ETV Bharat / international

وہاں بہت زور سے ماریں گے جہاں سب سے زیادہ درد ہوگا، ٹرمپ کی ایران کو وارننگ

ایران میں جاری مظاہروں کے حوالے سے ٹرمپ نے تہران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (File Image : ANI)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : January 10, 2026 at 9:35 AM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

واشنگٹن ڈی سی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا کہ وہ ایران کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ملک میں مظاہرین محفوظ رہیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مظاہرین کو مارا گیا تو امریکہ مداخلت کرے گا اور اس ملک پر ایسی جگہ حملہ کرے گا جہاں اسے سب سے زیادہ درد ہوگا۔ ٹرمپ نے یہ باتیں وائٹ ہاؤس میں تیل اور گیس کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کے دوران میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہیں۔

ایران کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ "ایران بڑی مصیبت میں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ لوگ کچھ شہروں پر قبضہ کر رہے ہیں، جس کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ ہم حالات کو بہت قریب سے مانیٹر کر رہے ہیں۔ میں نے بہت مضبوطی سے یہ بیان دیا ہے کہ اگر وہ ماضی کی طرح لوگوں کو مارنا شروع کر دیتے ہیں تو ہم دخل دیں گے۔"

ہم انہیں وہیں ماریں گے جہاں انہیں سب سے زیادہ درد ہوگا، اور اس کا مطلب زمین پر فوج بھیجنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ انہیں وہیں مارنا جہاں انہیں سب سے زیادہ تکلیف ہو، اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔' امریکی صدر نے مزید کہا کہ 'لیکن ایران میں کچھ ناقابل یقین ہو رہا ہے۔ یہ دیکھنا ایک حیرت انگیز چیز ہے۔ انہوں نے بہت برا کام کیا ہے، انہوں نے اپنے لوگوں کے ساتھ بہت برا برتاؤ کیا ہے، اور اب وہ اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ تو، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ ہم اسے بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔'

مظاہرین کے بارے میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'میں صرف امید کرتا ہوں کہ ایران میں مظاہرین محفوظ رہیں گے کیونکہ یہ اس وقت بہت خطرناک جگہ ہے، اور میں ایک بار پھر ایرانی لیڈروں سے کہتا ہوں، گولی چلانا شروع نہ کریں کیونکہ ہم بھی گولی چلانا شروع کر دیں گے۔' انسٹی ٹیوٹ فار اسٹڈی آف وار، ایک پالیسی ریسرچ آرگنائزیشن کے مطابق، سات جنوری سے ایران میں احتجاجی مظاہروں کی شدت اور دائرے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب یہ تہران اور شمال مغربی ایران جیسے بڑے شہروں میں پھیل چکے ہیں۔

تھنک ٹینک نے مزید کہا کہ حکومت نے اپنا کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے، جس میں کم از کم ایک صوبے میں مظاہروں کو دبانے کے لیے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کو بھی استعمال کیا ہے۔ اس سے قبل 9 جنوری کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے الزام لگایا کہ ایران میں ہو رہے بڑے پیمانے پر مظاہروں کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ عوامی خطاب میں خامنہ ای نے کہا کہ مظاہرین امریکی صدر کو خوش کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

"کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کا کام صرف تباہی پھیلانا ہے۔ کل رات تہران اور دیگر جگہوں پر کچھ شرپسند آئے اور اپنے ہی ملک کی ایک عمارت کو توڑ دیا۔ مثال کے طور پر مان لیں کہ انہوں نے امریکی صدر کو خوش کرنے کے لیے ایک خاص عمارت یا دیوار کو توڑ دیا۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق خامنہ ای نے کہا کہ 'کیوں کہ انہوں نے کچھ بکواس باتیں کہی تھیں کہ 'اگر ایران کی حکومت یہ یا وہ کرتی ہے تو میں آپ کے ساتھ آؤں گا۔ میں تمہارا ساتھ دوں گا۔' ان فسادیوں اور ملک کو نقصان پہنچانے والوں کی امیدیں ان (ٹرمپ) سے وابستہ ہیں۔ اگر وہ کچھ کر سکتے ہیں تو پہلے اپنے ملک کو سنبھالیں! اپنے ہی ملک کے اندر مختلف واقعات رونما ہو رہے ہیں۔'

آیت اللہ نے امریکی صدر ٹرمپ پر ڈکٹیٹر جیسا برتاؤ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آمروں کو ان کے تکبر کی انتہا پر ہی ہٹا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارا ملک غیر ملکیوں کے لیے کرائے کے سپاہی بننے کو برداشت نہیں کرتا، چاہے آپ کوئی بھی ہوں، ایک بار جب آپ کسی غیر ملکی کے لیے کرائے کے سپاہی بن جاتے ہیں، ایک بار جب آپ کسی غیر ملکی کے لیے کام کرتے ہیں، تو ملک آپ کو مسترد کر دیتا ہے۔

جہاں تک اس شخص (ٹرمپ) کا تعلق ہے جو وہاں تکبر اور غرور کے ساتھ بیٹھ کر پوری دنیا کو فیصلے سنا رہا ہے، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا کے آمروں اور استکباری طاقتوں جیسے فرعون، نمرود، رضا خان، محمد رضا اور ان کے افراد کو بالکل اسی وقت ہٹا دیا گیا جب وہ اپنے تکبر کی انتہا کو پہنچ گئے۔ یہ بھی ہٹا دیا جائے گا۔"

مزید پڑھیں:

مظاہرین ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے 'اپنی ہی سڑکوں کو تباہ کر رہے ہیں، ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای

ایران میں مہنگائی کے خلاف پر تشدد احتجاج، اب تک 45 مظاہرین ہلاک، ٹیلی فون، انٹرنیٹ منقطع