ETV Bharat / jammu-and-kashmir

یاسین ملک سمیت پانچ ملزمان کے خلاف 35برس پرانے قتل کیس میں چارج شیٹ دائر

اپریل 1990میں سرلا بھٹ نامی ایک کشمیری پنڈت نرس کو اغوا کرکے 'مخبر' قرار دیکر  قتل کر دیا گیا تھا۔

ا
محمد یاسین ملک سرینگر میں پریس کانفرنس کے دوران (فائل فوٹو: آئی اے این ایس)
author img

By Moazum Mohammad

Published : June 29, 2026 at 1:45 PM IST

|

Updated : June 29, 2026 at 7:16 PM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: جموں و کشمیر پولیس کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (SIA) نے 35 برس بعد کشمیری پنڈت نرس - سرلا بھٹ - کے اغوا اور قتل کیس میں شواہد جمع کرتے ہوئے یاسین ملک اور اس کے چار ساتھیوں کو ملزم قرار دیتے ہوئے سرینگر کی خصوصی عدالت میں چارج شیٹ فائل کر دی ہے۔

تفصیلی چارج شیٹ میں ملزمان پر اغوا، غیر قانونی طور پر روکنے، قتل، ثبوت مٹانے، مجرمانہ سازش، دہشت گردی اور تخریبی سرگرمیوں، اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے سمیت مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ایس آئی اے نے اس معاملے میں کہا ہے کہ "یہ چارج شیٹ ایک واضح اور مضبوط پیغام ہے کہ وقت گزر جانے سے دہشت گردی کے جرائم معاف نہیں ہوتے۔ چاہے کتنے ہی سال کیوں نہ گزر جائیں، دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذمہ دار افراد کو قانون کے سامنے جوابدہ ہونا ہی ہوگا۔"

تحقیقات کے دوران محفوظ گواہوں کے بیانات، عینی شاہدین کے بیانات، فرانزک اور بیلسٹک تجزیے، طبی شواہد، دستاویزی ریکارڈ، الیکٹرانک شواہد اور وسیع پیمانے پر زمینی تحقیقات کی مدد سے واقعے کی پوری کڑی کو دوبارہ جوڑا گیا۔ ایجنسی کے مطابق تحقیقات میں یہ بھی ثابت ہوا کہ سرلا بھٹ کو "مخبر" قرار دینے کا الزام مکمل طور پر بے بنیاد تھا اور دہشت گردوں نے پہلے سے طے شدہ قتل کو اپنے طور پر جائز ٹھہرانے کے لیے یہ جھوٹا بہانہ گھڑا تھا۔

ایس آئی اے کے مطابق، تحقیقات سے حاصل ہونے والے شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ قتل جے کے ایل ایف کی اس منظم دہشت گرد مہم کا حصہ تھا، جس کا مقصد بے گناہ شہریوں، خاص طور پر کشمیری پنڈت برادری میں خوف پھیلانا، انہیں وادیٔ کشمیر چھوڑنے پر مجبور کرنا اور تنظیم کے علیحدگی پسند ایجنڈے کو آگے بڑھانا تھا۔

ایجنسی کی تحقیقات کے مطابق، دہلی کی انتہائی محفوظ تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے محمد یاسین ملک کے علاوہ علیحدگی پسند تنظیم جے کے ایل ایف کے سابق سربراہ عبدالحمید شیخ، غلام محمد پتلو اور محمد یوسف عرف ادریس بھی اس اغوا اور قتل کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں شامل تھے۔ عبدالحمید شیخ اور محمد یوسف عرف ادریس 1990 کی دہائی میں مارے گئے تھے، جبکہ غلام محمد پتلو کا 2018 میں طبعی موت سے انتقال ہو اتھا۔

پانچواں ملزم خورشید احمد چالکو کے بارے میں تفتیشی ادارے کا ماننا ہے کہ وہ پاکستان جا چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کے خلاف بھی چارج شیٹ دائر کی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ یاسین ملک کے خلاف بھی اشتہاری کارروائی شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ یاسین ملک 2019سے جیل میں بند ہے۔

ا
سرینگر میں ایس آئی اے کی ریڈ کا فائل فوٹو (ای ٹی وی بھارت)

کیا ہے اصل معاملہ
سرلا بھٹ کو 18 اپریل 1990 کو جے کے ایل ایف سے وابستہ ملی ٹنٹوں نے سرینگر کے صورہ علاقے میں واقع شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (SKIMS) کے ہاسٹل سے اغوا کیا تھا۔ اگلے روز ان کی گولیوں سے چھلنی لاش اسپتال سے چند کلومیٹر دور ملی تھی۔ لاش کے ساتھ ایک پرچی بھی ملی تھی، جس میں اسے "مخبر" (سیکورٹی ایجنسیز کی خبری) قرار دیا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد نگین پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس وقت ملزمان کا سراغ نہیں مل سکا۔ بعد میں 2023 میں پولیس نے کیس دوبارہ کھولا اور دہشت گردانہ سازش کی حقیقت سامنے لانے کے لیے اسے ایس آئی اے کے سپرد کر دیا۔

سال 2025 میں ایس آئی اے نے یاسین ملک کے سرینگر کے مائسومہ میں واقع گھر سمیت آٹھ مقامات پر چھاپے مارے تھے، جہاں سے تفتیش کے لیے اہم شواہد حاصل کیے گئے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران تفتیشی ٹیم نے جائے واردات کی دوبارہ جانچ کی، متعلقہ افراد تک پہنچ کر ان کے بیانات ریکارڈ کیے اور کیس کے مختلف پہلوؤں کو ازسرنو جوڑا۔

یاد رہے کہ یاسین ملک کو دہلی کی ایک عدالت نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے ایک مقدمے میں مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی، اور وہ اس وقت تہاڑ جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں اور این آئی اے نے یاسین ملک کی عمر قید کی سزا کو پھانسی میں بدلنے کا مطالبہ کیا ہے جس پر کورٹ میں سنوائی ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

  1. یاسین ملک سزائے موت کیس، کورٹ نے دیا NIA کو جواب دائر کرنے کا آخری موقع
  2. 1989 روبیہ سعید اغوا کیس: سی بی آئی کو ملی بڑی کامیابی، 'مفرور' شفاعت احمد شانگلو کو گرفتار کر لیا
Last Updated : June 29, 2026 at 7:16 PM IST