امریکہ کا 66 بین الاقوامی تنظیموں سے نکلنے کا اعلان، واشنگٹن عالمی تعاون سے مزید پیچھے ہٹ گیا
ٹرمپ نے بدھ کو ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس میں 66 تنظیموں، ایجنسیوں اور کمیشنوں کے لیے امریکی حمایت معطل کر دی گئی۔

Published : January 8, 2026 at 9:12 AM IST
واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے اقوام متحدہ کی پاپولیشن ایجنسی اور موسمیاتی ادارے سمیت درجنوں بین الاقوامی تنظیموں سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس میں 66 تنظیموں، ایجنسیوں اور کمیشنوں کے لیے امریکی حمایت معطل کر دی گئی۔ وائٹ ہاؤس کی ایک ریلیز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے یہ فیصلہ اقوام متحدہ سے وابستہ اداروں سمیت متعدد بین الاقوامی تنظیموں میں امریکہ کی شمولیت اور ان کی فنڈنگ کا جائزہ لینے کے بعد لیا۔
ان میں اقوام متحدہ کی وہ ایجنسیاں، کمیشن اور مشاورتی پینل شامل ہیں جو آب و ہوا، مزدوری، ہجرت اور دیگر مسائل پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے علاوہ دیگر تنظیموں میں پارٹنرشپ فار اٹلانٹک کوآپریشن، انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ الیکٹورل اسسٹنس، اور گلوبل کاؤنٹر ٹیررازم فورم شامل ہیں جن سے امریکہ نے نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ "ٹرمپ انتظامیہ نے ان اداروں کو اپنے دائرہ کار میں بے کار، بدانتظامی، غیر ضروری، فضول، ناقص طور پر چلانے والے لوگوں کے مفادات کے زیر اثر پایا ہے جو ہمارے اپنے ایجنڈوں کے خلاف اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں، یا ہماری قوم کی خودمختاری، آزادی اور عمومی خوشحالی کے لیے خطرہ ہیں۔"
عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقوام کے درمیان تعاون کو فروغ دینے والی تنظیموں سے دستبرداری کا ٹرمپ کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ان کی انتظامیہ نے حالیہ دنوں دیگر ملکوں کے خلاف فوجی مہم شروع کی ہیں یا دھمکیاں جاری کی ہیں جنہوں نے اتحادیوں اور مخالفین کو یکساں طور پر جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، خاص طور پر وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو 'اغوا' کیا جانا اور گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی دھمکی شامل ہے۔
پہلے بھی کئی ایجنسیوں سے نکل چکا امریکہ
انتظامیہ نے اس سے قبل عالمی ادارہ صحت، فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی انروا (UNRWA)، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور اقوام متحدہ کی ثقافتی ایجنسی یونیسکو جیسی ایجنسیوں کی حمایت معطل کر دی تھی۔ اس نے عالمی ادارے کی کئی تنظیموں کو واجبات کی ادائیگی سے انکار کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ یہ فیصلے اس پیمانے پر پر کر رہی ہے کہ کون سے آپریشنز اور ایجنسیاں ٹرمپ کے ایجنڈے سے ہم آہنگ ہیں اور کون کون سی تنظیمیں امریکی مفادات کو پورا نہیں کرتی ہیں۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ میں اقوام متحدہ کے امور کے سربراہ ڈینیل فورٹی نے کہا، "میرے خیال میں جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ کثیرالجہتی کے لیے امریکی نقطہ نظر کی کرسٹلائزیشن ہے۔" "واشنگٹن کی اپنی شرائط پر بین الاقوامی تعاون کا خواہاں ہے اور یہ ان کا یہ بہت واضح وژن ہے۔"
انہوں نے پچھلی انتظامیہ ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے ساتھ کس طرح سلوک کیا، اس سے ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ انہوں نے عالمی ادارے کو مجبور کیا ہے، جو پہلے سے ہی عملے اور پروگرام میں تخفیف کے سلسلے کا جواب دینے کے لیے اندرونی حساب کتاب سے گزر رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی سابق نیشنل کلائمیٹ ایڈوائزر، جینا میکارتھی نے کہا کہ امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جو اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔ "تنگ نظری، شرمناک اور احمقانہ فیصلہ ہے۔"
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے فلسطینی پناہ گزینوں کی مالی امداد روکنے کا اعلان کر دیا
وینزویلا پر امریکی حملے اور مادورو کی 'گرفتاری' پر شدید رد عمل، کملا ہیرس اور ممدانی ٹرمپ پر برس پڑے

