ETV Bharat / jammu-and-kashmir

اننت ناگ میں ایچ اے ڈی پی کے تحت 40 ہزار درخواستیں منظور، 15590 زرعی یونٹس قائم

جموں و کشمیر میں ہائی ڈینسٹی ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام بڑے پیمانہ پر جاری ہے جسے زرعی انقلاب قرار دیا جارہا ہے۔

اننت ناگ میں ایچ اے ڈی پی کے تحت 40 ہزار درخواستیں منظور، 15590 زرعی یونٹس قائم
اننت ناگ میں ایچ اے ڈی پی کے تحت 40 ہزار درخواستیں منظور، 15590 زرعی یونٹس قائم (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : May 30, 2026 at 1:40 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

اننت ناگ (میر اشفاق) جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے شروع کیا گیا ہائی ڈینسٹی ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام (ایچ اے ڈی پی) زرعی، باغبانی، مویشی پروری اور دیہی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ایک اہم اور انقلابی اسکیم بن کر ابھر رہا ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد روایتی زراعت کو جدید ٹیکنالوجی، سائنسی طریقوں اور منافع بخش کاروباری ماڈلز سے جوڑنا ہے تاکہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو اور دیہی معیشت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

ضلع اننت ناگ انتظامیہ کے مطابق ایچ اے ڈی پی کے تحت مزید 1,483 درخواستوں کو منظوری دی گئی ہے، جس کے بعد ضلع میں منظور شدہ درخواستوں کی مجموعی تعداد 40,317 تک پہنچ گئی ہے۔ ان منظور شدہ درخواستوں میں سے اب تک 15,590 یونٹس قائم کیے جا چکے ہیں، جو کل منظور شدہ درخواستوں کا تقریباً 38.66 فیصد بنتے ہیں۔

اننت ناگ میں ایچ اے ڈی پی کے تحت 40 ہزار درخواستیں منظور، 15590 زرعی یونٹس قائم
اننت ناگ میں ایچ اے ڈی پی کے تحت 40 ہزار درخواستیں منظور، 15590 زرعی یونٹس قائم (ETV Bharat)

تازہ منظور شدہ 1,483 درخواستوں میں سے 1,319 کا تعلق محکمہ زراعت جبکہ 108 درخواستیں محکمہ اینیمل ہسبنڈری (مویشی پروری) سے وابستہ ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کسانوں میں جدید زرعی سرگرمیوں کے تئیں دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس اسکیم کے تحت کسانوں کو جدید زرعی مشینری، اعلیٰ معیار کے بیج، ہائی ڈینسٹی باغات، گرین ہاؤسز، ڈیری یونٹس، پولٹری فارمنگ، شہد کی مکھیوں کی افزائش اور ماہی پروری جیسے شعبوں میں مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

کشمیر کے باغبانی شعبے، بالخصوص سیب کی کاشت میں ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن نے ایک نئی تبدیلی پیدا کی ہے۔ جدید باغبانی طریقوں کی بدولت کم رقبے سے زیادہ پیداوار اور بہتر آمدنی حاصل ہو رہی ہے۔ اسی طرح سبزیوں، مشروم، زعفران اور پھولوں کی کاشت میں جدید تکنیکوں کے استعمال سے بھی کسانوں کو خاطر خواہ فائدہ پہنچ رہا ہے۔

فارم میکانائزیشن پر خصوصی توجہ کے نتیجے میں کسانوں کی محنت اور اخراجات میں کمی آئی ہے، جبکہ جدید آلات نے کاشتکاری کے عمل کو زیادہ مؤثر، تیز اور منظم بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ، پیکنگ اور مارکیٹنگ کے بہتر مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں، جس سے کسانوں کو اپنی پیداوار کی بہتر قیمت مل رہی ہے۔

اننت ناگ میں ایچ اے ڈی پی کے تحت 40 ہزار درخواستیں منظور، 15590 زرعی یونٹس قائم
اننت ناگ میں ایچ اے ڈی پی کے تحت 40 ہزار درخواستیں منظور، 15590 زرعی یونٹس قائم (ETV Bharat)

حال ہی میں اننت ناگ میں منعقدہ ضلع سطحی ڈسٹرکٹ لیول امپلیمنٹیشن کمیٹی کے اجلاس میں اسکیم کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اننت ناگ، وکاس اہلوات نے کی، جس میں فارم رجسٹریشن، یونٹس کے قیام، قرضہ اور سبسڈی کی فراہمی سمیت مختلف امور پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے دوران متعلقہ افسران کو ہدایت دی گئی کہ اسکیم کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے، فارم رجسٹریشن میں تیزی لائی جائے، یونٹس کی ریئل ٹائم ٹریکنگ کو یقینی بنایا جائے اور بینکوں میں زیر التوا درخواستوں کو جلد از جلد نمٹایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو اسکیم سے فائدہ پہنچ سکے۔

یہ بھی پڑھیں: راجوری انکاؤنٹر آٹھویں روز میں داخل، وقفہ وقفہ سے گولہ باری، تلاشی مہم جاری

ایچ اے ڈی پی نہ صرف زرعی اور باغبانی شعبے کو جدید بنیادوں پر استوار کر رہا ہے بلکہ نوجوانوں کے لیے خود روزگاری اور کاروباری مواقع بھی پیدا کر رہا ہے۔ اگر اسی رفتار سے اسکیم پر عمل درآمد جاری رہا تو آنے والے برسوں میں جموں و کشمیر کا زرعی شعبہ مزید مستحکم، جدید اور خود کفیل بن سکتا ہے۔