امریکی فوج سنیچر تک ایران پر حملے کیلئے تیار، حتمی فیصلہ باقی، وائٹ ہاؤس نے کہا، ڈیل تہران کیلئے 'دانشمندانہ' قدم ہوگا
مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی فوج اس ہفتے کے آخر تک ایران پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہو جائے گی۔

By AFP
Published : February 19, 2026 at 10:07 AM IST
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک بار پھر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا اشارہ دینے کے بعد وائٹ ہاؤس نے بدھ کے روز خبردار کیا کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا تہران کے لیے 'دانشمندانہ' قدم ہوگا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ "ایران کا صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ کرنا بہت دانشمندانہ فیصلہ ہوگا۔"
امریکہ کی ایران پر حملوں کی تیاری
بدھ کے روز ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں اشارہ دیا کہ امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے، جس کے لیے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی تشکیل اور تیاری جاری ہے۔
اسی کے ساتھ انہوں نے برطانیہ کو بحر ہند میں واقع جزائر چاگوس پر خودمختاری ترک کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کسی معاہدے پر راضی نہ ہوا تو جزیرے کے ڈیاگو گارسیا ایئربیس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
دریں اثنا سی این این اور سی بی ایس نے بدھ کو اطلاع دی کہ امریکی فوج اس ہفتے کے آخر میں ایران کے خلاف حملے کے لیے تیار ہو جائے گی، حالانکہ ٹرمپ نے مبینہ طور پر تاحال حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
حملے کے وقت اور خطرات و نتائج پر غور و خوض جاری
امریکہ میں سی بی ایس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ ابھی تک مُمکنہ کارروائی کے حتمی وقت کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور یہ سنیچر کے دن سے آگے بھی جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ایران پر حملے سے متعلق مسلسل مشاورت جاری ہے، جہاں اس اقدام سے منسلک خطرات، ممکنہ ردعمل اور حملے کے سیاسی و عسکری نتائج پر غور کیا جا رہا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ ٹرمپ کو فوجی حملوں سے متعلق منصوبوں کے بارے میں بریف کیا گیا ہے۔ یہ سھی منصوبے زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ جن میں ایران میں تختہ پلٹ سمیت سیاسی اور عسکری رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد کو مارنے کی تجویز بھی شامل ہے۔" امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اخبار کو اس بات کی جانکاری دی۔
مذاکرات کا مسودہ تیار: عباس عراقچی
دونوں فریق نے حال ہی میں عمان کی ثالثی میں بالواسطہ مذاکرات کا دوبارہ آغاز کیا۔ تہران کے اعلیٰ سفارت کار عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات کے لیے فریم ورک تیار کر لیا ہے۔ انہوں نے یہ جانکاری بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سربراہ رافیل گروسی سے بات چیت کے دوران دی۔
اس سے قبل ایران اور امریکہ کے درمیان جنیوا میں منگل کو عمان کی ثالثی میں مذاکرات کا دوسرا دور ہوا۔ ان مذاکرات کے بعد عراقچی نے دعویٰ کیا کہ تہران نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے "رہنما اصولوں" پر اتفاق کیا ہے، تاہم امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران نے ابھی تک واشنگٹن کی تمام سرخ لکیروں کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
جنگ نہیں چاہتے: ایرانی صدر پیزشکیان
بدھ کے روز بات کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے اصرار کیا کہ "ہم جنگ نہیں چاہتے" تاہم تہران امریکہ کے تمام مطالبات کو تسلیم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ "جس دن سے میں نے عہدہ سنبھالا، میں سمجھتا آیا ہوں کہ جنگ کو ایک طرف رکھ دینا چاہیے۔ لیکن اگر وہ ہم پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کریں گے، ہمیں ذلیل کریں گے اور کسی بھی قیمت پر ہم سے سر جھکانے کا مطالبہ کریں گے، تو کیا ہم اسے مان لیں گے؟"
واضح رہے کہ تہران نے آئی اے ای اے (IAEA) کے ساتھ کچھ تعاون معطل کر دیا ہے اور واچ ڈاگ کے معائنہ کاروں کو اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے بمباری کی گئی جگہوں تک رسائی سے روک دیا ہے۔ دریں اثنا، امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے خبردار کیا کہ واشنگٹن تہران کو "کسی نہ کسی طریقے سے" جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکے گا۔
رائٹ نے پیرس میں انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے اجلاس کے موقعے پر صحافیوں کو بتایا کہ "وہ اس بارے میں بالکل واضح ہیں کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے ساتھ کیا کریں گے۔ یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔"
(ایجنسی رپورٹ کچھ ترمیم کے ساتھ)
مزید پڑھیں:
ایرانی وزیر خارجہ کا امریکہ کے ساتھ رہنما اصولوں پر مفاہمت کا دعویٰ، نائب امریکی صدر غیر مطمئن
اسرائیلی وزیر اعظم کی امریکی صدر سے ملاقات، ٹرمپ نے کہا، ایران سے مذاکرات جاری رہنا چاہیے
ایران کی طاقت، پاورفل ممالک سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں مضمر: وزیر خارجہ عراقچی
ٹرمپ اور جن پنگ کا ایران پر تبادلہ خیال، امریکہ کا چین اور دیگر پر تہران سے علیحدگی کا دباؤ

