ETV Bharat / jammu-and-kashmir
یقین دہانی کے باوجود پنجاب میں 'غنڈہ ٹیکس' بدستور جاری: کشمیر مٹن ڈیلرز کا الزام
مٹن ڈیلرزایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پنجاب حکام کی یقین دہانی کے باوجود شنبھو چیک پوسٹ پر مویشی بردار ٹرکوں سے 'ٹیکس' وصولا گیا۔

Published : July 6, 2026 at 3:00 PM IST
سرینگر: پنجاب حکومت کی جانب سے بھیڑ بکریوں سے لدی گاڑیوں سے غیر قانونی طور روپے وصولے جانے کو روکنے کی یقین دہانی کے صرف 24 گھنٹے بعد ہی کشمیر کے گوشت فروشوں نے الزام عائد کیا ہے کہ "وادی آنے والے مویشیوں سے بھرے ٹرکوں سے ایک بار پھر 'غیر قانونی ٹرانزٹ ٹیکس' وصول کیا جا رہا ہے۔"
کشمیر مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری، معراج الدین گنائی، نے کہا کہ پنجاب کے سینئر حکام کی یقین دہانی کے باوجود کشمیر آنے والے مویشی بردار ٹرکوں کو اب بھی راستے میں روکا جا رہا ہے اور ڈرائیوروں کو مبینہ طور پر غیر مجاز رقم ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
گنائی نے سرینگر میں پنجاب سے واپسی کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: "جمعہ کو ہم نے پنجاب کے کئی سینئر حکام سے ملاقات کی اور انہیں اس مسئلے سے آگاہ کیا۔ پٹھان کوٹ کے ایس ایس پی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مادھوپور چیک پوسٹ ختم کرا دی، لیکن پٹیالہ کے شنبھو چیک پوسٹ پر غیر قانونی طور رقم وصولی جاری رہی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ ہفتہ کی رات شنبھو چیک پوسٹ پر 15 ٹرکوں کو روکا گیا، جہاں مبینہ طور پر ٹھیکیداروں نے ہر ٹرک سے 15 ہزار روپے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا: "ٹھیکیداروں، پولیس اور بعض حکام کے درمیان اب بھی گٹھ جوڑ قائم ہے۔ حکومت کی یقین دہانی کے باوجود غیر قانونی وصولی بند نہیں ہوئی۔"
دو ہفتے قبل کشمیر کے گوشت فروشوں نے مبینہ غیر قانونی وصولی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے راجستھان اور دیگر ریاستوں سے مویشیوں کی ترسیل روک دی تھی۔ ان کا الزام تھا کہ پنجاب شاہراہ پر مادھوپور اور شنبھو چیک پوسٹوں پر کام کرنے والے ٹھیکہ دار ہر مویشی بردار ٹرک سے 20 ہزار سے 25 ہزار روپے وصول کر رہے ہیں۔ ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ اس طرح ہر سال تقریباً 18 کروڑ روپے کی غیر قانونی وصولی کی جاتی ہے۔
اس احتجاج کے بعد جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کو خط لکھ کر مداخلت کرنے اور غیر مجاز ٹھیکیدار گروپوں کی جانب سے وصول کیے جانے والے مبینہ غیر قانونی ٹیکس کو روکنے کی اپیل کی تھی۔
پنجاب کیٹل فیئرز (ریگولیشن) ایکٹ 1967 کے تحت پنجاب حکومت نوٹیفائیڈ مویشی میلوں میں نیلامی کے ذریعے فروخت ہونے والے مویشیوں پر 4 فیصد ٹیکس عائد کرتی ہے، جس کی وصولی ٹھیکیدار کرتے ہیں۔ تاہم کشمیر کے گوشت فروشوں کا الزام ہے کہ یہی ٹھیکیدار پنجاب سے گزرنے والے مویشیوں پر بھی غیر قانونی طور پر 4 فیصد وصول کر رہے ہیں، حالانکہ کسی قانون میں ایسے ٹرانزٹ ٹیکس کی اجازت نہیں ہے۔ تاجروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مویشیوں کی نقل و حمل پر جی ایس ٹی بھی لاگو نہیں ہوتا۔
گنائی نے کہا کہ کشمیری تاجر راجستھان، ہریانہ، دہلی اور دیگر ریاستوں سے مویشی امپورٹ کرتے ہیں، لیکن یہ مبینہ "غنڈہ ٹیکس" صرف پنجاب میں ہی وصول کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے مٹن ڈیلروں کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:

