ETV Bharat / international

ٹرمپ کا قطر میں ایران امریکہ اجلاس کا اعلان، تہران کا انکار، کہا کسی بھی سطح پر کوئی ملاقات طے نہیں

امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے روک دیے ہیں تاہم مذاکرات کے اگلے دور پر دونوں فریق کے بیچ اختلاف برقرار ہیں۔

People cross a street past a billboard depicting Iran's slain supreme leader Ali Khamenei kissing the slain Islamic revolutionary guards commander Qasem Soleimani near the shrine of Imam Hussein Iraq's holy city of Karbala, displayed on the facade of a building in Tehran on June 29, 2026.
انتیس جون 2026 کو تہران میں ایک عمارت کے سامنے لگے ایک بل بورڈ کے پاس سے گزرتے ہوئے لوگ (AFP)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : June 30, 2026 at 7:55 AM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

دبئی: (متحدہ عرب امارات) امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ منگل کے روز دوحہ اجلاس میں شرکت کے لیے کشنر اور وٹکوف کی قیادت میں اپنا وفد روانہ کرے گا، حالانکہ تہران نے اصرار کیا کہ اس نے رواں کے آخر میں خلیج فارس میں حملوں کے بعد "کسی بھی سطح پر" امریکہ کے ساتھ ملاقات پر اتفاق نہیں کیا ہے۔

جب کہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکی ہم منصبوں سے ملاقات کی درخواست کی ہے اور وہ منگل کو دوحہ، قطر میں ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وہیں ایران کے سینئر مذاکرات کاروں میں سے ایک نے اس بات کی تردید کی کہ بات چیت طے شدہ ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ تہران اپنا وفد قطر بھیج رہا ہے، جو مذاکرات میں ایک اہم ثالث ہے، تاکہ امریکہ کو شامل کیے بغیر عبوری معاہدے کی شرائط پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

آبنائے ہرمز میں حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔ چار دنوں تک ایک دوسرے پر حملوں کے بعد دونوں فریق پیر کو اپنے حملوں کو روکتے نظر آئے۔

امریکہ اور ایران نے اس ماہ کے شروع میں ایک عبوری معاہدے پر اتفاق کیا جس میں تہران سے کہا گیا کہ وہ افزودہ یورینیم کے اپنے ذخیرے کو کم کرے۔ اسی کے ساتھ اس معاہدے میں امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کو بھی معاف کرنے اور آبنائے ہرمز سے بلا روک ٹوک آمد و رفت کے مطالبات شامل ہیں۔ اس پر عمل درآمد کے ساتھ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دن کا وقت گیا گیا ہے۔

ایران امریکہ مذاکرات کے اگلے دور پر ابہام

ٹرمپ کی جانب سے پیر کی صبح سوشل میڈیا پر یہ کہنے کے بعد کہ امریکہ اور ایران نے ملاقات کا منصوبہ بنایا ہے، وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے فاکس نیوز کے "فاکس اینڈ فرینڈز" کو بتایا کہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر قطر کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔

وہیں پاکستان نے بھی جو ایک اہم ثالث ہے، نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات منگل کو دوبارہ شروع ہوں گے۔

لیکن ایران کے ایک سینئر مذاکرات کار کاظم غریب آبادی نے ایران کے سرکاری میڈیا پر شائع ہونے والے تبصروں میں کہا کہ کسی بھی بات چیت کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ جب کہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغی نے کہا کہ ان کا وفد رواں ہفتے قطر کا سفر کر رہا ہے تاکہ منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی اور معاہدے سے متعلق دیگر امور پر بات چیت کی جا سکے۔

بغائی نے کہا کہ "امریکی فریق کے ساتھ آنے والے دنوں میں کسی بھی سطح پر مذاکرات کے لیے کوئی طے شدہ ملاقاتیں نہیں ہیں۔" تاہم، انہوں نے امکانات کھلے رکھنے اور دونوں فریقوں کے بیچ پیغامات پہنچانے کے لیے قطری ثالث سے رجوع کرنے کا راستہ کھلا رکھا۔

مزید پڑھیں:

امریکہ اور ایران حملے روکنے پر متفق، دوحہ میں ہوگا اجلاس: رپورٹ

جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کا لبنان پر حملہ، سرنگ تباہ کرنے کا دعویٰ، حزب اللہ نے کہا، دفاع کا حق حاصل

امریکی فوج کا ایران میں 10 اہداف پر حملوں کا دعویٰ، تہران نے بحرین اور کویت کو بنایا نشانہ