ہونے کا سبب بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی 3 ماہ میں ماں کے پیٹ میں بچے کے جسم کی نشونما ہوتی ہے اور جسم کے مختلف اعضاء بھی بننے شروع ہوجاتے ہیں۔ایسے میں بچے کا ہارٹ بھی بنتا ہے لیکن کبھی کبھار کئی وجوہات سے ہارٹ کی نشونما بہتر طور نہیں ہوپاتی ہے جو کہ پھر سے نقائص میں چیمبرز کے بیچ سراخ کی صورت اختیار کرتا ہے ۔جبکہ ہارٹ کی دو بڑی نالیوں کے بیچ ایک کنیکشن ہوتا جو کہ جنم کے وقت بند ہوتا اور دل کے نالیوں کے بیچ میں یہ کنیکشن اگر بند نہیں ہوگا تو یہ بھی دل میں سراخ کی وجہ بن سکتا ہے ۔

ماہر امراض قلب ڈاکٹر خالد محی الدین نے کہا کہ دل میں سراخ کا اندیہ یا علامات بچے کی پیدائش کے ایک ماہ میں ہی ظاہر ہونا شروع جاتی ہیں جب ماں کا دودھ پیتے وقت بچہ بار بار دودھ لیتے اور چھوڑتا ہے اور اس کے ماتھے پر پیسنہ بھی آتا رہتا ہے ۔ایسے میں یہ کیفیت بچہ کے دل تکلیف یا کسی قسم کا سراخ ہونے کی علامت ظاہر کرتا ہے۔

سکمز دورہ کے شعبہ امراض قلب کے اعدادو شمار کے مطابق 12 لاکھ 5 ہزار 142 افراد میں س 1596 میں پیدائش سے ہی دل کا سراخ پایا گیا ۔ ان میں 78 فیصد کے دل کے دو خانوں میں قدرتی طور پر سراخ موجود تھا جو ابتدائی طور پر کوئی بھی مشکل پیدا نہیں کرتا ہے۔اعداد وشمار کے مطابق سے سے زیادہ تعداد 53 فیصد مردوں جبکہ 47 فیصد خواتین میں موجود تھے۔ان میں سے 55 فیصد میں پیدائش کے ایک ماہ کے اندر ہی اس کی تصدیق ہوتی ہے اور 38 فیصد میں ایک سال کے اندر اس کا پتہ چلتا ہے۔اس کے علاوہ 7 فیصد مریضوں میں یہ بیماری 5 سال کے اندر اندر سامنے آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: رام بن میں بائیس سالہ خاتون کی لاش برآمد، قتل کا شبہ


ڈاکٹر خالد محی الدین کہتے ہیں کہ اس بیماری کی شرح زیادہ ہے لیکن ایسا اس لیے بھی ہے کہ ہر سطح سمندر سے زیادہ بلندی پر رہتے ہیں انہوں نے کہا کہ قدرتی طور پر بچوں میں پیدائش کے وقت موجود ہوتی ہے اور بیشتر بچوں میں یہ بیماری ایک سال کے اندر اندر سامنے آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بیماری متاثرہ بچوں میں اکثر نمونیا،سانس لینے میں تکلیف اور کھانا کھاتے وقت تکلیف ہونے سے ظاہر ہوتی ہے۔انہوں نے مذید کہا کہ ر بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ دل کی بیماری کم ہوتی ہے لیکن۔ کچھ مریضوں میں عمر بڑھنے کے ساتھ دل کا سراخ بڑھ جاتا یے اور اس کا واحد علاج جراحی ہوتی ہے اور جراحی سے مریض بالکل ٹھیک رہتا ہے۔