زیلنسکی نے پوتن کی رہائش گاہ پر حملے کے الزامات کو من گھڑت قرار دیا
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے دعویٰ کیا کہ یوکرین نے ماسکو میں صدر پوتن کی رہائش گاہ پر ڈرون حملہ کیا۔

Published : December 30, 2025 at 11:03 AM IST
کیف: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیر کے روز کہا کہ یوکرین کا روسی صدر ولادیمیر پوتن کی رہائش گاہ پر مبینہ حملہ ایک "من گھڑت کہانی" ہے اور یوکرین سفارت کاری کو نقصان پہنچانے کے لیے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔
زیلنسکی کا یہ ردعمل روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے دعوے کے بعد آیا ہے کہ پیر کی رات نوگوروڈ کے علاقے میں پوتن کی رہائش گاہ پر مبینہ حملوں کے بعد ماسکو کی مذاکراتی پوزیشن بدل جائے گی۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں زیلنسکی نے کہا کہ "روس پھر سے وہی کر رہا ہے۔ وہ صدر ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ ہماری مشترکہ سفارتی کوششوں کی تمام کامیابیوں کو نقصان پہنچانے کے لیے خطرناک بیانات کا استعمال کر رہا ہے۔
''ہم امن کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔ 'رہائشی عمارت' پر حملے کی یہ کہانی مکمل طور پر من گھڑت ہے۔ اس کا مقصد یوکرین کے خلاف مزید حملوں کا جواز پیش کرنا ہے، جس میں کیف کے خلاف بھی شامل ہے، نیز روس کی طرف سے جنگ کے خاتمے کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے انکار کرنا ہے۔ یہ ایک عام روسی جھوٹ ہے۔ مزید یہ کہ روس اس سے قبل بھی یوکرین کو نشانہ بنا چکا ہے، جس میں کابینہ کی عمارت بھی شامل ہے۔''
زیلنسکی نے مزید کہا کہ یہ دعویٰ امن کے حصول کے لیے ان کی کوششوں کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ یوکرین ایسے اقدامات نہیں کرتا جس سے سفارت کاری کو نقصان پہنچے۔ اس کے برعکس روس ہمیشہ ایسا کرتا ہے۔ یہ ہمارے درمیان بہت سے اختلافات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یہ ضروری ہے کہ دنیا مزید خاموش نہ رہے۔ ہم روس کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ دیرپا امن کے حصول کے لیے ہماری کوششوں کو کمزور کرے۔"
یورو نیوز کے ذرائع نے لاوروف کے حوالے سے کہا کہ "اس طرح کی لاپرواہی کا جواب دیا جائے گا۔" روس نے یوکرین پر الزام لگایا کہ اس نے صدر پوتن کی سرکاری رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کے لیے 91 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون لانچ کیے۔
لاوروف نے واضح نہیں کیا کہ آیا پوتن مبینہ حملے کے وقت رہائش گاہ پر موجود تھے یا نہیں۔ زیلنسکی نے اسے "روسی فیڈریشن کا ایک اور جھوٹ" قرار دیا۔ یورو نیوز کے مطابق زیلنسکی نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ کل ہماری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوئی تھی۔
یہ واضح ہے کہ روسیوں کے لیے، اگر ہمارے اور امریکہ کے بیچ کوئی سکینڈل نہیں ہے، اور ہم آگے بڑھ رہے ہیں، تو ان کے لیے یہ ایک ناکامی ہے۔" پولیٹیکو کے مطابق، یہ الزامات اس وقت سامنے آئے جب زیلنسکی نے کہا کہ موجودہ امن معاہدے میں امریکہ کی جانب سے 15 سال کی سکیورٹی ضمانت شامل ہے۔ یوکرین اسے 50 سال تک بڑھانے پر زور دے رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
روس یوکرین امن مذاکرات: زیلنسکی کے ساتھ کھڑے ٹرمپ نے کہا۔۔ "روس، یوکرین کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہے"
یوکرین روس کے بیچ امن معاہدے کے امکان میں اضافہ، کیف معاہدے کی 'بنیادی شرائط' سے متفق

