ٹرمپ نے تیل اور گیس کے عالمی ایگزیکٹوز سے کہا، 'آپ سیدھے ہم سے ڈیل کر رہے ہیں، وینزویلا سے نہیں'
وینزویلا میں انجام دیے گئے آپریشن کے بارے میں نائب صدر وینس نے کہا کہ یہ ہمارے ملک کو مزید امیر اور طاقتور بنائے گا۔

Published : January 10, 2026 at 10:09 AM IST
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں تیل اور گیس کے بڑی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی اور انہیں وینزویلا میں سرمایہ کاری کے بدلے سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے وینزویلا کی تیل صنعت کو امریکی ٹیلنٹ سے بنایا اور اب امریکہ ان اثاثوں کے بارے میں "سب کچھ" کرے گا جو "چرا" لیے گئے تھے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ دنیا کے تقریباً دو درجن ممتاز اور قابل احترام تیل اور گیس ایگزیکٹوز کا وائٹ ہاؤس میں خیرمقدم کرتے ہوئے بہت خوش ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ مادورو کی رخصتی دونوں ممالک کے لیے ایک روشن مستقبل کو ممکن بنائے گی اور اس سے مغربی نصف کرہ کی دو بڑی توانائی کی طاقتوں کی معیشتیں مزید مربوط ہوں گی۔
انڈسٹری لیڈرز کو وینزویلا میں تحفظ کی یقین دہانی کراتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "آپ ہم سے براہ راست معاملہ کر رہے ہیں، وینزویلا سے نہیں۔ آپ کو مکمل تحفظ حاصل ہوگا۔" یہ بالکل مختلف وینزویلا ہے۔" ٹرمپ نے مزید کہا کہ "دہائیوں پہلے امریکہ نے وینزویلا کی تیل کی صنعت کو اپنی مہارت، ٹیکنالوجی، علم اور ڈالر سے بنایا تھا۔ لیکن وہ اثاثے ہم سے چرا لیے گئے اور ہمارے پاس ایک صدر تھے جنہوں نے اس بارے میں کچھ نہیں کیا۔ اب ہم اس کے بارے میں ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "ہماری بڑی تیل کمپنیاں ضروری صلاحیت اور انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کے لیے کم از کم 100 بلین ڈالر رقم خرچ کر رہی ہیں، یہ سرکار کے پیسے نہیں ہیں۔" جب ٹرمپ نے تیل اور گیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کی تو ان کے ساتھ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور ان کی انتظامیہ کے کئی سینئر ارکان بھی موجود تھے۔
وینزویلا میں انجام دیے آپریشن کے بارے میں نائب صدر وینس نے کہا کہ یہ "ہمارے ملک کو مزید امیر بنائے گا، یہ ہمارے ملک کو مزید طاقتور بنائے گا، یہ ہمارے ملک کو مزید محفوظ بنائے گا، اور اس سے امریکہ میں منشیات کی وجہ سے ہونے والی اموات میں مزید کمی آئے گی۔ یہ ایک حیرت انگیز بات ہے۔"
میڈیا کو جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا جانے والی کمپنیوں کو حفاظتی ضمانتیں ملیں گی۔ ڈیلسی روڈریگوز کے عبوری صدر بننے کے بعد وینزویلا کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ "ابھی وہ ہمارے اتحادی لگ رہے ہیں، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ جاری رہے گا۔ ہم وہاں روس اور چین کو نہیں چاہتے۔"
یہ ملاقات وینزویلا کے خام تیل کے وسیع ذخائر سے فائدہ اٹھانے اور اس کے توانائی کے شعبے کو بہتر بنانے کی امریکی حکمت عملی کے درمیان ہوئی ہے۔ واضح رہے گذشتہ سنیچر کو امریکہ نے جنوبی امریکی ملک ونیزویلا پر "بڑے پیمانے پر حملہ" کرتے ہوئے اس کے رہنما نکولس مدورو اور ان کی اہلیہ، سیلیا فلورس کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
مادورو اور فلورس کو انٹیلی جنس ایجنسیوں اور امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائی میں ملک سے باہر لے جایا گیا۔ ان پر نیویارک کے جنوبی ضلع میں قانونی چارہ جوئی شروع کرتے ہوئے مبینہ طور پر "منشیات کی اسمگلنگ اور منشیات کی دہشت گردی کی سازشوں" کا الزام عائد کیا گیا ہے اور فی الحال انہیں مقدمے کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں:
وینزویلا پر امریکی حملے اور مادورو کی 'گرفتاری' پر شدید رد عمل، کملا ہیرس اور ممدانی ٹرمپ پر برس پڑے
روس کی امریکہ سے مادورو کو رہا کرنے کی اپیل، بات چیت سے مسئلہ حل کرنے کی تاکید

