ETV Bharat / jammu-and-kashmir
بجلی کے نرخوں میں 6.83 فیصد اضافہ، مفت بجلی کے وعدے پر جموں کشمیر حکومت تنقید کی زد میں
جموں و کشمیر میں یکم ستمبر سے بجلی مہنگی ہوگی جس پر اپوزیشن نے عمر عبداللہ حکومت کو مفت بجلی کا وعدہ یاد دلایا۔

Published : August 22, 2026 at 3:38 PM IST
|Updated : August 22, 2026 at 7:27 PM IST
سرینگر: جموں و کشمیر اور لداخ کے لیے مشترکہ بجلی ریگولیٹری کمیشن (JERC) نے مالی سال 2026-27 کے لیے جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں اوسطاً 6.83 فیصد اضافے کو منظوری دے دی ہے۔ نئے نرخ یکم ستمبر 2026 سے نافذ ہوں گے۔ اس فیصلے کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی عمر عبداللہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ "حکومت نے اسمبلی انتخابات کے دوران گھریلو صارفین کو 200 یونٹ مفت بجلی دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اس کے بجائے بجلی کے بل مزید بڑھا دیے گئے ہیں۔" JERC کے جاری کردہ حکم کے مطابق یکم ستمبر یا اس کے بعد استعمال ہونے والی بجلی کی بلنگ نئے نرخوں کے مطابق ہوگی۔
کمیشن نے بتایا کہ جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (JPDCL) اور کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (KPDCL) نے آمدنی میں بڑے فرق کو پورا کرنے کے لیے بجلی کے نرخوں میں نظرثانی کی درخواست کی تھی۔ دونوں بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں نے تمام صارفین کے لیے پانچ فیصد یکساں اضافے کی تجویز دی تھی۔
JERC کے مطابق جانچ پڑتال کے بعد دونوں کمپنیوں کی مجموعی سالانہ آمدنی کی ضرورت (ARR) 10,275.72 کروڑ روپے مقرر کی گئی۔ موجودہ نرخوں کے تحت متوقع آمدنی 7,352.87 کروڑ روپے تھی، جس کے نتیجے میں 2,922.85 کروڑ روپے کا فرق سامنے آیا۔ کمیشن نے مزید کہا کہ اگر اس پورے خسارے کو صرف بجلی کے نرخ بڑھا کر پورا کیا جاتا تو صارفین پر تقریباً 40 فیصد اضافے کا بوجھ پڑتا۔ JERC نے اپنے حکم میں کہا کہ اس طرح کا اضافہ صارفین کے لیے ’’بجلی کے نرخوں کا شدید جھٹکا‘‘ ثابت ہوتا۔
صارفین پر بوجھ کم کرنے کے لیے کمیشن نے جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے دی جانے والی مالی مدد کو بھی مدنظر رکھا۔ حکم کے مطابق حکومت بجلی کے شعبے کو 2,420.78 کروڑ روپے کی سبسڈی دے گی، جو بجلی ایکٹ 2003 کی دفعہ 65 کے تحت فراہم کی جائے گی۔ نئے نرخ نافذ ہونے کے بعد بجلی کے چارجز سے متوقع آمدنی بڑھ کر 7,854.94 کروڑ روپے ہوجائے گی، جبکہ باقی 2,420.78 کروڑ روپے کا فرق حکومت کی گرانٹ سے پورا کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب جموں و کشمیر کا بجلی کا شعبہ کئی اہم تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ ان میں ٹائم آف ڈے (ToD) ٹیرف نظام کا بتدریج نفاذ بھی شامل ہے، جس کے تحت بجلی استعمال کرنے کے وقت کے حساب سے مختلف نرخ مقرر کیے جاتے ہیں۔
اپوزیشن کی تنقید
JERC کے حکم کے فوراً بعد اپوزیشن رہنماؤں نے بجلی کے نرخوں میں اضافے پر سوال اٹھائے اور اسے 2024 کے اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کی جانب سے کیے گئے وعدوں کے ساتھ جوڑ دیا۔
سجاد لون کی تنقید
ہندوارہ کے رکن اسمبلی اور پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے کہا کہ "یہ اضافہ ان صارفین کے لیے دھچکا ہے جن سے 200 یونٹ مفت بجلی دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لون نے سماجی رابطہ گاہ ایکس پر اپنے پوسٹ میں کہا کہ ریگولیٹر نے 6.83 فیصد اضافے کی منظوری دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ صارفین کو نرخوں کا بڑا جھٹکا نہیں دیا گیا، لیکن جموں و کشمیر کے عام صارفین اس فیصلے کو مختلف انداز میں دیکھیں گے۔
People in Jammu and Kashmir will now have to pay more from their pockets for electricity. The regulator has approved a 6.83% hike in power tariff and says it has avoided a tariff shock. It is definitely a shock for those who were promised 200 units free in 2024 by the ruling…
— Sajad Lone (@sajadlone) August 22, 2026
انہوں نے کہا: "اسمبلی انتخابات کو تقریباً دو سال گزر چکے ہیں، لیکن 200 یونٹ مفت بجلی کے وعدے کی صورت میں صارفین کو آج تک ایک روپے کا بھی فائدہ نہیں ملا۔"
لون نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ صارفین کو ریلیف دینے کے بجائے غیر میٹرڈ والے علاقوں میں منظور شدہ لوڈ بڑھا دیا گیا، جس کے نتیجے میں لوگوں کے ماہانہ بجلی کے بل زیادہ ہوگئے۔
وحید پرہ نے بھی کی تنقید
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (PDP) کے رہنما اور پلوامہ کے رکن اسمبلی وحید الرحمان پرہ نے بھی بجلی کے نرخ بڑھانے کے فیصلے پر تنقید کی۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں پرہ نے کہا کہ یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب بے روزگاری پہلے ہی بہت زیادہ ہے، مہنگائی نے گھریلو بجٹ متاثر کر رکھا ہے اور کئی خاندان بڑھتے اخراجات کا سامنا کر رہے ہیں۔
At a time when unemployment is at a peak, inflation is biting hard and ordinary families are struggling to make ends meet, the government has imposed a 6.83% power tariff hike. They came to power with an aspirational agenda, 200 units of free electricity, free gas and free…
— Waheed Ur Rehman Para (@parawahid) August 22, 2026
انہوں نے کہا کہ حکومت 200 یونٹ مفت بجلی، مفت گیس اور مفت راشن کے وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی، لیکن لوگوں کو ریلیف ملنے کے بجائے اب زیادہ بجلی کے بل ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔
ممبر پارلیمنٹ بھی تنقید میں پیش پیش
ادھر، نیشنل کانفرنس کے ہی رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ نے اپنی ہی پارٹی اور جموں و کشمیر حکومت کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "بجلی کے معاملے میں پارٹی کے انتخابی وعدوں اور اقتدار میں آنے کے بعد اس کے اقدامات کے درمیان واضح فرق نظر آ رہا ہے۔"
سرینگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے روح اللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے انتخابات کے دوران عوام سے 200 یونٹ بجلی مفت فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن دو سال گزرنے کے باوجود وہ وعدہ وفا نہیں کیا جاسکا۔
انہوں نے کہا: ’’ہم نے وعدہ کیا تھا کہ ہماری حکومت مفت بجلی دے گی، 200 یونٹ مفت ہوں گے، لیکن دو سال گزر گئے اور ہم اب بھی اپنے وعدے پورے نہیں کر پا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’میں سمارٹ میٹر لگانے کے پیچھے منطق کو سمجھتا ہوں، لیکن بجلی کے نرخوں میں تقریباً سات فیصد اضافہ کرنا، یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے۔"
20 فیصد اضافی سرچارج کی تجویز بھی زیر غور
بجلی کے نرخوں میں تازہ اضافے کے ساتھ ساتھ ایک اور تجویز نے بھی توجہ حاصل کی ہے، جس پر ریگولیٹر ابھی غور کر رہا ہے۔ KPDCL نے JERC سے درخواست کی ہے کہ ٹائم آف ڈے ٹیرف کے تحت بجلی کے زیادہ استعمال کے اوقات میں 20 فیصد تک اضافی سرچارج لگانے کی اجازت دی جائے۔
یہ سرچارج صبح 6 بجے سے 9 بجے اور شام 5 بجے سے رات 10 بجے تک نافذ کرنے کی تجویز ہے۔
یہ تجویز مرکز کی جانب سے بجلی صارفین کے حقوق سے متعلق 2020 کے قواعد میں کی گئی ترامیم کے بعد سامنے آئی ہے، جن کے تحت ملک بھر میں ٹائم آف ڈے ٹیرف نظام متعارف کرایا گیا۔
اس نظام میں بجلی کے نرخ طلب کے مطابق مختلف ہوتے ہیں۔ زیادہ طلب والے اوقات میں نرخ زیادہ جبکہ کم طلب کے اوقات میں نسبتاً کم رکھے جاتے ہیں۔ KPDCL کے منیجنگ ڈائریکٹر محمود شاہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ سرچارج کی تجویز صرف جموں و کشمیر کے لیے نہیں بلکہ ملک بھر میں نافذ کی جانے والی پالیسی کا حصہ ہے۔
شاہ نے کہا تھا، "ٹیرف سرچارج کشمیر کے لیے مخصوص نہیں بلکہ پورے ملک میں لازمی ہے۔ اس بارے میں فیصلہ JERC کو کرنا ہے۔"
مرکزی حکومت کی ہدایات کے مطابق اپریل 2024 سے 10 کلو واٹ سے زیادہ منظور شدہ لوڈ رکھنے والے تجارتی اور صنعتی صارفین کے لیے ٹائم آف ڈے ٹیرف پہلے ہی نافذ ہے۔ زراعت کے شعبے کے علاوہ دیگر صارفین کو بھی اس نظام میں شامل کیا جانا ہے، تاہم اس کے لیے سمارٹ میٹروں کی تنصیب ضروری ہے۔
مجوزہ سرچارج پر حال ہی میں سرینگر میں عوامی سماعت بھی ہوئی، جہاں صارفین اور دیگر متعلقہ فریقوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے گھروں، کاروباروں اور اداروں پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر سردیوں سے قبل یہ تشویش زیادہ ہے، کیونکہ کشمیر میں اس موسم میں بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے۔ وہیں جموں کشمیر خاص کر وادی کے کئی سیاسی اور مذہبی رہنما بھی اس تجویز کی مخالفت کر چکے ہیں۔
میرواعظ کشمیر کا بجلی اضافے پر بیان
کشمیر کے میرواعظ مولوی عمر فاروق نے بجلی کے زیادہ استعمال کے اوقات میں مجوزہ سرچارج کو ’’عوام کے ساتھ سنگین ناانصافی‘‘ قرار دیتے ہوئے حکام سے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔
گزشتہ سال نومبر میں سرینگر کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا تھا کہ لوگ پہلے ہی معاشی مشکلات اور کاروباری سرگرمیوں میں کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا، ’’غریبوں کو 200 یونٹ مفت بجلی دینے کا وعدہ پورا کرنے کے بجائے لوگوں پر نئی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔‘‘
تاہم JERC نے ابھی تک ٹائم آف ڈے سرچارج پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ عوامی مشاورت کا عمل مکمل ہونے کے بعد یہ تجویز فی الحال کمیشن کے زیر غور ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
جموں کشمیر: بجلی کے مجوزہ اضافی نرخوں پر روک، گھریلو صارفین کو راحت

