ETV Bharat / international

ایران میں مہنگائی کے خلاف پر تشدد احتجاج، اب تک 45 مظاہرین ہلاک، ٹیلی فون، انٹرنیٹ منقطع

ایران میں حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ ایران کی کرنسی کی مسلسل گراوٹ نے عوام میں بڑے پیمانے پر ناراضگی کو جنم دیا ہے۔

ایران میں مہنگائی کے خلاف پر تشدد احتجاج، اب تک 45 مظاہرین ہلاک، ٹیلی فون، انٹرنیٹ منقطع
ایران میں مہنگائی کے خلاف پر تشدد احتجاج، اب تک 45 مظاہرین ہلاک، ٹیلی فون، انٹرنیٹ منقطع (AP)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : January 9, 2026 at 8:38 AM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

تہران: ایران میں تقریباً دو ہفتوں سے جاری مظاہروں نے شدت اختیار کر لی ہے اور احتجاج پرتشدد ہوگئے ہیں۔ تازہ ترین رپورٹس ایران کے کئی شہروں میں پرتشدد جھڑپوں کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ مظاہرین ملک کے سپریم لیڈر خامنہ ای کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دی ہے۔ ایرانی انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ دسمبر کے آخر میں شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد سے کم از کم 45 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی نے کہا کہ اب تک 2,270 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

ایرانی کرنسی مسلسل گر رہی ہے اور مہنگائی آسمان چھو رہی ہے۔ جمعرات کی رات دیر گئے، مظاہروں میں اس وقت اضافہ ہوا جب جلاوطن ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی نے لوگوں سے اسلامی جمہوریہ کے خلاف سخت مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ اس اپیل کے بعد لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور ریلیاں نکالیں۔ دریں اثناء حکومت نے بگڑتی ہوئی صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کو صورتحال پر قابو پانے کا حکم دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایرانی سکیورٹی فورسز پر مظاہرین پر فائرنگ کا الزام عائد کیا ہے۔ جمعرات کو مہلوکین کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ یہ کریک ڈاؤن ایک ایسی تحریک کے خلاف کیا گیا جو بڑھتی ہوئی مہنگائی پر غصے سے شروع ہوئی تھی اور اب پورے اسلامی جمہوریہ میں پھیل چکی ہے۔

موجودہ معلومات کے مطابق ایران بھر کے تقریباً 50 شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہو رہے ہیں۔ حکومت نے فوری طور پر انٹرنیٹ اور ٹیلی فون لائنیں منقطع کر دی ہیں، جس سے عوامی غصے میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ جہاں حکومت کے خلاف نعرے لگائے جا رہے ہیں وہیں رضا پہلوی کی حمایت میں بھی نعرے لگائے جا رہے ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہر اس شخص کے ساتھ کھڑے ہیں جو پرامن مظاہروں میں حصہ لیتے ہیں۔

ایران بھر کے شہروں اور دیہی قصبوں میں شروع ہونے والے مظاہرے جمعرات کو بھی جاری رہے۔ مظاہرین کی حمایت میں بازار بند رہے۔

مظاہروں کے بڑھنے سے ایران کی سویلین حکومت اور اس کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ ایک انٹرنیٹ فرم کلاؤڈ فلیر ، اور ایڈوکیسی گروپ نیٹ بلاکس نے انٹرنیٹ بند ہونے کی اطلاع دی ہے۔، دونوں فرموں نے اسے ایرانی حکومت کی مداخلت سے منسوب کیا ہے۔

دریں اثنا، ابھی تک احتجاج بڑے پیمانے پر قیادت کے بغیر رہے ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ پہلوی کی کال آگے بڑھنے والے مظاہروں پر کیا اثر ڈالے گی۔

پہلوی نے رات 8 بجے مظاہروں کی کال دی تھی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اس کال کے بعد تہران بھر کے محلے نعروں سے گونج اٹھے۔ نعروں میں "آمر مردہ باد" شامل تھے۔

پہلوی نے کہا کہ، "ایرانیوں نے آج رات اپنی آزادی کا مطالبہ کیا۔ جواب میں، ایران کی حکومت نے مواصلات کی تمام لائنیں کاٹ دی ہیں۔" "اس نے انٹرنیٹ بند کر دیا ہے۔ اس نے لینڈ لائنز کو کاٹ دیا ہے۔ یہ سیٹلائٹ سگنلز کو جام کرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔"

ایران کو حالیہ برسوں میں ملک گیر احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 12 روزہ جنگ کے بعد ایران پر پابندیاں سخت ہوئیں جس کے نتیجے میں اس کی ریال کرنسی دسمبر میں گر کر 1.4 ملین سے ایک ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس کے فوراً بعد مظاہرے شروع ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں: